تھیٹر کا بدلتا منظرنامہ — خوف، احتیاط اور عدمِ مساوات کا نیا دور

تحریر: زین مدنی حسینی 

Nov 07, 2025 | 22:09:PM
تھیٹر کا بدلتا منظرنامہ — خوف، احتیاط اور عدمِ مساوات کا نیا دور
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

شہرِ لاہور کا تھیٹر جو کبھی قہقہوں، تالیوں اور فنونِ لطیفہ کی آزاد فضا کے لیے مشہور تھا، آج خوف، احتیاط اور نگرانی کے شکنجے میں جکڑا جا رہا ہے۔
پنجاب حکومت اور صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری کے حکم پر تھیٹرز کی سخت مانیٹرنگ، سی سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی اور اچانک چھاپوں نے پورے تھیٹر کلچر کا نقشہ بدل دیا ہے۔

پنجاب کونسل آف دی آرٹس کے احکامات کے تحت تھیٹرز میں اب ہر شو کے دوران کیمرے آن رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے،لیکن ان اقدامات کے بعد فنکاروں اور پروڈیوسرز دونوں میں بے چینی اور بداعتمادی پیدا ہو گئی ہے۔

پروڈیوسرز کا کہنا ہے کہ ان کے کاروبار میں تیزی سے کمی آئی ہے،شائقین کی دلچسپی گھٹ رہی ہے، اور تھیٹر کی روایتی رونق ماند پڑتی جا رہی ہے, اداکارائیں سب سے زیادہ دباؤ کا شکار نظر آتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اب وہ اپنی پرفارمنسز کو محدود کر چکی ہیں کیونکہ ذرا سا ایکسپریشن یا ڈانس کا انداز “غلط مطلب” نکال کر نوٹس کی شکل میں ان کے سامنے آ جاتا ہے۔

کئی اداکاراؤں نے الزام لگایا ہے کہ جو ویڈیوز انہیں پنجاب کونسل آف دی ارٹسچ کی جانب سے دکھائی جاتی ہیں، وہ پرانی ریکارڈنگز ہوتی ہیں،
اور ان پر موجود اعتراضات موجودہ پرفارمنس سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔

خواتین فنکاراؤں کا ایک اور بڑا شکوہ یہ ہے کہ مرد فنکار بھی غیر اخلاقی حرکات یا بولڈ انداز اختیار کرتے ہیں، مگر کارروائی صرف خواتین کے خلاف ہوتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی تھیٹر کو صاف ستھرا بنانا چاہتی ہے تو اصلاح سب کے لیے ہونی چاہیے، پابندیاں صرف خواتین پر نہیں,تھیٹر کو بہتر بنانا ہے تو مرد و خواتین سب کو ایک ہی پیمانے پر پرکھا جائے، کیونکہ اسٹیج سب کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے۔

یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ لاہور کے تھیٹرز میں اب ٹرانس جینڈر فنکاروں کی شمولیت نمایاں ہو چکی ہے, کئی معروف پروڈیوسرز نے انہیں بھاری معاوضوں پر سائن کرنا شروع کر دیا ہے،اور ان کی پرفارمنسز عوام میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔

تاہم فنکاروں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے ابھی تک ٹرانس جینڈر فنکاروں کے لیے کوئی واضح ایس او پیز (SOPs) متعارف نہیں کرائے, یہ فنکار نہ صرف تھیٹر ڈراموں میں کام کرتے ہیں بلکہ شادیوں، پرائیویٹ فنکشنز اور دیگر تقریبات میں بھی پرفارم کر کے خاطر خواہ کمائی کر رہے ہیں۔

ان کا تھیٹر ڈراما ہفتے بھر چلتا ہے اور وہ چند دنوں میں ہی بھرپور آمدنی حاصل کر لیتے ہیں مگر اس حوالے سے مانیٹرنگ یا ضابطے کا کوئی نظام موجود نہیں, ادھر حکومتِ پنجاب اور محکمہ ثقافت کا مؤقف بدستور وہی ہے.

تھیٹر میں خاندانی تفریح کو فروغ دینا، فحاشی کا خاتمہ اور فنونِ لطیفہ میں اخلاقی حدود کا قیام, ان کے مطابق سی سی ٹی وی مانیٹرنگ اسی مقصد کے لیے ہے تاکہ تھیٹر کی سمت درست کی جا سکے۔

تاہم تھیٹر کمیونٹی کا ماننا ہے کہ جب اصلاح کے نام پر خوف پیدا ہو جائے، تو فن دم توڑ دیتا ہے اگر مانیٹرنگ میں شفافیت نہیں ہوگی، اگر مرد و خواتین فنکاروں کے ساتھ یکساں سلوک نہیں کیا جائے گا اور اگر ٹرانس جینڈر فنکاروں کے لیے واضح قواعد نہ بنائے گئے،تو تھیٹر کا توازن بگڑتا چلا جائے گا۔

لاہور کا تھیٹر آج ایک نئے امتحان سے گزر رہا ہے, یہ جنگ ہے اصلاح اور آزادی کے درمیان ,جہاں ایک جانب حکومت اخلاقی حدود قائم کرنا چاہتی ہے،وہیں فنکار اپنی تخلیقی شناخت کے تحفظ کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں.

فن تبھی زندہ رہتا ہے جب اظہار کی آزادی سلامت ہو, اگر تھیٹر کے فنکار اپنی بات کہنے سے ڈرنے لگیں،تو سٹیج کا پردہ نہیں، اس کا مستقبل گرنے لگتا ہے۔