معافی مانگ کرعمران خان باہر آجائیں گے لیکن سیاسی مصالحت اختیار کرنی پڑے گی:سلیم بخاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد)سینئر صحافی سلیم بخاری نے کہا ہے 9 مئی پر معافی مانگ کر بانی پی ٹی آئی عمران خان باہر تو آجائیں گے لیکن پھر بھی ان کو سیاسی مصالحت کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا اور سیاسی قوتوں کے ساتھ بیٹھ کر معاملات کو درست کرنا پڑے گا۔
سلیم بخاری نے کہاکہ فیلڈ مارشل نے امریکہ کے اوپر تلے دو دورے کیے ہیں اور وہاں یہ ہو سکتا ہے کہ کسی نے یہ پوچھا ہو کہ بانی کے متعلق بھی کو ئی نظر کرم کر لیں تو یہ بات ہو گئی ہو کہ وہ اگر اپنے 9مئی کے اقدام پر معافی مانگ لیں تو ان کو معاف کیا جاسکتا ہے،انہوں نے کہا کہ اس طرح بانی باہر تو آجائیں گے لیکن پھر بھی ان کو سیاسی مصالحت کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا اور سیاسی قوتوں کے ساتھ بیٹھ کر معاملات کو درست کرنا پڑے گا۔
دوسری بات یہ کہ آرمی چیف کی طرف سختی کے ساتھ اس بات کی تردید کی گئی کہ انہیں کسی اور عہدے کی خواہش ہے،یہ ڈرامہ خاص پارٹی کی طرف سے سوشل میڈیا پر چلایا گیا۔
سکیورٹی فورسز کی جانب سے بی ایل اے کی سہولت کاری کے الزام میں گرفتار18 گریڈ کے یونیورسٹی پروفیسر اور اس کے اعترافی بیان پر سلیم بخاری نے وزیر اعلیٰ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بہادر وزیر اعلی ہیں اور وہ بڑی بہادری سے دہشتگردوں کے خلاف اپنی سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
انہوں نے پروفیسر کی گرفتاری کو بہت اہم قدم قرارد یا انہوں نے کہا کہ اتنے اہم عہدے پر کام کرنے والے سرکاری ملازم کو جو کہ روزانہ سینکڑوں طلبا ء واسطہ پڑتا ہے وہ کیسے طلباء کو گمراہ کرتا ہوگا،انہوں نے توقع ظاہر کی کہ پروفیسر کے اقبالی بیان کے بعد ایک پوری کی پوری چین پکڑی جائے گی جو کہ پاک سرزمین پر دہشتگردی میں ملوث ہیں۔
سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن نے خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف سنگین چارج شیٹ جاری کردی،مولانا نے الزام لگایا ہے کہ صوبے کے سرکاری فنڈز کا 10 فیصد حصہ غیر ریاستی مسلح گروہوں کو دیا جاتا ہے،اس حوالے انہوں نے کہا کہ مولانا نے بد امنی اور دہشتگردی کے حوالے سے پہلی بار نہیں کہالیکن اس دفعہ تو انہوں نے بلوچستان اور کے پی کاعلاوہ سندھ کو بھی شامل کرلیا ہے کہ وہا ں بھی عام آدمی محفوظ نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ کہ مولانا ہو سکتا ہے کہ وہ درست کہ رہے ہوں کیوں کہ ان کا نیٹ ورک بہت وسیع ہے، ان کے مدرسوں کا جال پورے ملک میں بچھا ہوا ہے،انہوں نے ملین مارچ کرکے بھی ثابت کیا ہے کہ چاہے کے پی ہو یا سندھ ہو ان کی فالونگ بہت سٹرانگ ہے،انہوں نے کہا کہ جو سب سے تشویش ناک بات ہے ،وہ یہ ہے کہ جو منظور شدہ فنڈز ہیں کے پی گورنمنٹ کے وہ بھتے کی نظر ہورہے ہیں۔
سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ صرف جلسے جلوس اور وفاقی دارلحکومت پر چڑھائی کرنے میں مصروف ہیں ان کو اپنے صوبے میں امن امان اور عوامی مسائل کا ادراک ہی نہیں ہے، صوبے میں دہشتگردی اور اس کے سد باب کے لیے کیا اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ان کو خبر ہی نہیں ہے،انہوں نے مزید کہا کہ ناتو وہاں کوئی کام ہو ا ہے نہ ہی کوئی وہاں ذمہ دار ہے کس پر زمہ داری ڈالی جائے تاکہ عوامی مسائل کو کوئی حل نکل سکے۔
15 برس بعد بھی نیا این ایف سی ایوارڈ کیوں جاری نہ ہو سکا؟
این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے سلیم بخاری نے کہاکہ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے لیے ہر 5 سال بعد نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ جاری ہونا لازمی ہےلیکن پچھلے 15 برسوں سے نیا ایوارڈ سامنے نہیں آ سکا،صوبہ سندھ اور خیبرپختونخوا کی حکومتیں اس پر مسلسل احتجاج اور نئے فارمولے کے اجرا کا مطالبہ کر رہی ہیں،اس میں کوئی بہانہ قابل قبو ل نہیں،صوبوں کو ان کے حق سے محروم کرنے کی کوئی دلیل قابل قبول نہیں ۔
معافی مانگنے پر بانی تحریک انصاف کی سیاست کو کیا نقصانات ہوں گے؟
اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خان صاحب کا خیال ہے کہ ان کا امیج بھی خراب نہ ہو اور ان کو جیل سے نکالیں اور جو بھی ان سے ملنے جاتا ہے اس کو برے طریقے سے پیش آتے ہیں کہ میں یہاں جیل میں سڑ رہا ہوں اور اپ سب لوگ باہر عیاشی کر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ خان صاحب آئیں گے تو عدالتی پراسس سے ہی باہر کوئی ایسی سیاسی معافی نہیں جو ان کے سارے مقدمات یکسر ختم کر دے،انہوں نے مزید کہا کہ معافی مانگنا کیوں ضروری ہے وہ اس لیے تاکہ کوئی بھی آئندہ ایسا جرم نہ کرے،وہ اگر معاف نہیں مانگیں گے تو وہ جیل سے باہر نہیں آئیں گے۔
ملک میں سیلاب کی تباہ کاریاں ۔۔ذمہ دار انسانی کوتاہیاں یا قدرت کا قہر؟
حالیہ سیلاب اور اس سے درپیش مسائل پر سلیم بخاری نے کہادو چیزیں ایسی ہیں جن کو کوئی بھی نہیں روک سکتا، ایک خود کش بمبار جو اپنے جان تو دینے نکلا ہی ہے لیکن وہ دوسروں کی جان کا بھی دشمن ہوتا ہےاسی طرح قدرتی آفات ہیں جس کاکوئی توڑ نہیں ہے وہ کہاں اور کس شدت سے آجائے کوئی کچھ نہیں کہ سکتا۔
سلیم بخاری نے پروگرام میں علماء کرام سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ رب سے خصوصی دعا کرائیں تاکہ اللہ تعالیٰ ہمارے گناہ معاف فرمائے اور ہمیں اور ہمارے ملک کو ان آفات سے نجات دلائے۔
یہ بھی پڑھیں : جشن آزادی اور سٹی نیوز نیٹ ورک کی سالگرہ ایک ساتھ