آئی ایس پی آر پریس ریلیز کے مطابق یہ معاملہ یہاں نہیں رکنا آگے بھی چلنا ہے ،وفاقی وزراکا فیض حمید کی سزا پر ردعمل

Dec 11, 2025 | 22:50:PM
آئی ایس پی آر پریس ریلیز کے مطابق یہ معاملہ یہاں نہیں رکنا آگے بھی چلنا ہے ،وفاقی وزراکا فیض حمید کی سزا پر ردعمل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(اویس کیانی)وفاقی وزرا اورحکومت عہدیداران نے فیض حمید کی سزا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل فیض اکیلا نہیں ہے اس پر سیاسی مداخلت کا الزام ثابت ہوا ہے،جنرل فیض سیاسی پارٹی اور سیاسی شخصیت کے ساتھ تھا ، آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے مطابق یہ معاملہ یہاں نہیں رکنا آگے بھی چلنا ہے ،اس میں اور بھی کردار ہیں ۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے 24 نیوز سے گفتگو  کرتے ہوئے کہاکہ فوج جو کہتی ہے وہ کر کے بھی دکھاتی ہے فوج میں اوپر سے نیچے تک سب کا احتساب ایک جیسا ہوتا ہے ،دنیا میں ایسی مثال نہیں کہ طاقت ور ترین خفیہ ایجنسی کے سربراہ کو غیر قانونی اقدام پر سزابھگتنی پڑ رہی ہے ،ان کاکہنا تھا کہ جنرل فیض اکیلا نہیں ہے اس پر سیاسی مداخلت کا الزام ثابت ہوا ہے،جنرل فیض سیاسی پارٹی اور سیاسی شخصیت کے ساتھ تھا ۔

وزیر مملکت کاکہناتھا کہ آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے مطابق یہ معاملہ یہاں نہیں رکنا آگے بھی چلنا ہے ،اس میں اور بھی کردار ہیں ،جنرل فیض کی وجہ سے ان کے ادارے پر بہت سے سوالات اٹھے ،ادارے نے ان سوالات کو آج سزا دے کر مٹا دیا ہے،ادارے نے کلیئرکر دیا ہے کہ ہر کسی کو اپنے قانون دائرے کے اندر ہی رہنا ہے چاہے وہ کسی بھی پوزیشن پر ہو ۔

طلال چودھری نے کہاکہ جنرل فیض بڑے عہدے پر فائز تھے  انہوں اپنا کیس لڑنے اور بے گناہی ثابت کرنے کا پورا وقت اور حق دیا گیا ہے،ان کو پورا حق دیا گیا جس کی وجہ سے اس فیصلے میں اتنا وقت لگا ،جنرل فیض کی وجہ سے عمران خان اور عثمان بزدار کو لا کر بٹھانے سے پاکستان کو بڑا نقصان ہوا ہے، عمران خان کی ساری سیاست اور تعلق جنرل فیض حمید سے جڑا ہوا تھا،فیض حمید نہ ہوتا تو عمران خان وزیراعظم نہ ہوتا،عمران خان اور فیض حمید ایک دوسرے کے لیے فائدہ مند تھے،دونوں نے ایک پلان بنایا تھا لیکن پلان تو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کا چلتا ہے۔

وزیر اطلاعات عطا تارڑ کاکہناتھا کہ پاکستان کا آج ایک تاریخی دن ہے حق اور سچ کی فتح ہوئی ہے،ایسا شخص جو سیاسی معاملات میں بے جا مداخلت کا مرتکب پایا گیا ہے بلکہ انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اپنے عہدے کی توہین کی ہے ۔ان کاکہناتھا کہ فیض حمید ٹاپ سٹی کیس میں بھی مجرم قرار پائے ہیں ،عمران خان اور فیض حمید کا گٹھ جوڑ تھا ،ریٹائرمنٹ کے بعد ان پر قدغن تھی کہ یہ سیاسی سرگرمیوں میں سرگرم نہیں ہوں گے لیکن یہ باقاعدہ طور پر پی ٹی آئی کے سیاسی مشیر تھے ،یہ سیاسی مشیر کے تحت معاونت کرتے رہے اور سازش کرتے رہے، 9 مئی جیسے واقعات اور شدت پسندی ،رٹ آف سٹیٹ کیخلاف کام کرتے رہے ۔

وفاقی وزیر کاکہناتھا کہ 15 ماہ کیس چلا تمام قانونی تقاضے پورے کئے گئے،فوج کے اندر احتساب کا مربوط نظام موجود ہے ،ناقابل تردید ثبوتوں اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ ہوا ہے ،ان کو موقع دیا گیا اپنی صفائی کا لیکن ان کے پاس اپنی صفائی میں کہنے کو بہت کچھ نہیں تھا ،فئیر ٹرائل اور ڈیو پراسس کے تحت سزا ہوئی ہے جو پاکستان کیلئے بہت بڑا اور اہم دن ہے۔

وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک  کاکہناتھا کہ قانون اور فیر ٹرائل کے تمام تقاضے پورے کیے گئے ہیں ،انٹرنل کورٹ مارشل کے طریقہ کار پر تمام کارروائی ہوئی ہے ،یہ سزا آرمی ایکٹ کے قواعد کے ساتھ ساتھ آئین پاکستان کے بنیادی تقاضوں کے مطابق ہے جس میں فئیر ٹرائل اور قانونی طریقہ کار پر عملدرآمد کو یقینی بنایا گیا ہے۔

اختیار ولی کا گفتگو کرتے ہوئے کہناتھا کہ فیض حمید کو سزا دارصل ملک میں قانون و انصاف کا بول بالا ہوا ہے ،پاک فوج نے ثابت کر دیا کہ ادارے کے اندر خود احتسابی کا مضبوط اور مربوط نظام موجود ہے ،نیب اور عدالتی اداروں کیلئے یہ فیصلہ ایک مثال ہے ۔

ان کاکہناتھا کہ کچھ عرصہ ایک روایت چلی تھی کہ کیسز کی بجائے چہروں کو دیکھا جاتا تھا ،جہاں پر لا کی بجائے مدر ان لا کی تجاویز اور مشوروں کو دیکھا جاتا تھا اور اس پر فیصلے کیے جاتے تھے ،فیض حمید عمران خان کے سہولت کار تھے،اگر سہولت کار کو اتنی بڑی سزا ہو سکتی ہے تو فائدہ اٹھانے والے کو کتنی بڑی سزا ہونی چاہیے،ان کا مزید کہناتھا کہ ابھی 9 مئی کے کیسز کی سزا آنی ہے اس کے بعد چیزیں مزید کلیئر ہو جائیں گی،بانی صاحب کو بھی نانی یاد آ جائے گی ،بانی کو بھی پتہ چل جائے گا کہ جی ایچ کیو ،جناح ہاؤس پر حملے کرنا ،شہداء کے مجسموں کو جلانا،ریڈیو پاکستان کو جلانا، زیارت ریزیڈنسی پر حملے کروانا یہ سب منصوبے کے تحت کی گئی تھیں ۔

اختیار ولی خان نے کہاکہ یہ دائرہ کھلے گا عمران خان اور بشری بی بی پھنستے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں،فیلڈ مارشل نے پہلے کہا تھا کہ ہمیں سافٹ سے  ہارڈ سٹیٹ بنناہے اور پھر وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں ہارڈ سے اب سٹرانگ اسٹیٹ بننا ہے،الحمدللہ پاکستان سڑانگ سٹیٹ بن چکا ہے اب کوئی بندوق لہراتے ہوئے وفاق پر حملے کا سوچ نہیں سکتا۔

انہوں نے کہاکہ آج سے ایک سال پہلے سیاست کا لبادھا اوڑھ کر ڈرامہ بازی ہوتی تھی اب ایسے سرکس نہیں ہوں گے ،فیض حمید صاحب وہ طوطا تھے جس میں عمران خان کی جان تھی،جمہوری لوگوں کو ڈرنے کی ضرور نہیں لیکن سیاسی جماعتیں مضبوط ہوں گی پارلیمنٹ مضبوط ہو گی۔

دیگر کیٹیگریز: پاکستان - قومی
ٹیگز: