سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس 15 جون کو طلب
Stay tuned with 24 News HD Android App
(اشرف خان)سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس 15 جون کو طلب کر لیاگیا،گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد مانیٹری پالیسی کمیٹی اجلاس کی سربراہی کریں گے۔کمیٹی اہم معاشی اعدادوشمار کا جائزہ لے گی ۔
ٹاپ لائن ریسرچ نے مانیٹری پالیسی سے مارکیٹ سروے جاری کردیا ،سروے میں 49 فیصد ماہرین نے شرح سود برقرار رہنے کی توقع ظاہر کردی ،49 فیصد شرکاء شرحِ سود میں اضافے کی توقع رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 34 فیصد ماہرین نے 50 بیسز پوائنٹس اضافے کی پیشگوئی کی ہے ،15 فیصد شرکاء کے مطابق شرحِ سود 100 بیسس پوائنٹس بڑھ سکتی ہے، صرف 2 فیصد ماہرین شرحِ سود میں کمی کے حامی ہیں۔
ٹاپ لائن ریسرچ نے پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ پالیسی میں شرحِ سود برقرار رہنے کا امکان ہے، رپورٹ کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے مارکیٹ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا، برینٹ خام تیل 118 ڈالر سے گر کر تقریباً 93 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، صدر ٹرمپ کے جنگ کے جلد خاتمے کے بیانات نے عالمی منڈیوں کو سہارا دیا۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں اور ثالثی بھی شرحِ سود برقرار رکھنے کے حق میں قراردی گئی ہے، سیکنڈری مارکیٹ اشارہ دے رہی ہے کہ 50 سے 75 بیسس پوائنٹس اضافے کی گنجائش موجودہے،چھ ماہ ٹی کی کٹ آف ایلڈ 12.42 فیصد ہوگئی ہے ۔
6 ماہ کا کراچی انٹربینک آفر ریٹ 12.50 فیصد پر پہنچ گیا ہے ،53 فیصد ماہرین کے مطابق دسمبر 2026 تک شرحِ سود 11.5 فیصد سے اوپر رہے گی،31 فیصد شرکاء شرحِ سود 11.5 فیصد پر برقرار رہنے کی توقع رکھتے ہیں،16 فیصد ماہرین سال کے اختتام تک شرحِ سود میں کمی کے امکان کے حامی ہیں۔
افراطِ زر پر بھی ملی جلی رائے ہے، 20 فیصد نے 10 فیصد سے زائد مہنگائی کی پیشگوئی کی،مالی سال 2027 میں اوسط مہنگائی 8 سے 8.5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
ٹاپ لائن ریسرچ کے مطابق زیادہ تر ماہرین نے روپے کے استحکام کی توقع کی ہے ،اکثریت نے ڈالر 280 سے 290 روپے کے درمیان رہنے کی پیشگوئی کی ۔
رپورٹ کے مطابق دسمبر 2026 تک ڈالر 283 سے 286 روپے کے درمیان رہنے کا امکان ہے، مارکیٹ کی تمام نظریں 15 جون کےسٹیٹ بینک کے فیصلے پر مرکوز ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کے ہتک عزت مقدمہ میں عمران خان کی نظرثانی درخواست پر محفوظ فیصلہ کب سنایا جائے گا؟اعلان ہو گیا