صرف 5 فیصد افراد نے ٹیکس دینا،وہ بھی نہیں دے رہے:چیئرمین ایف بی آر

سالانہ 7100 ارب کے ٹیکس گیپ کی نشاندہی،ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب دوسرے ملکوں سے کم ہے

Jun 13, 2025 | 15:12:PM
صرف 5 فیصد افراد نے ٹیکس دینا،وہ بھی نہیں دے رہے:چیئرمین ایف بی آر
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (ویب ڈیسک)چیئرمین ایف بی آرنے کہا ہے کہ پاکستان میں صرف 5 فیصد افراد نے ہی ٹیکس دینا ہے لیکن وہ بھی نہیں دے رہے، سالانہ 7100 ارب روپے کے ٹیکس گیپ کی نشاندہی کی گئی ہے، 

سید نوید قمر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی  برائے خزانہ کا اجلاس ہوا، جس میں چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے فنانس بل پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ ملک میں سالانہ 7100 ارب روپے کے ٹیکس گیپ کی نشاندہی کی گئی ہے، پاکستان میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب دوسرے ملکوں سے کم ہے، رواں مالی سال اس شرح کو 8 فیصد سے بڑھا کر 10.5 فیصد کیا ہے، بھارت 13.4 فیصد سے 18.5 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو لے کر گیا ہے۔

راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ پاکستان میں آمدن کے لحاظ سے 6 لاکھ 70 ہزار گھرانے ٹاپ کیٹیگری میں شامل ہیں، ملک کی 6 کروڑ 70 لاکھ آبادی برسر روزگار ہے، بچوں اور بوڑھوں سمیت 13 کروڑ 20 لاکھ کی آبادی لیبر فورس سے باہر ہے، ان میں 18 سال سے کم عمر کے 12 کروڑ 70 لاکھ افراد شامل ہیں، بزرگ یا بوڑھے افراد کی تعداد 50 لاکھ سے زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ بجٹ: پرائمری تعلیم کیلئے 156 اورصحت کیلئے 326 ارب روپے مختص

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ پاکستان میں 5 فیصد افراد نے ہی ٹیکس دینا ہے لیکن وہ بھی نہیں دے رہے ،مینوفیکچرنگ سیکٹر سے 3100 ارب روپے کا ٹیکس نہیں آتا،اس وقت چاغی ضلع کے بارڈر سے سمگلنگ ہورہی ہے، بارڈرز کے باقی علاقوں میں سختی ہے، چاغی کا بارڈر بڑا ہے اور بارڈر پر سمگلنگ سے 500 ارب روپے ریونیو کے نقصانات ہورہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ شوگر سیکٹر کی مانیٹرنگ بہتر ہونے سے ٹیکس ریونیو میں 50 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے، ایرانی پیٹرول کی سمگلنگ روکنے سے ملک کا درآمدی بل بڑھ جاتا ہے،پاکستان میں 94 فیصد گھرانوں کے پاس ایئرکنڈیشنر کی سہولت نہیں ہے،سمگلنگ روکنے کیلئے کارگو ٹریکنگ سسٹم متعارف کرا رہے ہیں، مختلف علاقوں میں ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنزبھی قائم کررہے ہیں۔