شہبازشریف نےمزید  پیداواری شعبوں کو خودکار نگرانی کے دائرہ کار میں لانے کی ہدایت کر دی

Mar 10, 2026 | 17:17:PM
شہبازشریف نےمزید  پیداواری شعبوں کو خودکار نگرانی کے دائرہ کار میں لانے کی ہدایت کر دی
کیپشن: وزیراعظم شہباز شریف ایف بی آر کے جائزہ اجلاس میں گفتگو کر رہے ہیں۔
شہبازشریف نےمزید  پیداواری شعبوں کو خودکار نگرانی کے دائرہ کار میں لانے کی ہدایت کر دی
شہبازشریف نےمزید  پیداواری شعبوں کو خودکار نگرانی کے دائرہ کار میں لانے کی ہدایت کر دی
شہبازشریف نےمزید  پیداواری شعبوں کو خودکار نگرانی کے دائرہ کار میں لانے کی ہدایت کر دی
شہبازشریف نےمزید  پیداواری شعبوں کو خودکار نگرانی کے دائرہ کار میں لانے کی ہدایت کر دی
شہبازشریف نےمزید  پیداواری شعبوں کو خودکار نگرانی کے دائرہ کار میں لانے کی ہدایت کر دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)  وزیراعظم شہباز شریف نے ٹیکس ریوینیو  میں اضافے کے لیے مزید  پیداواری شعبوں کو خودکار نگرانی کے دائرہ کار میں لانے کی ہدایت کر دی۔ 
وزیر اعظم شہباز شریف نے یہ ہدایت فیڈرل بیورو آف ریوینیو FBR کے امور پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس میں جاری کی۔

انہوں نے ہدایت کی کہ  ایف بی آر محصولات میں اضافے اور ٹیکس چوری کے سدباب کیلئے انفورسمنٹ کو مزید موثر بنائے۔ وزیراعظم نے پرال (PRAL) کی ایگزیکٹو ٹیم میں میرٹ کی بنیاد پر ماہرین کی بھرتیوں اور پرال کو ایک فعال ادارہ بنانے پر معاشی ٹیم کی پزیرائی  کی۔

وزیراعظم  شہباز شریف نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو ملک میں تیار کردہ ادویات کی سیریئلائزیشن جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت  کی۔

انہوں نے ٹیکس دہندگان کے لیے آٹو ٹیکس سسٹم، ڈیجیٹل انوایسنگ سسٹم، آئرس (IRIS) اور دیگر ایپلیکیشنز کو اردو اور دیگر مقامی زبانوں میں بنانے کی ہدایت  بھی کی۔

اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ٹیکس محصولات میں اضافے کے لیے ملک کے مختلف شعبوں میں پیداوار کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی متعدد نظام نافذ العمل ہیں اور کئی جلد  فعال ہو جائیں گے۔ پیداوار کی نگرانی کے لیے ویڈیو اینالیٹیکس، یونٹ کاؤنٹنگ، بارکوڈ سکیننگ، سٹیمپنگ، سیریئلائزیشن اور دیگر ذرائع استعمال کیے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے:  مریم نواز نے تمام وزراء کیلئے سرکاری پٹرول بند کر دیا 

وزیراعظم  کو بتایا گیا کہ شوگر، سیمنٹ، سیگریٹ اور  کھاد کے تمام کارخانوں میں پیداوار کی نگرانی کی جارہی ہے اور اس اقدام سے ٹیکس محصولات میں اضافہ ہوا۔  ٹیکسٹائل ، چمڑے، کاغذ، آٹوموبائل، مشروبات اور دیگر شعبوں میں پیداوار کی نگرانی کے لیے اقدامات جاری ہیں،  جس سے اربوں روپے اضافی ٹیکس آمدنی ہو گی۔

شفافیت یقینی بنانے اور ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال کرنے کے لیے آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹیز کے قانون میں ترامیم کی گئی ہیں۔  آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹیز کے ذریعے 30 جون 2026 تک ٹیکس کی مد میں 80 ارب روپے آمدن وصول ہونے کی توقع ہے۔ 

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ جولائی 2025 تا جنوری 2026 ٹیکس مقدمات کے فیصلوں کے نتیجے میں قومی خزانے کو 102.9 ارب روپے ٹیکس وصولی ہوئی، جون 2026 تک زیر التواء ٹیکس مقدمات  سے ٹیکس کی مد میں 369 ارب روپے وصول ہونے کی توقع ہے۔ 

ایف بی آر حکام کی طرف سے یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ کی نئی ایگزیکٹیو ٹیم فعال ہو چکی ہے۔ پرال کا ڈیجیٹل انوائسنگ کا نظام مکمل طور پر فعال ہو چکا ہے۔ جنوری اور فروری کے مہینوں میں 800 ارب روپے کے ڈیجیٹل انوایسنگ ہو چکی جبکہ اپریل 2026 میں 3 کھرب روپے کی ڈیجیٹل انوایسنگ کا ہدف بھی حاصل  ہو سکے گا۔

یہ بھی پڑھیئے:  وفاقی حکومت نے  فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی پہلا مرحلہ مکمل کر لیا

عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ایف بی آر کا نیا ڈیٹا سینٹر مکمل طور پر تیار ہو چکا ہے۔  ملک میں سمگلنگ کی روک تھام اور کارگو ٹریکنگ کے لیے ڈیجیٹل کارگو ٹریکنگ کا نظام بالخصوص e-Bilty کا نظام متعارف کرایا جا چکا ہے۔ 

پیٹرولیم مصنوعات کی جی پی ایس ٹریکنگ کے لیے  مربوط نظام لاگو ہو چکا ہے۔ 

اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ اورنگزیب،  احد خان چیمہ، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، عطا اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل آف پاکستان، چئیرمین ایف بی آر اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔