بھارت سندھ طاس معاہد ے کی پاسداری کرے:پاکستانی انڈس واٹر  کمشنر

Sep 03, 2025 | 22:55:PM
بھارت سندھ طاس معاہد ے کی پاسداری کرے:پاکستانی انڈس واٹر  کمشنر
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(اویس کیانی )پاکستانی انڈس واٹر کمشنر نے 24 نیوز سے اہم گفتگو  کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی انڈس واٹر کمشنر نے ہمیں کوئی پیشگی اطلاع یا فلڈ ڈیٹا نہیں دیا ہے ۔

بھارتی ہائی کمیشن نے وزارت خارجہ کو  سیلابی پانی کا بتایا لیکن اس کا اصل ڈیٹا نہیں دیا اور بھارت نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے کیوسک پانی چھوڑا جا رہا ہے۔

پاکستانی انڈس واٹر   کمشنرنے مزید  کہا  کہ سندھ طاس معاہدہ فعال ہے اور بھارت کو یہی بتا رہے ہیں کہ وہ اس معاہدے کی پاسداری کرے ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ میں سیلابی صورتحال سے زیادہ نقصان نہیں ہو گا ،کیوں کہ دریاؤں میں پانی کا لیول کم ہونا شروع ہو گیا ہے۔

 26 اگست سے دو دن پہلے تک بھارتی ڈیمز کے بعد والے راستوں میں ہونے والی بارشوں کا پانی آیا ہے،اب جو سیلابی ریلے آ رہے ہیں وہ بھارتی ڈیمز کے سپل ویز کھلنے کے بعد کا پانی آ رہا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے تمام بیراج محفوظ ہیں کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوا ہے، بیراجوں کے ساتھ  کنٹرول بند توڑے گئے وہ ہمارے بیراجوں کے آپریشن کا حصہ ہوتے ہیں۔

چناب میں ساڑھے 5 لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا آیا ، اب 4 لاکھ 65 ہزار کیوسک پر آ گیاہے،جہلم اور سندھ کے علاوہ تمام دریاؤں میں سیلابی صورتحال موجود ہے اور  پنجاب میں اگلے 7 روز تک سیلابی صورتحال یہی رہے گی۔

صوبہ سندھ میں گڈو بیراج پر 7 لاکھ کیوسک سے زیادہ پانی داخل ہو گا  اور  پانی ڈسچارج کی صلاحیت اس کی مقدار سے زیادہ ہوگی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے پانی ذخائر کے حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مل کر کام کرنے پر زور دیا  اور یہ بھی کہا کہ ہمیں پانی کی سٹوریج پر کام کرنا ہے۔

وزیراعظم  نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کو ختم یا معطل نہیں کیا جا سکتا ، معاہدے کے تحت ہی دونوں ممالک کی ہیڈرولوجییکل تعلقات قائم رہنے چاہئیں۔

واضح رہے کہ  سیلابی واقعات میں اب تک 881 افراد جاں بحق اور 1174 زخمی ہوئے ہیں،سب سے زیادہ جانی نقصان پنجاب میں ہوا ہے، جہاں 223 افراد جاں بحق اور 648 زخمی ہوئے۔