کروڈ آئل کی یومیہ پیداوار کم ہو گی، معیشت کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی

Mar 12, 2026 | 17:27:PM
 کروڈ آئل کی یومیہ پیداوار کم ہو گی، معیشت کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی
کیپشن: دنیا میں کروڈ آئل کی جلد ترسیل بزنس اور معیشت کے لئے ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہی ہے۔  کروڈ کی ترسیل کو تیز کرنے کے لئے بہت بڑے ٹینکر بنائے گئے۔  سی وائز جائینٹ کو اب تک دنیا میں سب سے بڑا  تیل بردار جہاز سمجھا جاتا ہے۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے کہا ہے کہ  آبنائے ہرمز دنیا کا سب سے اہم آئل کوریڈور ہے، اب یہ دنیا مین تیل کی ترسیل کا چوک پوائنٹ بن گئی ہے۔  ایران جنگ کے باعث دنیا کی کروڈ کی یومیہ پیداوار کم ہو گی۔
 ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے  تازہ حملوں میں خلیج فارس میں جہازوں اور خطے میں توانائی کے مقامات کو نشانہ بنایا، جس کے بعد بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے آج کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ "عالمی تیل کی منڈی کی تاریخ میں سب سے بڑی سپلائی میں خلل" کا باعث بن رہی ہے۔

IEA نے اپنی ماہانہ تیل کی رپورٹ میں کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے خام اور تیل کی مصنوعات کی ترسیل- جو عام طور پر روزانہ تیل کی عالمی پیداوار کے تقریباً پانچویں حصے (20 فیصد) کی گزرگاہ  ہے - کم ہو کر "ایک چال" رہ گیا ہے۔ ایجنسی نے آبنائے ہرمز کی  آبی گزرگاہ کو جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے جوڑتی ہے، "دنیا کا سب سے اہم تیل کی ترسیل کا چوک پوائنٹ" قرار دیا۔

Caption   ایران کے حملے کے بعد عراق کے علاقائی پانیوں میں آگ لگنے کے بعد ایک آئل ٹینکر سلگ رہا ہے۔

عرب ملکوں کی کروڈ آئل پروڈکشن میں  10ملین بیرل کمی

چونکہ خلیجی ممالک کے پاس اپنا خام تیل برآمد کرنے کے لیے کچھ اور طریقے ہیں اور ان کے ذخیرہ کرنے کے ٹینک بھرنے کے ساتھ، ان ممالک نے تیل کی کل پیداوار میں کم از کم 10 ملین بیرل یومیہ کمی کی ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "بحری جہازوں کے بہاؤ کی تیزی سے بحالی کی عدم موجودگی میں، سپلائی کے نقصانات میں اضافہ ہونا طے ہے۔"

کروڈ کی عالمی سپلائی میں  8 ملین بیرل یومیہ کمی کی فورکاسٹ 

IEA نے یہ بھی پیش گوئی کی ہے کہ اس ماہ عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں 8 ملین بیرل یومیہ کمی آئے گی، مشرق وسطیٰ میں پیداوار میں کٹوتی جزوی طور پر دوسری جگہوں کے پروڈیوسرز  کی جانب سے زیادہ پیداوار کے ذریعے کچھ کم ہو گی تاہم آٹھ ملین بیرل یومیہ تک کمی تب بھی باقی رہے گی۔ 

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’28 فروری کو دشمنی شروع ہونے کے بعد سے زیادہ تر سات خلیجی ممالک سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، بحرین اور ایران جو کہ خام تیل کی برآمد کے لیے آبنائے پر انحصار کرتے ہیں، کی پیداوار میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔‘‘