بنگلہ دیش میں بی این پی رہنما فائرنگ سے جاں بحق، تحقیقات شروع
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 ںیوز )بنگلہ دیش کے جنوب مغربی ضلع جیسور میں ہفتے کی شام اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے ایک مقامی رہنما کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا، جس کے بعد واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
پولیس اور اہلِ خانہ کے مطابق مقتول عالمگیر حسین جیسور میونسپلٹی کے تحت بی این پی کی وارڈ نمبر 7 یونٹ کے جوائنٹ جنرل سیکریٹری تھے اور اس سے قبل سٹی بی این پی کمیٹی کے رکن بھی رہ چکے تھے۔
وہ موٹر سائیکل پر گھر واپس جا رہے تھے کہ ایک مقامی سکول کے قریب نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کر دی اور موقع سے فرار ہو گئے،عالمگیر حسین کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا، ہسپتال ذرائع کے مطابق انہیں سر پر گولیوں کے مہلک زخم آئے تھے۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (کرائم) ابوالبشر نے بتایا کہ پولیس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے اور سیاسی و کاروباری پہلوؤں سمیت تمام ممکنہ محرکات کی جانچ کی جا رہی ہے۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے، جبکہ تاحال ملزمان کی شناخت نہیں ہو سکی۔
سینیئر بی این پی رہنماؤں نے ہسپتال کا دورہ کیا اور اس قتل کو اپوزیشن کارکنوں کے خلاف منظم تشدد قرار دیتے ہوئے اسے قابلِ مذمت اور غیر جمہوری عمل کہا۔
اہلِ خانہ اور مقامی افراد کے مطابق عالمگیر حسین ایک پُرامن طبیعت کے انسان تھے اور زمین کی خرید و فروخت کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ ان کے بھائی نے بتایا کہ خاندان اس واقعے پر شدید صدمے میں ہے اور انصاف کا مطالبہ کرتا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ذمہ داروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں :مظاہرین کے معاشی مطالبات جائز ہے؛آیت اللہ خامنہ ای