علیمہ خان سے سوال کرنا جرم ،اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کارکنوں کا صحافیوں پر حملہ
تشدد کسی صورت قبول نہیں،پی ٹی ائی کا معافی مانگنے اور واضع لائحۂ عمل نہ دینے تک بائیکاٹ کرینگے، صحافیوں کا اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ارشاد قریشی) توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنان آپے سے باہر ہو گئے۔اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کارکنوں کا صحافیوں پر حملہ ۔صحافی طیب بلوچ کا علیمہ خان سے سوال کرنا جرم بن گیا ۔
تفصیلات کے مطابق اڈیالہ کے باہر پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے صحافی طیب بلوچ پر تشدد کیا گیا، صحافی طیب بلوچ نے علیمہ خان سے سوال پوچھا تھا۔طیب بلوچ پر پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے تشدد کرنیوالوں کے درمیان صحافی کمیونٹی اور کیمرہ مین ڈھال بنا کر طیب بلوچ کو بچانے کی کوشش کرتے رہے۔اعجاز احمد اور دیگر صحافیوں کو دھکے دئیے گئے اور گالم گلوچ کی گئی۔
اس کے علاوہ دو دن سے تحریک انصاف کا سوشل میڈیا صحافیوں کو دھمکیاں دے رہا تھا۔صحافیوں نے علیمہ خان کی میڈیا ٹاک کا بائیکاٹ کر دیا۔علیمہ خان کی ٹاک سے پہلے میڈیا نمائندگان پر تشدد کیا گیا۔ نجی چینلز کے سئینر رپورٹرفیصل حکیم اور رپورٹر طیب بلوچ سے ہاتھا پائی کی گئی۔
ایس پی صدر راولپنڈی، اے ایس پی نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے ۔متاثرہ صحافیوں کی جانب سے اڈیالہ چوکی درخواست دی جا رہی ہے تشدد کرنے والے افراد کی گرفتاری کیلئے نفری بلوا لی گئی ۔تشدد کرتا دیکھ کر بھی قیادت کی جانب سے کارکنان کو نہیں روکا گیا ۔کارکنان کی بڑی تعداد اڈیالہ کے قریب موجود ۔
پاکستان تحریک انصاف کے بیٹ رپورٹرز کا پی ٹی آئی کی تمام پریس کانفرنسز کی کوریج کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔پی ٹی آئی بیٹ رپورٹرز نے معاملہ پر نیشنل پریس کلب سے بھی آواز اٹھانے کی اپیل کردی
پی ٹی آئی بیٹ رپوٹرز ایسویسی ایشن کے صدر اسامہ اقبال نے تمام معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی کوریج کرنے والے صحافیوں نے مشاورتی عمل کے بعد پی ٹی ائی کی کوریج کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا، انہوں بیٹ رپورٹرز کی جانب سے پارٹی قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔بیٹ رپورٹرز نے نعیم پنجوتھا سمیت حملہ کروانے والے قائدین کے خلاف مقدمہ کرنے پر مشاورت شروع کردی،
پی ٹی ائی بیٹ رپورٹرز کا کہنا ہے کہ صحافیوں پر تشدد کسی صورت قبول نہیں۔پی ٹی ائی کی جانب سے معافی سمیت صحافیوں کے حوالے سے واضع لائحۂ عمل نہ دینے تک بائیکاٹ جاری رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں:چیف جسٹس آف پاکستان کی زیر صدارت فل کورٹ اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی