سینیئر صحافی زبیدہ مصطفیٰ 84 سال کی عمر میں انتقال کرگئیں

Jul 09, 2025 | 23:49:PM
سینیئر صحافی زبیدہ مصطفیٰ 84 سال کی عمر میں انتقال کرگئیں
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)سینئر صحافی زبیدہ مصطفیٰ 84 سال کی عمر میں انتقال کرگئیں، وہ فری لانس صحافی کے طور پر باقاعدگی سے لکھا کرتی تھیں جبکہ مختلف اخبارات سے بھی وابستہ رہیں۔

وکی پیڈیا پر ان کے پروفائل پیج پر دستیاب معلومات کے مطابق زبیدہ مصطفیٰ نے جولائی 1975 میں پاکستان کے سب سے بڑے انگریزی روزنامے  میں اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شمولیت اختیار کی تھی، اُس وقت وہ اعلیٰ سطح پر واحد خاتون تھیں اور پاکستان کے مرکزی دھارے کے میڈیا میں پہلی خاتون لکھاری بھی تھیں۔

اگرچہ خواتین کے مسائل ان کا بنیادی موضوع رہا، لیکن انہوں نے تعلیم، انسانی خود مختاری، صحت اور آبادی جیسے موضوعات پر بھی بھرپور توجہ دی۔1986 میں زبیدہ مصطفیٰ کو واشنگٹن ڈی سی میں پاپولیشن انسٹیٹیوٹ کی جانب سے پاکستان میں آبادی پر کنٹرول سے متعلق تحقیق اور تحریروں پر گلوبل میڈیا ایوارڈ فار ایکسیلنس دیا گیا۔

2012 میں انہیں انٹرنیشنل ویمنز میڈیا فاؤنڈیشن کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا، جو خواتین کے مسائل، سیاست، تعلیم، صحت اور ثقافت پر ان کی رپورٹنگ پر دیا گیا، 2013 میں ویمن میڈیا سینٹر نے بھی پاکستانی صحافت میں ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے ایوارڈ دیا۔

زبیدہ مصطفیٰ نے 2009 میں اپنی صحت کے مسائل کی بنا پر 33 سال کی خدمات کے بعد صحافت سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی، 2012 میں بھی وہ صحت کے مسائل اور کمزور ہوتی بینائی کا سامنا کر رہی تھیں۔ 2020 تک وہ بطور فری لانس صحافی اخباری کالم لکھتی رہیں۔

کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی اور جنرل سیکریٹری سہیل ازل خان کی جانب سےجاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ انتہائی رنج و غم کے ساتھ کراچی پریس کلب زبیدہ مصطفیٰ کے انتقال کی خبر کی تصدیق کرتا ہے، جو پاکستانی صحافت کی ایک عظیم اور سینئر شخصیت تھیں۔

اعلامیہ کے مطابق وہ آج ( 9 جولائی) کو اس دنیا سے رخصت ہو گئیں، مگر اپنے پیچھے ایسی میراث چھوڑ گئی ہیں جو آنے والی صحافی نسلوں کو ہمیشہ رہنمائی فراہم کرتی رہے گی۔

صدر و جنرل سیکریٹری کے پی سی کا کہنا تھا کہ کراچی پریس کلب اس مشکل گھڑی میں ان کے اہلِ خانہ، دوستوں اور ساتھیوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے، ان کی کمی شدت سے محسوس کی جائے گی، مگر صحافت اور معاشرے کے لیے ان کی خدمات کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی۔
 

یہ بھی پڑھیں :فواد چودھری کے 9 مئی مقدمات یکجا کرنے سے متعلق کیس کی کاز لسٹ جاری