آسٹریلیا نے بی ایل اے کو دہشتگرد مان کر اس پر پابندی لگا دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) آسٹریلیا نے بلوچ دہشتگردوں کی تنظیم نام نہاد بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) پر دہشت گرد حملوں میں ملوث ہونے کے باعث پابندیاں عائد کر دیں۔
آسٹریلوی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق کالعدم بی ایل اے متعدد خودکش دھماکوں اور حملوں میں ملوث ہے۔
برطانیہ، پاکستان اور امریکہ سمیت کئی ممالک پہلے ہی اس دہشتگرد تنظیم کو دہشت گرد تسلیم کر چکے ہیں۔
آج آٹھ مئی کو آسٹریلیا کی کئی معروف نیوز ویب سائٹس نے آسٹریلین وزیر خارجہ پینی وانگ (Penny Wong) کے اس بیان کو رپورٹ کیا ہے جس میں آسٹریلیا نے بلوچ لبریشن آرمی (BLA) پر دہشت گردانہ حملوں کی وجہ سے پابندیاں عائد کی ہیں۔
نیوز ڈوٹ کوم آسٹریلیا نے اس نیوز ویب سائٹ نے رپورٹ کیا کہ آسٹریلیا نے بی ایل اے پر اس کے ہولناک حملوں کی وجہ سے پابندیاں لگائی ہیں جو سویلینز اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔
آسٹریلین سٹریٹیجک پالیسی انسٹی ٹیوٹ، دی سٹریٹیجسٹ کی ویب سائیٹ پر اس ادارے نے بی ایل اے کو دہشت گرد قرار دینے کے حوالے سے تفصیلی تجزیاتی رپورٹ شائع کی ہے۔
آسٹریلیا کی سرکاری قومی سلامتی کے ادارہ آسٹریلین نیشنل سکیورٹی کی ویب سائیٹ پر درج فہرست میں بھی بی ایل اے کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
آج اپنے بیان میں آسٹریلیا کی خاتون وزیر خارجہ پینی وانگ نے کہا کہ آسٹریلیا دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف اپنے عزم پر قائم ہے اور بی ایل اے پاکستان میں پرتشدد دہشت گرد حملوں میں ملوث رہی ہے۔
وزیر خارجہ پینی وانگ نے کہا کہ بی ایل اے نے پاکستان میں شہریوں، اہم تنصیبات، غیر ملکی شہریوں اور ریاستی اداروں کو دہشتگرد حملوں کا نشانہ بنایا۔ ان پابندیوں کا مقصد دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکنا ہے۔ ان پابندیوں کا مقصد دہشت گردوں کی کارروائیوں، بھرتیوں اور نظریات کے پھیلاؤ کو محدود کرنا بھی ہے۔
آسٹریلین میڈیا میں رپورٹ کیا گیا کہ آسٹریلین قانون کے تحت جس پر پابندی لگ چکی ہو، اس تنظیم کے اثاثوں کا استعمال یا اس تنظیم کو مالی مدد فراہم کرنا جرم شمار ہوتا ہے۔ ان قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے اور 10 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

آسٹریلین میڈیا میں یہ بھی بتایا گیا کہ دہشتگرد تنظیم بی ایل اے نے جنوری 2026 میں “آپریشن ہیروف 2.0” کے نام سے بلوچستان کے مختلف شہروں میں خودکش حملے اور مسلح کارروائیاں کیں، اس تنظیم پر غیر بلوچ افراد کے قتل، اجتماعی پھانسیوں اور انفراسٹرکچر پر بم حملوں کے الزامات بھی ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: بحرین میں ایرانی حکام کے ساتھ تعلقات رکھنے والے 14 افراد کو سزائیں