فالس فلیگ کے سائے میں کچلا ہوا کشمیر

تحریر: سفیر رضا چغتائی 

May 04, 2025 | 18:53:PM
فالس فلیگ کے سائے میں کچلا ہوا کشمیر
کیپشن: فالس فلیگ کے سائے میں کچلا ہوا کشمیر
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

بھارت، جو کبھی خود کو جمہوریت، سیکولر ازم اور رواداری کا علمبردار کہلواتا تھا آج مودی حکومت کے دور میں ایک ایسے فاشسٹ ریاست کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں قانون کی حکمرانی کے بجائے نفرت، انتہا پسندی اور اقلیت دشمنی کا راج ہے۔ 

حالیہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن اسی مکروہ سوچ کی تازہ مثال ہے جس میں 26 ہندو شہریوں کی ہلاکت کو جواز بنا کر ایک بار پھر معصوم مسلمانوں کو نشانہ بنایا گی،یہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں، بلکہ ایک پرانی ریاستی حکمتِ عملی کا تسلسل ہے جس کا مقصد عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنا اور اندرونِ ملک نفرت کو ہوا دینا ہے،بھارت میں بسنے والے کروڑوں مسلمان آج اپنی ہی سرزمین پر اجنبی اور غیرمحفوظ محسوس کر رہے ہیں،آئینی تحفظات، جن میں مذہبی آزادی، جان و مال کا تحفظ، مساوی سلوک اور آزادانہ اظہار رائے جیسے حقوق شامل ہیں، صرف کاغذوں کی حد تک باقی رہ گئے ہیں۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ حقوق پامال ہو رہے ہیں  اور ریاستی مشینری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے،گلفان کا بہیمانہ قتل ہو یا سیف علی پر دن دہاڑے فائرنگ،یہ سب اس حقیقت کا مظہر ہیں کہ بھارت میں مسلمان ہونا ایک سنگین جرم سمجھا جا رہا ہے،ایسے میں جمہوریت صرف ایک دھوکہ بن کر رہ گئی ہے جس کے پردے میں اقلیتوں کو مسلسل دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔جب انتہا پسند عناصر، جیسے منوج چودھری، کھلے عام 2600 مسلمانوں کو قتل کرنے کا اعلان کرتے ہیں  اور پولیس یا عدلیہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی تو یہ کسی ایک شخص کی نہیں بلکہ پورے نظامِ انصاف کی ناکامی کا اعتراف بن جاتا ہے ، قانون  جس کا مقصد کمزور کو تحفظ دینا تھا  آج طاقتور کے ظلم کو تحفظ دے رہا ہے، یہی وہ صورتحال ہے جو فاشسٹ نظاموں کی پہچان بنتی ہے ، جہاں سچ بولنے والا غدار اور ظلم سہنے والا مجرم ٹھہرتا ہے۔

 بھارت کے زیر تسلط مسلم اکثریتی علاقوں خاص طور پر جموں و کشمیرمیں صورتحال اور بھی سنگین ہے،وہاں فوجی محاصرے، کرفیو، اور آزادی اظہار پر پابندیاں معمول کی بات بن چکی ہیں،ہر روز بھارتی فورسز سرچ آپریشنز کے نام پر نہتے کشمیریوں کے گھروں میں گھس کر تشدد کرتی ہیں، نوجوانوں کو بلاجواز گرفتار کر لیا جاتا ہے، خواتین کی بے حرمتی ہوتی ہے اور بچوں کو خوف و ہراس میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا جاتا ہے، کئی مرتبہ ایسے نوجوان ”لاپتہ“ کر دیے جاتے ہیں جن کا کوئی اتا پتا بعد میں نہیں  ملتا  اور یہ سب کچھ عالمی خاموشی کے سائے میں جاری ہے،ان مظالم کی ایک اور بھیانک شکل وہ غیر انسانی اقدامات ہیں جو بھارت نے اُن کشمیری خواتین کے ساتھ روا رکھے جو آزاد کشمیر سے شادی کے بعد مقبوضہ کشمیر میں اپنے شوہروں اور سسرال کے ساتھ رہنے چلی آئیں،ان خواتین کو بھارتی فورسز نے زبردستی ان کے بچوں، شوہروں اور خاندان سے جدا کیا، حراست میں لیا اور بعد ازاں سرحد پار جبراً پاکستان واپس بھیجنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے،یہ اقدام نہ صرف انسانی ہمدردی اور خاندانی نظام کی توہین ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور عورتوں کے بنیادی تحفظات کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ایک ماں کو اس کے بچوں سے، ایک بیوی کو اس کے شوہر سے زبردستی الگ کرنا محض ایک سیاسی انتقام نہیں بلکہ اخلاقی پستی کی آخری حد ہے۔
 ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تمام مظالم اب عالمی ضمیر کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ بن چکے ہیں،اگر مہذب دنیا واقعی انسانی حقوق، انصاف اور جمہوریت کے دعوے میں سنجیدہ ہے تو اسے اب خاموش نہیں رہنا چاہیے،اقوام متحدہ، او آئی سی، یورپی یونین اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر یہ اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی، مذہبی انتہا پسندی اور مسلم دشمنی کو بے نقاب کریں،بھارت کو مجبور کیا جائے کہ وہ فالس فلیگ آپریشنز بند کرے، کشمیر میں انسانی حقوق بحال کرے اور اقلیتوں کے خلاف ظلم و ستم کا سلسلہ روکے،پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز مہم جوئی کا خاتمہ ضروری ہے تاکہ جنوبی ایشیا میں امن کو یقینی بنایا جا سکے۔

اگر عالمی برادری نے وقت پر آواز نہ اٹھائی تو یہ خطہ ایک بڑی جنگ کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے جس کے اثرات صرف پاکستان یا بھارت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔ مودی حکومت کے زیر سایہ بھارت کا چہرہ جمہوریت سے فاشزم کی طرف مڑ چکا ہے، اور اب مزید تاخیر تاریخ میں ایک خاموش جرم کے طور پر یاد رکھی جائے گی،ظلم کے خلاف خاموشی، ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہوتی ہے اور یہ خاموشی اب ٹوٹنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: ایوبیہ سے راولپنڈی جانے والی کوسٹر الٹ گئی، ایک شخص جاں بحق، 13زخمی