ملازمین کو کم از کم اجرت 40 ہزار کے نفاذ کیلئےسخت اقدامات کا آغاز
Stay tuned with 24 News HD Android App
( کلیم اختر)سرکاری و نجی محکموں کے ملازمین کو کم از کم اجرت 40 ہزار روپے کے نفاذ کے لیےحکومت پنجاب نے سخت اقدامات اٹھانے کا آغاز کر دیا۔
ڈائریکٹر جنرل لیبر ویلفیئر پنجاب کی جانب سے تمام سرکاری و نیم خود مختار اداروں کو باضابطہ مراسلہ جاری کر دیا گیاہے ۔
مراسلے میں سرکاری اور پرائیویٹ محکموں کےسربراہان کوکہاگیاہے کہ ملازمین کواب کم ازکم 40ہزارروپےاجرت لازمی دینا ہوگی۔
ایل ڈی اے،واسا، پی ایچ اے،کارپوریشنز اور اتھارٹیزکو بھی کم تنخواہ دینےسےروک دیاگیاہے،مراسلے میں غیرہنرمندمزدورکی کم ازکم اجرت40ہزارماہانہ مقررکرنےکےفیصلے بارےآگاہ کیاگیاہے اورمطلع شدہ شرح سےکم اجرت دینا ایکٹ2019کی خلاف ورزی قراردیاگیاہے۔
یہ بھی پڑھیں:ای بائیکس رجسٹر کروائیں ،حکومت سے ہزاروں روپے پائیں
مراسلے کے مطابق ایکٹ کےسیکشن11کےمطابق کوئی آجرپرائیویٹ یاسرکاری سطح پرمقررہ شرح سےکم اجرت ادانہیں کرسکتا،پرنسپل آجرذاتی طورپرذمہ دارہوگاکہ کم ازکم اجرت کےنفاذپرمکمل عملدرآمدکرائے،براہِ راست بھرتی یاٹھیکیدارکےذریعےملازمت دینےپربھی کم ازکم اجرت کی ادائیگی لازمی ہوگی۔
پنجاب حکومت کےلیبرقوانین پرعملدرآمدنہ کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کابھی عندیہ دیاگیاہے،ڈی جی لیبرویلفیئرسیدہ کلثوم حئی نےملازمین کےحقوق کےتحفظ کیلئےاقدامات تیزکردیئے ہیں۔