قتل، زیادتی اور شواہد مٹانے کے سنگین جرم میں ملوث ملزم کی سزائے موت برقرار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ نے قتل، زیادتی اور شواہد مٹانے کے سنگین جرم میں ملوث مجرم احمد علی کی سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی۔
جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ریمارکس دیئے کہ ایسے سنگین جرائم میں ملوث مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں ہوتے،جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاء باجوہ پر مشتمل دو رکنی ڈویژن بنچ نے کیس کی سماعت کے بعد مجرم احمد علی کی اپیل مسترد کر دی۔فیصلے کے وقت ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ہارون الرشید بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
دوران سماعت سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 22 سالہ مجرم احمد علی نے اپنی 35 سالہ شادی شدہ خاتون رشتہ دار کو ورغلا کر اپنے ساتھ لے گیا۔ مجرم نے پہلے خاتون کو برگر کھلایا اور بعد ازاں اس پر تشدد کرتے ہوئے زیادتی کا نشانہ بنایا۔سرکاری وکیل کے مطابق زیادتی کے بعد مجرم نے خاتون پر حملہ کیا اور اسے زندہ جلانے کی کوشش کرتے ہوئے اس کے جسم پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ شدید زخمی حالت میں خاتون کو طبی امداد فراہم کی گئی تاہم وہ دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ متاثرہ خاتون نے زندگی کے آخری ایام میں پولیس اور بعد ازاں عدالت کے روبرو مجرم کے خلاف بیان ریکارڈ کروایا تھا جس میں اس نے وقوعہ کی مکمل تفصیلات بیان کیں۔ پراسیکیوشن کے مطابق خاتون کا نزاعی بیان مقدمے کا اہم ثبوت تھا جس کی دیگر شواہد سے بھی تصدیق ہوئی۔
ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ فرانزک اور ڈی این اے رپورٹوں میں بھی مجرم کے خلاف زیادتی کے الزامات ثابت ہوئے۔ مزید برآں دیگر شہادتوں اور ریکارڈ سے بھی ملزم کا جرم ثابت ہوتا ہے۔ متاثرہ خاتون کے انتقال کے بعد تھانہ فیکٹری ایریا پولیس نے ملزم کے خلاف قتل سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔
سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے متاثرہ خاتون کے نزاعی بیان، ڈی این اے رپورٹ اور دیگر ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مجرم احمد علی کو سزائے موت سنائی تھی۔
دوسری جانب وکیلِ صفائی نے ملزم کی بریت کے لیے مختلف قانونی نکات اٹھائے تاہم وہ عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔