صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کا یوم دفاع و شہداء پر پیغام،مسلح افواج کو زبردست خراجِ تحسین

Sep 06, 2025 | 00:12:AM
صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کا یوم دفاع و شہداء پر پیغام،مسلح افواج کو زبردست خراجِ تحسین
کیپشن: فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)اسلامی جمہوریہ پاکستان کے  صدر آصف علی زرداری کاکہنا ہےکہ 6 ستمبر  یومِ دفاع و شہداء ہماری تاریخ کا ایک حوصلہ افزا باب ہے۔اس دن، ہم ایک قابلِ فخر قوم کے طور پر اپنی بہادر مسلح افواج اور ثابت قدم عوام کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے ہمیشہ اپنی سرحدوں کا غیر متزلزل ایمان اور بے مثال بہادری کے ساتھ دفاع کیا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نےاپنے پیغام میں کہا ہے کہ6 ستمبر ہماری قومی تاریخ میں بہادری، اتحاد اور عزم کے دن کے طور پر نقش ہے۔  ساٹھ سال قبل ہماری بہادر مسلح افواج نے عوام کے بھرپور تعاون سے دشمن کی جارحیت کو ناکام بناتے ہوئے ثابت کیا کہ پاکستان ایک بہادر قوم ہے جو اپنی خودمختاری اور سالمیت کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نےاپنے پیغام میں کہا ہے کہ ‎اس سال 6 ستمبر معرکہ ء حق کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتا ہے ، جیسے 1965 میں ہماری بہادر افواج نے بے مثال حوصلہ اور فرض شناسی  کا مظاہرہ کیا، اسی طرح مئی 2025 میں بھارت کے خلاف آپریشن "بنیان المرصوص" کے دوران ہمارے بہادر سپوتوں نے ایک بار پھر بے مثال جرأت اور جانفشانی کا مظاہرہ کیا۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت، جنگی صلاحیتیں اور زمینی، فضائی اور سمندری سطح پر جنگ کی  تیاریاں یہ ثابت کرتی ہیں کہ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے، کیونکہ اس کی بنیاد عوام کے ازلی جذبے اور مسلح افواج کی غیر متزلزل عزم پر ہے۔
‎بطور سپریم کمانڈر، میں پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو مسلسل اپ گریڈ کرنے اور جدید بنانے کے عزم کا اعادہ کرتا ہوں۔ اس دور میں، جہاں ہائبرڈ اور پانچویں نسل کی جنگیں، غلط معلومات، پروپیگنڈا اور نفسیاتی آپریشنز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، یہ ضروری ہے کہ ہم نہ صرف اپنی فوجی طاقت کو بڑھائیں بلکہ اپنے معلوماتی اور ابلاغی نظام کو بھی مستحکم کریں۔ ریاست کے ستون اور عوام، خاص طور پر ہماری نوجوان نسل، کو ان جدید خطرات کا مقابلہ حکمت، استقامت اور اتحاد کے ساتھ کرنے کے لیے چوکنا اور متحد رہنا ہوگا۔
‎جموں و کشمیر کا دیرینہ تنازعہ خطے میں عدم استحکام کی جڑ ہے۔ اس کا منصفانہ حل، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہو، خطے میں امن کا واحد راستہ ہے۔ مزید برآں، فلسطین کے دلخراش سانحے نے ہمیں فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی اور مظالم کے خاتمے کا مطالبہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔ دنیا کو فلسطین کی آزاد ریاست کے قیام کے لیے مضبوط موقف اختیار کرنا چاہیے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، کیونکہ یہ ہی مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کا واحد راستہ ہے۔
‎آئیے!آخر میں، اس یومِ دفاع و شہداء پر یہ عہد کریں کہ ہم ثابت قدم، باہمت اور متحد رہیں گے تاکہ شہداء کی قربانیوں کو توقیر ملے ، ہمارا دفاع ناقابل تسخیر رہے اور ہماری آئندہ نسلوں کو ایک مضبوط، خوشحال اور پرامن پاکستان ورثے میں ملے۔ شہداء کے خاندان ہماری عزت ہیں اور غازیوں کی قربانیاں ہماری مقدس امانت ہیں۔ ستمبر کا جذبہ ہمیشہ ہماری مسلح افواج کی بے خوفی اور ہماری قوم کی استقامت میں جھلکے گا۔ کوئی بھی چیلنج ہمیں خودداری اور خودمختاری کے راستے سے منحرف نہیں کر سکتا۔پاکستان کی مسلح افواج زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔۔!

 وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یوم دفاع کےموقع پر اپنے پیغام میں کہاہےکہ 6 ستمبر ہماری قومی تاریخ میں بہادری، اتحاد اور عزم کے دن کے طور پر نقش ہے۔  ساٹھ سال قبل ہماری بہادر مسلح افواج نے عوام کے بھرپور تعاون سے دشمن کی جارحیت کو ناکام بناتے ہوئے ثابت کیا کہ پاکستان ایک بہادر قوم ہے جو اپنی خودمختاری اور سالمیت کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔  1965 کا وہ ناقابل تسخیر جذبہ آج بھی زندہ ہے جیسا کہ حالیہ معرکہ حق میں ایک بار پھر ہماری مسلح افواج اور عوام بیرونی جارحیت کے خلاف آہنی دیوار کی طرح ایک ساتھ کھڑے رہے۔ہماری فوج، بحریہ اور فضائیہ نے بے مثال پیشہ ورانہ مہارت، جدید جنگی مہارتوں اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف کے تزویراتی وژن کے ذریعے دشمن کے تکبر کو اپنی پرعزم قوت سے کچلتے ہوئے نئی تاریخ رقم کی۔

آج کے دن ہم اپنے بہادر شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اپنے غازیوں کو، جن کی جرات آئندہ نسلوں کیلئے ایک مثال ہے۔ پاکستان دنیا کے ساتھ پرامن بقائے باہمی اور تعمیری روابط کی پالیسی پر کاربند ہے۔  اس کے باوجود ہم مسلسل بھارتی اشتعال انگیزیوں اور بدلتے ہوئے علاقائی تناظر کی حقیقت سے غافل نہیں رہ سکتے۔  ہم اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط اور جدید بنانے کے ساتھ ساتھ غیر ملکی  سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی اور اپنی سرحدوں میں سرگرم غیر ملکی پراکسیوں کے دوہرے خطرے کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔ ہماری بہادر مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی استقامت اور قربانیوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الھندوستان کی عفریت کو ختم کرنے میں بے پناہ پیش رفت کی ہے۔  اس مشن کی تکمیل تک قوم ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔

 آج کے دن، ہم ہندوستان کے غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر (IIOJK) کے مظلوم لوگوں کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں، جنہوں نے کئی دہائیوں کی وحشیانہ ریاستی دہشت گردی کو برداشت کیا ہے۔  ان کی جدوجہد آزادی کو طاقت سے دبایا نہیں جا سکتا۔  ہم فلسطین میں جاری مظالم کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں اور عالمی برادری پر زور دیتے ہیں کہ وہ اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے، شہریوں کے تحفظ اور غزہ کے لوگوں کو ضروری انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنائے۔قومی دفاع معاشی استحکام کے بغیر ممکن نہیں۔  ذاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر اور اجتماعی بھلائی کے لیے کام کرنے سے ہی ہم پائیدار خوشحالی اور خود انحصاری حاصل کر سکتے ہیں۔

 آئیے، اس یوم دفاع و شہدا پر  قائداعظم کے ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کے لازوال اصولوں کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کریں اور ایک محفوظ، متحد اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کے لیے مل کر محنت کرنے کا اعادہ کریں۔

 پاکستان مسلح افواج زندہ باد۔۔پاکستان پائندہ آباد۔۔!

یہ بھی پڑھیں:صدر مملکت آصف زرداری  اور وزیراعظم شہبازشریف کا 12 ربیع الاول کے موقع پر خصوصی پیغام