لاہور جنرل ہسپتال میں چھاتی کے سرطان سے متعلق آگاہی واک کااہتمام 

بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی وقت کی ضرورت، طرز زندگی بدلنا ہوگا:پرنسپل پروفیسر فاروق افضل

Oct 11, 2025 | 14:07:PM
 لاہور جنرل ہسپتال میں چھاتی کے سرطان سے متعلق آگاہی واک کااہتمام 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24 News
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) لاہور جنرل ہسپتال میں چھاتی کے سرطان سے متعلق آگاہی واک کااہتمام کیاگیا۔
 گائنی یونٹ ٹو اور جنرل سرجری ڈیپارٹمنٹ کے اشتراک سے منعقد ہونےوالی اس  واک میں پرنسپل پروفیسر فاروق افضل، ایم ایس پروفیسر فریاد حسین، پروفیسر آمنہ احسن چیمہ، پروفیسر ندرت سہیل، ڈاکٹر سائرہ ذیشان، ڈاکٹر لیلیٰ شفیق، پروفیسر ارشد چیمہ، پروفیسر سمیہ ملک، پروفیسر آمنہ جاوید، پروفیسر نازش ثقلین اور ڈاکٹر رومانہ اخلاق سمیت نرسنگ سٹوڈنٹس اور ہیلتھ پروفیشنلز نے شرکت کی۔    
پرنسپل پروفیسر فاروق افضل نے واک کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ چھاتی کے کینسر سے متعلق وسیع پیمانے پر آگاہی مہم وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ پاکستانی خواتین احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد یقینی بنائیں اور اپنا طرز زندگی تبدیل کر کے اس بیماری سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکیں۔
 پروفیسر فاروق افضل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بریسٹ کینسر کی شرح ایشیا میں سب سے زیادہ ہے، جہاں ہر سال 90,000 سے زائد خواتین اس مرض میں مبتلا ہوتی ہیں، ملک میں ہر آٹھ میں سے ایک خاتون کو زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر بریسٹ کینسر لاحق ہونے کا خطرہ ہوتا ہے، عالمی سطح پر ہر سال 25 لاکھ سے زائد خواتین اس مرض کا شکار ہوتی ہیں، جن میں سے بڑی تعداد بروقت تشخیص نہ ہونے کے باعث جان کی بازی ہار جاتی ہے۔
 پروفیسر فاروق افضل نے شرکاء کو بتایا کہ لاہور جنرل ہسپتال میں بریسٹ کلینک، میموگرافی، الٹراساؤنڈ، کلینیکل معائنہ، بائیوپسی اور ماہرین کی مشاورت جیسی تمام سہولیات موجود ہیں، بریسٹ کینسر صرف خواتین کا نہیں بلکہ معاشرتی مسئلہ ہے اور اس کے خلاف شعور اجاگر کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
پروفیسر آف گائنی ڈاکٹر آمنہ احسن چیمہ، پروفیسر سمیہ ملک، پروفیسر آمنہ جاوید اور ڈاکٹر رومانہ اخلاق نے گفتگو میں کہا کہ آج کی جدید میڈیکل سائنس نے بریسٹ کینسر کو قابل علاج مرض بنا دیا ہے، تاہم یہ علاج کافی مہنگا ہونے کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقے کی خواتین کے لئے ناقابل برداشت ہوتا ہے اور اگر مرض کی تشخیص و علاج میں تاخیر ہو جائے تو مریض کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔،یہ بات ماہرین کے مشاہدے میں آئی ہے کہ بچوں کو دودھ پلانے والی خواتین میں بریسٹ کینسر کی شرح دیگر خواتین کے مقابلے میں کم ہوتی ہے،بریسٹ کینسر ہارمونز کی کمی پیشی،جسمانی فٹنس کو برقرار رکھنے، نومولود کو دودھ پلانے سے اجتناب اور پروٹین (ریڈ میٹ) کا بہت زیادہ استعمال بھی انسانی جسم میں کینسر کے خلیات کو جنم دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماریا کورینا مچادو نے امن کا نوبیل انعام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام کردیا
طبی ماہرین نے اس موقع پرکہا کہ شادی شدہ خواتین کے علاوہ بہت سے کنوری لڑکیاں بھی ا س مرض کا شکار ہو رہی ہیں اور بچیاں روایتی شرم و حیاکی وجہ سے سینے میں ہونے والی درد یا کسی قسم کی تبدیلی کے بارے میں اپنے والدین سے بھی ذکر نہیں کرتیں اور نہ ہی ڈاکٹر سے مشورہ کرتی ہیں جس سے مرض اندر ہی اندر پھیلنے سے نوبت سرجری تک پہنچ جاتی ہے، مریض میں بریسٹ کینسر کے شدت اختیار کرنے سے اسے کیمو تھراپی اور شعاعوں کا کورس کروانا پڑتا ہے اور ادویات بھی طویل عرصہ تک استعمال ہوتی ہیں جس سے مریض کی عمومی صحت بھی متاثر ہوتی ہے لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اگر کسی نوجوان لڑکی یا شادی شدہ خواتین کو چھاتی میں درد یا گلٹی محسوس ہوتو وہ فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کر یں تاکہ میمو گرافی کے ذریعے بیماری کی تشخیص کر کے بگڑنے سے پہلے علاج معالجہ شروع کیا جا سکے۔    
واک کے دوران شرکاء نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مرض کی علامات، احتیاطی تدابیر اور بروقت تشخیص کی اہمیت سے متعلق پیغامات درج تھے۔اس موقع پر پمفلٹس اور معلوماتی بروشرز تقسیم کیے گئے اور خواتین کو خود معائنہ کے عملی طریقے بھی سکھائے گئے۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آگاہی پھیلانے اور بروقت تشخیص و علاج کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔