مظاہرین کے معاشی مطالبات جائز ہے؛آیت اللہ خامنہ ای

Jan 03, 2026 | 17:37:PM
 مظاہرین کے معاشی مطالبات جائز ہے؛آیت اللہ خامنہ ای
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک بھر میں جاری احتجاج کے دوران مظاہرین کے معاشی مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی اور معاشی جمود کے خلاف آواز اٹھانا قابلِ فہم ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ تشدد اور بدامنی پھیلانے والوں کے ساتھ سختی کی جائے گی۔

ایک مذہبی تقریب سے خطاب میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ حکومت اور اعلیٰ حکام پابندیوں سے متاثرہ معیشت کے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،ان کے مطابق تاجروں اور دکانداروں کا معاشی حالات پر احتجاج  بالکل درست ہے مگر یہ بھی واضح کیا کہ پرامن مظاہرین سے بات چیت ہونی چاہیے جبکہ  شرپسندوں سے مکالمہ بے فائدہ ہے۔

یہ احتجاج اتوار کو مہنگائی اور معاشی بدحالی کے خلاف شروع ہوا تھا  جو اب دو درجن سے زائد شہروں تک پھیل چکا ہے اور بعض مقامات پر سیاسی نعرے بھی سننے میں آئے ہیں،سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں  جن میں سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔

سرکاری میڈیا کے مطابق مغربی ایران کے شہر ہرسین میں ایک مظاہرے کے دوران نیم فوجی تنظیم بسیج کا ایک رکن ہلاک ہوا  جبکہ قم میں ایک شخص دھماکے کے نتیجے میں جان سے گیا،جھڑپوں اور توڑ پھوڑ کے واقعات زیادہ تر مغربی اور جنوب مغربی علاقوں کے درمیانے درجے کے شہروں میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

دارالحکومت تہران میں جمعہ کو کچھ ورکنگ کلاس علاقوں میں مظاہرے ہوئے  تاہم ہفتے کے روز سرکاری تعطیل کے باعث شہر نسبتاً پُرسکون رہا ،بعض شہروں میں محدود تعداد میں افراد نے سڑکیں بند کرنے اور پرتشدد کارروائیوں کی کوشش کی جس پر حکام نے کارروائی کی۔

حکام کا کہنا ہے کہ معاشی مطالبات پر بات چیت کے لیے دروازے کھلے ہیں مگر ملک میں عدم استحکام اور تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا، مبصرین کے مطابق یہ احتجاج 2022 کے ملک گیر مظاہروں کے مقابلے میں محدود ہے تاہم اس نے ایک بار پھر ایران میں معاشی دباؤ اور عوامی بے چینی کو نمایاں کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں ؛  پاکستان کے کنتے فیصد گھرانوں کو موبائل کی سہولت میسر ہے؟اعدادوشمار جاری