طوفانی بارشیں، ندی نالوں میں طغیانی،سیلاب سے شاہراہِ قراقرم بند ،این ڈی ایم اے نے مزید الرٹ جاری کر دیا
ہٹیاں بالا میں بادل پھٹنے سے تباہی ،متعدد مکانات تباہ، سیلابی ریلہ میں درجنوں مویشی بہہ گئے، گلگت بلتستان میں گلیشیئرز پگھلنے کا عمل تیز
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز ) ملک بھر میں طوفانی بارشوں کا سلسلہ جاری ، ندی نالوں میں طغیانی،چلاس کے مضافات میں بارش کے باعث سیلاب ، شاہراہِ قراقرم بند ،این ڈی ایم اے نے مزید الرٹ جاری کر دیا ۔
تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں موسلادھار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ صوبائی دارالحکومت لاہور کے مختلف علاقوں گڑھی شاہو، ایبٹ روڈ، مال روڈ، اسلام پورہ، چوبرجی، اچھرہ، مسلم ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن، گرین ٹاؤن، نشترٹاؤن، جوہرٹاؤن کے اطراف میں بادل برس پڑے جس سے شہر کا موسم خوشگوار ہوگیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اب تک 36 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے جبکہ لاہور میں 26 ملی میٹر اور شیخوپورہ میں 23 ملی میٹر بارش ہوئی۔
مری میں 6 ملی میٹر اور منڈی بہاالدین میں 4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بیشتر مقامات پر بارش کا سلسلہ آئندہ چند گھنٹوں تک وقفے وقفے سے جاری رہے گا۔
اس کے علاوہ پنجاب کے مختلف شہروں گوجرانوالہ، گوجر خان، ملتان اور دیگر شہروں میں بھی بادل جم کر برسے، محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹے میں مزید بارش کی پیش گوئی کر دی۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب میں بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں 7 افراد جان سے گئے اور 7 زخمی ہوئے۔
چلاس کے مضافات میں بارش کے باعث سیلاب آنے سے شاہراہِ قراقرم بند،چلاس کے مضافاتی علاقے بٹوگاہ ، تھور اور کھنر میں سیلاب کے باعث زرعی زمینوں ، درختوں اور فصلوں کو نقصان پہنچا ہے ۔چلاس کا علاقہ گونر فارم کے حدود میں متعدد مقامات پر سیلاب کے باعث شاہراہِ قراقرم ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند ہے۔ شاہراہِ قراقرم کی بندش سے مسافر پھنس گئے ، تاحال بحالی کا کام شروع نہ ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی کامیابی کے چرچے، مودی سرکار کو امریکہ سے پھر دو ٹوک جواب مل گیا
آزاد کشمیر کے ضلع جہلم ویلی کے علاقے ہٹیاں بالا کے نواحی گاؤں گوہرآباد میں طوفانی بارش اور بادل پھٹنے کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی پھیل گئی۔ گوہرآباد شرقی اور غربی میں متعدد مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے، جبکہ سیلابی ریلہ گھروں اور دکانوں میں داخل ہو گیا۔
علاقہ مکینوں کے مطابق خوش قسمتی سے جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم درجنوں مویشی تیز بہاؤ میں بہہ گئے۔ شدید بارشوں کے نتیجے میں نوگراں لنک روڈ مکمل طور پر تباہ ہوگئی جبکہ شاہراہ لیپہ بھی لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہو گئی، جس سے امدادی سرگرمیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
سیلابی پانی کے باعث علاقے میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔ گرلز مڈل اسکول سرائی کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا ہے، جس سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ادھر بلوچستان میں مون سون کے دوران حادثات میں 10 افراد جاں بحق 7 زخمی ہو گئے، دریائے سندھ میں کندیاں کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب آگیا، چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 3 لاکھ 73 ہزار 800 کیوسک ریکارڈ کی گئی۔
این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ گلگت بلتستان میں دریائے ہنزہ اور شیگر کے بہاؤ میں اضافہ جبکہ دریائے ہسپار، خنجراب، شمشال، برالدو، ہوشے اور سالتورومیں طغیانی کا خدشہ ہے۔ سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
گلگت، اسکردو، ہنزہ، استور، دیامر، گانچھے اور شگر میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے، مظفرآباد، نیلم ویلی، راولا کوٹ، ہویلی اور باغ میں بھی شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا امکان ہے۔این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔
دوسری جانب گلگت بلتستان میں ریکارڈ توڑ گرمی نے گلیشیئرز کے پگھلنے کے عمل کو تیز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف اضلاع میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
برف کے پگھلنے سے پیدا ہونے والے گلیشیائی جھیل کے پھٹنے (GLOFs) نے سڑکیں بند کر دیں، گھروں کو نقصان پہنچایا اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں لوگوں کو محصور کر دیا۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (جی بی ڈی ایم اے) کے مطابق گزشتہ ہفتے گلگت بلتستان بھر میں شدید گرمی ریکارڈ کی گئی۔
ڈائریکٹر جنرل جی بی ڈی ایم اے ذاکر حسین نے کہا اس سال گلگت بلتستان میں صورتحال غیر معمولی ہے، درجہ حرارت میں اضافے نے دریاؤں اور ندی نالوں میں سیلاب کے خطرات کو بڑھا دیا ہے، خاص طور پر دیامر اور گلگت میں زیادہ خطرات ہیں۔
گزشتہ ہفتے چلاس میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 48.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو کہ 17 جولائی 1997 کے بعد سب سے زیادہ ہے، جب یہ 47.7 ڈگری سیلسیس تھا, بونجی میں درجہ حرارت 46.1 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا، جو جولائی 1971 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔