گائے کے نام پر مسلمانوں کو مارتےہو،انڈین جج کی ہندوؤں کوگالی

Jun 03, 2025 | 16:03:PM
گائے کے نام پر مسلمانوں کو مارتےہو،انڈین جج کی ہندوؤں کوگالی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(سجاداظہرپیرزادہ)کوئی کیا کھائے اور کیانہ کھائے؟اگر اس بات کا فیصلہ جتھےکرنےلگیں تو وہ ریاست جمہوری ریاست نہیں کہلاتی، وہ معاشرہ مہذب معاشرہ نہیں کہلاتا،آج یہی سب ہندوستان میں اُس معاشرے میں ہورہاہے،جس کو گنگاجمناتہذیب پکارتے لکھتے ہوئےایک شاندارجمہوری،انسانیت پسند سماج قراردیاجاتارہا۔

مگرآج اُسی ہندوستان میں اس بات کا فیصلہ ایک مذہب کے بعض انتہاپسند افراد اپنے ہاتھ میں لینے لگے ہیں کہ اُن کے ہم وطن مسلمان کیا کھائیں؟ اورجوکھائیں ان کی اجازت سے کھائیں۔لیکن اِن انتہاپسند ہندئوں کی دھجیاں اِن ہی کے دھرم کے معرف انڈین جج جسٹس مارکینڈے کاٹجو نے اُڑادی ہیں۔

مارکینڈے کاٹجونے 24 ڈیجیٹل کےیوٹیوب چینل 24ڈیجیٹل کو انٹرویودیتےہوئےکہاہےکہ جو ہندومسلمانوں کو گائے کے نام پر مارتےہیں وہ ۔۔۔ہیں۔یہ انٹرویو قارئین یوٹیوب چینل 24 ڈیجیٹل پر دیکھ سکتےہیں،جس کا لنک یہاں شیئر کر دیا گیا ہے،سابق بھارتی جج نے ہمارےسوال کے جواب میں کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ گائے ان کی ماتا ہےاس پر بھی انہوں نے ایسے افراد کیلئےانتہائی غضناب الفاظ کا چناؤ کیا ہے۔

سابق بھارتی ہندوجج سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ بھی گائے کا گوشت کھاتے ہیں؟تو ان کا یہ جواب بھی سننے کےلائق ہے،جو دلچسپی سے بھرپور بھی ہے،انڈین جج نے اس بارے میں بھی کھل کر تفصیل بتائی ہے کہ کس طرح سے علی گڑھ یوپی میں چار مسلمانوں کو گائے کے گوشت کے نام پر مارا گیاتھا،حالانکہ مہمان جج کے مطابق وہ گوشت گائے کا نہیں تھا،یہ گوشت کس کا تھااور تشدد کرنے والے انتہاپسندہندئوں نے مسلمانوں سےکتنی رقم کا مطالبہ کیا تھا،اس واقعہ کے اصل حقائق کو بھی بھارتی جج نےخوب بےنقاب کیاہے۔مزیدجانیے یوٹیوب چینل 24ڈیجیٹل پر۔