27ویں آئینی ترمیم سینیٹ میں پیش ، قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے حوالے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے 27ویں آئینی ترمیم کا بل قائمہ کمیٹی قانون وانصاف کے سپرد کردیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیرِ صدارت سینیٹ اجلاس ہوا، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آج معمول کی کارروائی معطل کرکے بل پیش کرلیتے ہیں جس پر چیئرمین سینیٹ نے معمول کی کارروائی معطل کر دی۔
سینیٹ میں وقفہ سوالات و جوابات معطل کرنے کی تحریک پیش کی گئی، تحریک طارق فضل چوہدری نے پیش کی جو چیئرمین سینیٹ نے تحریک منظور کرلی۔
اس سے قبل، وزیراعظم کی ورچوئل صدارت میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دی گئی تھی، تاہم قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) میں صوبوں کے شیئر ختم کا ایجنڈا شامل نہیں کیا گیا۔
وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ آج 27 ویں آئینی ترمیم کے خد و خال ہاؤس کے سامنے رکھوں گا، آج پیش ہونے والا مسودہ منظور نہیں ہونے والا ہے صرف پیش کیا جائے گا، مجھے اجازت دیں کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے خد و خال بیان کروں۔
بعد ازاں، سینیٹ میں 27 ویں آئینی ترمیم کا مجوزہ مسودہ پیش کیا گیا، مسودہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا، جس پر اپوزیشن نے ایوان میں احتجاج کیا، مسودہ پارلیمانی کمیٹی کو سپرد کردیا گیا۔
سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نےکہا کہ بل پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کو پیش کر دیتے ہیں، کمیٹی اپنا کام کرے گی، ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مسجد نبویؐ ریاض الجنہ کے زائرین کی یومیہ تعداد کتنی؟ اہم خبر جانیے
ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ کمیٹی میں قومی اسمبلی اورسینیٹ کے ارکان بیٹھتے ہیں، بل کمیٹی کو جائے گا، کمیٹی میں دیگر ارکان کو بھی مدعو کریں گے جو کمیٹی کے رکن نہیں ہیں، اپوزیشن سے بحث کا آغاز کریں گے۔
سینیٹ وقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا مشترکہ اجلاس طلب
جس پر چیئرمین سینیٹ نے اپوزیشن سے کہا کہ کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوں ، بل قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے سپرد کر دیتا ہوں۔
دوسری جانب 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف کا مشترکہ اجلاس آج ہی طلب کرلیا گیا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو جلدی ہے کہ یہ ترمیم جلدی سے منظور ہوجائے، میری تجویز ہے اسے کمیٹی میں بھیجنے کے بجائے ہاؤس کو ہی کمیٹی کا درجہ دے دیں، ہاؤس میں موجود تمام سینیٹرز اس پر اپنی رائے دیں۔
بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ حکومت اور اتحادیوں کو بل پاس کرانے میں جلدی ہے، مسودہ پڑھے بغیر بحث نہیں کرسکتے۔
’جو بھی ترمیم ہو اس پر اتفاقِ رائے ہونا چاہیے‘
سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس کا کہنا تھا کہ ہمارا آئین جب بنا تھا اتفاقِ رائے سے بنا تھا، ایسی ترمیم کیوں لائیں جس پر سب کا اتفاقِ رائے نہیں ہے، جو بھی ترمیم ہو اس پر اتفاقِ رائے ہونا چاہیے۔
نائب وزیراعظم سینیٹر اسحٰق ڈار نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ قائمہ کمیٹی میں مفصل بحث کی جا سکے گی۔
نائب وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کی گیند چیئرمین سینیٹ کے کورٹ میں پھینک دی، ان کا کہنا تھا کہ قائد حزب اختلاف کی تقرری چیئرمین سینیٹ کا اختیار ہے، جناب چیئرمین آپ کا استحقاق ہے، آپ تقرری کریں گے۔
مزید پڑھیں:ایسی غلطی مت کریں؟فون چارجر نے پورے خاندان کو موت کی نیند سلادیا
اس پر علی ظفر نے کہا کہ ہمیں ابھی ڈرافٹ ملا ہے، اپوزیشن کو اندھی سائیڈ پر مت لائیں، ہم ابھی اس پر بحث نہ کریں سب کو اسے پڑھنے دیں۔
’آرٹیکل 243 پر وضاحت کردیتا ہوں‘
وزیر قانون نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 243 میں تبدیلی کی ضرورت کیوں پیش آئی، اس پر وضاحت کردوں کہ اس آرٹیکل پر بات چیت اپوزیشن ضرور کرے لیکن اپنی فوج کی عزت کو دیکھ کر بات کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ چیف آف آرمی سٹاف کو قوم کی خدمت کے عوض میں فیلڈ مارشل کے اعزازی عہدے سے نوازا، قومی ہیروز کو اس طرح کے ٹائٹل سے نوازا جاتا ہے، آرمی چیف چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام سیاسی قوتوں سے مشاورت کے بعد وفاقی آئینی عدالت کی تجویز سامنے لائے ہیں، ہائیکورٹ کے ججز کے ٹرانسفر پر جس ہائیکورٹ سے ٹرانسفر ہوکر جارہے اور جہاں سے جائیں گے ان دونوں کے چیف جسٹس عمل میں شامل ہوں گے جب کہ اگر کسی جج کو 2 سال سے زائد عرصہ تک ٹرانسفر ہوگا تو اس جج کی رضامندی شامل ہوگی۔
’شخصیات کیلئے نہیں ملک کیلئے ترمیم کررہے ہیں‘
ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشنز کا ابہام دور کیا گیا ہے، ابھی یہ تجاویز ہیں لیکن دو تہائی سے پاس کریں گے تو منظور ہوگا جب کہ بلوچستان سے کابینہ کا سائز 11 فیصد سے 13 فیصد کیا گیا ہے اور وزیر اعظم کے مشیران کی تعداد 5 سے 7 کی جارہی ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ اپوزیشن سے درخواست ہے قائمہ کمیٹی میں آکر اس ترمیم پر بحث کریں، اس نیت سے ترمیم کررہے ہیں کہ نظام چلے اور شفافیت آئے، کوئی چیف جسٹس آکر کسی کو بے لباس نہ کرے، ہسپتالوں میں چھاپے نہ مارے، شخصیات کے لیے نہیں ملک و قوم کے لیے ترمیم کررہے ہیں۔
27 ویں آئینی ترمیم کا مجوزہ مسودہ
آئین کے آرٹیکل243 میں سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا عہدہ تحلیل کرکے چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ تخلیق کیا گیا ہے، ایک تجویز کے مطابق فیلڈ مارشل کا عہدہ تاحیات رہے گا۔
ججز کے تبادلے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے سپرد کیے جانے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جج نے جس ہائیکورٹ سے ٹرانسفر پر جانا ہے اور جس ہائیکورٹ میں جانا ہے، ان کے چیف جسٹس بھی تبادلے کے عمل کا حصہ ہوں گے۔
مزید پڑھیں:طوطوں کی رجسٹریشن کا آغاز ، ڈیڈ لائن 5دسمبر
27 ویں آئینی ترمیم میں بلوچستان میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کی تجویز بھی دی گئی ہے، صوبائی کابینہ کے حجم میں اضافے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے، صوبائی کابینہ کے مشیران کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔
ایک وقت میں پورے سینیٹ کے انتخابات کرانے کے حوالے سے ترامیم بھی تجویز کی گئی ہیں، ایک تجویز کے مطابق فیلڈ مارشل کا عہدہ ’تاحیات‘ رکھنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
قبل ازیں آج وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس کی صدارت وزیراعظم نے ویڈیو لنک کے ذریعے باکو سے کی، قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) میں صوبوں کے حصے میں تبدیلی ایجنڈا میں شامل نہیں کیا گیا۔
کابینہ کی منظوری کے بعد وزیرِ قانون و انصاف نے میڈیا کو ترمیم کے خدوخال پر بریفنگ دی اور بتایا گیا کہ ترمیمی مسودہ آج سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں:کن افراد کو اب امریکا کا ویزا نہیں ملے گا؟جانیے
وزیر قانون نے کہا کہ ہم نے اتحادی جماعتوں سے مشاورت کی ہے، مشاورت کے بعد جن نکات پر اتفاق ہوا ان میں میثاق جمہوریت میں مجوزہ آئینی عدالت شامل ہے، بل میں تجویز ہے کہ ججز ٹرانسفر کا معاملہ جوڈیشل کمیشن کے سپرد کیا جائے گا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سینیٹ الیکشن تاخیر کا شکار ہوئے، سینیٹ کی مدت 6 برس ہے اور یہ تحلیل نہیں ہوتی، اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے متعلقہ شق میں ترمیم تجویز کی گئی ہے جس کے بعد ممبران کی مدت میں اگر کچھ عرصہ ضائع ہوا ہو تو وہ بھی مدت میں شامل ہوگا تاکہ ایک ساتھ الیکشن ہوسکے۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹے صوبوں کی شکایت تھی کہ کابینہ کا تھریش ہولڈ 11 فیصد رکھا گیا ہے جس سے وزارتیں پوری نہیں ہورہی ہیں، اب سے 13 فیصد کیا جائے گا تاکہ ایک وزیر کو زیادہ محکمے سنبھالنے نہ پڑے۔
وزیر قانون نے کہا کہ حالیہ پاک بھارت جنگ کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ فیلڈ مارشل کے عہدے کا آئین میں ذکر کرکے اسے تاحیات رہنا چاہیے، اسی طرح بحری اور فضائی افواج میں بھی متوازن ٹائٹل ہونے چاہئیں۔ ایم کیو ایم نے کچھ ترامیم تجویز کی تھیں، کوشش ہوگی کہ وہ بھی پاس ہوں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ترمیم کے نکات اپنی کمیٹی میں لے گئی اور جن چیزوں پر کمیٹی کا اتفاق ہوا ہمیں انہیں پارلیمان میں لانے کا کہا تاکہ اتفاق سے انہیں پاس کیا جائے، باقی نکات کو ابھی روکا جا رہا ہے۔