بی آر سی کالج لورالائی میں وفاقی ملازمین کے بچوں کے داخلہ کوٹے پر عمل درآمد روک دیا گیا

Mar 12, 2026 | 19:29:PM
بی آر سی کالج لورالائی میں وفاقی ملازمین کے بچوں کے داخلہ کوٹے پر عمل درآمد روک دیا گیا
کیپشن: بلوچستان ہائیکورٹ، فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(عیسیٰ ترین)بلوچستان ہائیکورٹ نے بی آر سی کالج لورالائی میں وفاقی ملازمین کے بچوں کے داخلہ کوٹے پر عمل درآمد روک دیا ۔

چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران ملاخیل اور جسٹس نجم الدین مینگل پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ سپریم کورٹ علی احمد کاکڑ عدالت میں پیش ہوئے۔

بلوچستان ہائیکورٹ نے سیکرٹری کالجز و ہایئر ایجوکیشن اور پرنسپل بی آر سی لورالائی کو نوٹسز جاری کردیئے۔

بلوچستان ہائیکورٹ نے ہدایت کی کہ بلوچستان ریزیڈینشنل کالجز میں وفاقی محکموں کے ملازمین کے بچوں کیلئے کلاس 7THمیں مختص سیٹوں پر فی الحال داخلے روک دیئے جائیں۔

بلوچستان ہائیکورٹ میں کیس کی مزید سماعت عیدالفطر کی تعطیلات کے بعد ہوگی۔

ایڈووکیٹ علی احمد کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان ریزیڈینشنل کالجز میں  وفاقی محکموں کے ملازمین کے بچوں کیلئے 6 نشستیں مختص کی گئی ہے۔6 سیٹوں پر مقامی ملازمین کے بچوں کو داخلہ دینے کی بجائے دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے نان لوکل اور نان ڈومیسائل ہولڈرز کو داخلے دئیے جارہے ہیں۔

درخواست گزار نے استدعا کی کہ بی آر سی کالج لورالائی کے حالیہ داخلہ ٹیسٹ میں کم نمبرز لینے والے بچوں کو داخلے دیئے گئے ہیں۔بی آر سی کالجز میں وفاقی محکموں کے ملازمین کے بچوں کیلئے داخلہ پالیسی آئین وقانون کے خلاف ہے۔ 

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بلوچستان ہائیکورٹ بی آر سی کالجز میں  وفاقی محکموں کے ملازمین کے بچوں کی داخلہ پالیسی کو کالعدم قرار دے۔بلوچستان ہائیکورٹ نے سیکرٹری کالجز ، پرنسپل بی آر سی لورالائی  اور دیگر کو نوٹسز جاری کرکے سماعت ملتوی کردی۔

یہ بھی پڑھیں:کروڈ آئل کی یومیہ پیداوار میں کمی؟    معیشت کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی