عدالت کی مداخلت کی ضرورت نہیں;وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل کیس کا فیصلہ جاری کر دیا

Feb 03, 2026 | 22:14:PM
عدالت کی مداخلت کی ضرورت نہیں;وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل کیس کا فیصلہ جاری کر دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(امانت گشکوری)وفاقی آئینی عدالت  نے صحافی ارشد شریف  کے  کینیا میں قتل کے متعلق  از خود نوٹس کیس کا فیصلہ جاری کر دیا۔ فیصلہ میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ اس معاملہ میں عدالت کی مداخلت کی ضرورت نہیں۔ 

وفاقی آئینی عدالت نے  ارشد شریف کے کینیا میں قتل کے متعلق از خود نوٹس کیس اور دیگر درخواستوں  کی سماعت مکمل کر کے 14 جنوری 2026 کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

آج عدالت نے  14 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا۔ 

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لئے پاکستان اور کینیا کی حکومتیں مناسب اقدامات اٹھا رہی ہیں۔ اس معاملہ میں عدالت کی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔ 

آج سنایا گیا فیصلہ وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس عامر فاروق نے تحریر کیا ۔  14 جنوری 2026 کو کیس کی سماعت مکمل کی گئی تھی اور فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیئے: پاکستان نے امریکہ ایران مذاکرات میں دعوت ملنے  کی تصدیق کردی 

آج اپنے فیصلہ میں وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ پاکستان اور کینیا کے درمیان تحقیقات مین تعاون کی غرض سے  ایم ایل اے پر دستخط ہو چکے ہیں۔  پاکستان اور کینیا کی حکومتیں مناسب اقدامات اٹھا رہی ہیں۔  تحقیقات کا عمل متعلقہ حکومتی اور قانونی فورمز پر جاری ہے، جس میں عدالتی مداخلت فی الوقت ضروری نہیں۔

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلہ مین لکھا کہ ہم ارشد شریف کے قتل پر صحافتی برادری اور پاکستانیوں کے  دکھ کوسمجھتے ہیں۔  ورثا کسی بھی معاملے پر متعلقہ عدالتوں سے رجوع کر سکتے ہیں۔ 

وفاقی آئینی عدالت  نے فیصلہ میں کہا کہ  از خود نوٹس اور تمام متعلقہ درخواستیں نمٹائی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دو لوگوں کی موجودگی میں بانی کا طبی معائنہ کروایا جائے، آٹھ فروری کو پاکستان بند کریں گے، علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو

آئینی عدالت کے فیصلے میں لکھا گیا کہ تحقیقات کی نگرانی یا معاملہ کو  زیر التوا رکھنا ملزم کے حقوق اور شفافیت کے منافی ہے۔

بین الاقوامی فورمز پر جانے کا معاملہ حکومت کی صوابدید اور خارجہ پالیسی پر منحصر ہے۔

 وفاقی آئینی عدالت نے نوٹ کیا کہ خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی اب تک کی کاروائی پر کسی فریق نے اعتراض نہیں کیا۔ ملزمان کی گرفتاری اور ان کو پاکستان لا کر پاکستان میں ٹرائل کیلئے بلیک وارنٹ جاری کیے جا چکے ہیں،وفاقی آئینی عدالت  نے قرار دیا کہ تحقیقات میں تیزی کینیا کیساتھ سفارتی ہم آہنگی اور خود مختار ریاستوں کے قوانین کے تابع ہے۔