72 گھنٹوں میں انڈین ڈیم فل ہونے کا خدشہ، راوی میں پانی کی سطح بڑھنے لگی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز ) پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب کے حوالے سے تین وارننگز موصول ہوئیں اور چناب میں گزشتہ رات شدید سیلابی صورتحال نے بڑے چیلنجز کھڑے کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ فی الحال پانی کی سطح مستحکم ہے تاہم چناب میں سیلابی صورتحال سے پہلے سے متاثر اضلاع دوبارہ متاثر ہوں گے، پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر کے مطابق ستلج میں گذشتہ دو ماہ سے سیلابی صورتحال برقرار ہے جبکہ راوی میں جسڑ کے مقام پر پانی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اگلے 72 گھنٹوں میں تینوں انڈین ڈیم فل ہونے کی توقع ہے جبکہ تھین ڈیم پہلے ہی فل ہو چکا ہے جس کے باعث اگلے دو سے تین ہفتے راوی میں پانی کی سطح میں اضافہ متوقع ہے۔
خانیوال کے 136 اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے 75 دیہات متاثر ہو چکے ہیں، راوی کا پانی چناب میں شامل ہونے کے بجائے واپس آ رہا ہے جس کے باعث پانی کی سطح میں کمی نہیں آئی۔
احمد پور سیال میں پانی کی کمی تک سدھنائی میں بھی پانی کی سطح کم نہیں ہو گی، ہیڈ محمد والا اگلا بڑا چیلنج ہے جہاں چار سے پانچ فٹ پانی کی گنجائش موجود ہے جبکہ ملتان میں شیر شاہ بریج پر پانی کا دباؤ برقرار ہے اور دو فٹ کا مارجن باقی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق اب تک 3900 سے زائد موضع جات اور 37 لاکھ سے زائد افراد سیلاب سے متاثر ہو چکے ہیں۔ ملک بھر میں 409 فلڈ کیمپس قائم کیے گئے ہیں جن میں 25 ہزار سے زائد افراد موجود ہیں۔
اس کے علاوہ 14 لاکھ سے زائد افراد اور 10 لاکھ جانور محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں، اب تک 46 افراد سیلاب کے باعث ہلاک ہوئے ہیں اور 17 بریچنگ پوائنٹس نوٹیفائی کیے جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :شہباز شریف سیلابی صورتحال پر فکرمند،چیئرمین این ڈی ایم اے کو چین سے فون کرکے بریفنگ لی