پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ہفتہ وار جائزہ لینے کی تجویز
عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے کے باعث پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 32روپےفی لیٹر بڑھنےکا خدشہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
( اشرف خان )مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا 15 دن کے بجائے ہفتہ وار جائزہ لینے کی تجویز پرغور شروع کردیا۔
وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں علاقائی کشیدگی کے باعث تیل کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں اور سپلائی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
اجلا س میں شرکاء کو بتایا گیا کہ آبنائے ہرمزکی بندش کے بعد تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، پی ایس او نے پیٹرول اور ڈیزل کے نئے درآمدی ٹینڈرز جاری کردیئے ہیں، ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کے وافر ذخائر موجودہیں اس کی قلت نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق سعودی عرب سے متبادل روٹ کے ذریعے تیل فراہمی کی درخواست بھی کی گئی ہے جس پرسعودی عرب نے متبادل روٹ کےذریعے تیل فراہم کرنے کی یقین دہائی بھی کرائی ہے۔
مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اورعالمی منڈی میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے کے باعث پاکستان میں بھی پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت پندرہ مارچ تک بتیس روپےفی لیٹر بڑھنےکا خدشہ ہے،کہاجارہاہے کہ پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 153 روپے50 پیسےسےبڑھ کر186روپے47 پیسےہونےکا امکان ہے،15مارچ تک ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 50 روپے سے زائد فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔
دوسری جانب پاکستان پٹرولیم ڈیلرزایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاہے کہ کمپنیاں جان بوجھ کر سپلائی متاثر کررہی ہیں،ابھی قلت نہیں ہے،اس سے پہلے ہی ذخیرہ اندوزی شروع ہوچکی ہے،پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کم دی جارہی ہے،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے،پٹرول 30سے40،اورڈیزل 80روپے تک مہنگاہونے کا خدشہ ہے۔
عالمی منڈی میں ہائی سپیڈڈیزل قیمت 93 ڈالر2 سینٹ سےبڑھ کر138 ڈالرفی بیرل پہنچنےکا امکان ہے، عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمت فی بیرل 79 ڈالر 14سینٹ سے بڑھ کر97 ڈالر92 سینٹ ہوجائےگی۔
واضح رہے کہ ایران اسرائیل جنگ کے باعث ملک میں ایندھن کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے اور تیل کمپنیوں نے پیٹرول پمپس کو تیل کی فراہمی محدود کر دی ہے ،حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت کے پیش نظر اضافی کارگوز کا بندوبست کرنے کیلئے متحرک ہوگئی ہے۔
آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے وزیراعظم کو خط لکھ کر نوٹس لینےکی اپیل بھی کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر او ایم سیز نے پیٹرولیم مصنوعات کا کوٹہ مقرر کر دیا ہے، آرڈرز میں بار بار تبدیلی اور منسوخی بھی شروع ہوگئی ہے، او ایم سیز کو مصنوعی قلت پیدا کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے سے روکا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:بسنت تہوارپورے پنجاب میں منایا جائے گا یا نہیں ؟عدالت کل فیصلہ سنائے گی
وزارت پیٹرولیم ذرائع کے مطابق پاکستان میں اس وقت 25 دن کا ایندھن موجود ہے ، او ایم سیز 20 دن کا ذخیرہ رکھنے کی پابند ہیں جبکہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے تناظر میں پاکستان نے 2 ماہ پہلے پیٹرولیم کا ذخیرہ بڑھانا شروع کیاتھا، جنوری میں او ایم سیز نے 25 دن کا ایندھن ذخیرہ کر لیا تھاجسے فروری میں مزید 3 دن بڑھایا گیا ۔