پتنگ بازی کی مشروط اجازت، قواعد پر کیسےعمل درآمد ہو گا؟

Dec 03, 2025 | 19:11:PM
پتنگ بازی کی مشروط اجازت، قواعد پر کیسےعمل درآمد ہو گا؟
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)پنجاب حکومت نے پتنگ بازی کی مشروط اجازت دی ہے وہیں کئی حلقوں کا کہنا ہے کہ ضرورت ہے کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ قواعد و ضوابط کے تحت پتنگ بازی ہو۔

ماضی میں بھی حکومت نے پتنگ بازی پر پابندی کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے تھے،اس پر پابندی کے قانون کی منظوری کے بعد لاہور سمیت صوبہ بھر میں انسداد پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی پر درجنوں مقدمات درج کیے گئے اور پتنگ فروخت کرنے پر والوں کے گوداموں پر چھاپے مارے۔

پتنگ بازی پر پابندی کیوں عائد کی گئی؟

اس مرتبہ بھی حکومت کا کہنا ہے کہ مشروط اجازت کے تحت اب بھی پتنگ بازی کے قواعد کی خلاف ورزی کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے,آرڈینس کے تحت بغیر حکومتی اجازت کے پتنگ اڑانے پر تین سے پانچ سال قید ہو سکتی ہے جبکہ جیل کے ساتھ زیادہ سے زیادہ بیس لاکھ تک جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔

آرڈینس کے تحت تیر دھار منجھا یا ڈور جیسے عموماً کیمیکل اور شیشہ پیس کر بنایا جاتا سے اُس کے استعمال کو ممنوع قرار دیا گیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو کم سے کم پانچ اور زیادہ سے زیادہ سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ پچاس لاکھ جرمانہ بھی ادا کرنا پڑے گا,بغیر اجازت یا ری جسٹریشن کروائی بغیر پتنگ بازی، تیاری، فروخت، نقل و حمل پر 5 لاکھ سے 50 لاکھ تک جرمانہ ہو گا۔

پاکستان میں پتنگ بازی کی مخالفت میں اضافہ اُس وقت شروع ہوا جب جدت اور مقابلے بازی کی دوڑ نے اس شوق کو باقاعدہ ٹورنامنٹس میں تبدیل کر دیا۔ایسے میں جب آپس کے مقابلے سخت ہوئے تو پھر زور آزمائی کے لیے تکنیک سے زیادہ جدت پر انحصار کرتے ہوئے ایسی ڈور بنائی گئیں اور استعمال کی گئیں جن میں دھاگے کے بجائے کیمیل دھات اور شیشے استعمال ہونے لگی اور پھر یہی پتنگ بازی کی پابندی کی وجہ بنے۔

جان لیوا حادثات کے سبب حکومتِ وقت نے بسنت کا تہوار منانے کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے پتنگ بازی پر سختی سے پابندی عائد کر دی۔پنجاب میں  2006 میں اس وقت کی صوبائی حکومت نے پہلی مرتبہ پتنگ بازی اور بسنت منانے پر پابندی عائد کی اور اسے بعد ازیں 2007 میں قانونی شکل دی گئی اور چند برس قبل حکومت پنجاب نے پتنگ بازی کے قوانین میں مزید سختی کرتے ہوئے پتنگ بازی اور پتنگ سازی کو قانوناً جرم قرار دے دیا ہے۔

اس حوالے سے پنجاب اسمبلی سے پتنگ بازی کی ممانعت کا ترمیمی بل 2024 منظور ہونے سے صوبے میں پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد ہو گئی ہے۔اس قانون میں ترمیم کے بعد پتنگ بازی کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے۔ پتنگ اڑانے والے کو تین سے پانچ سال قید یا 20 لاکھ جرمانہ یا دونوں کی سزا ہو گی۔اسی طرح پتنگ بازی، تیاری، فروخت، نقل و حمل پر 5 لاکھ سے 50 لاکھ تک جرمانہ عائد کیا گیا۔ پابندی کا اطلاق پتنگوں ، دھاتی تاروں، نائلون کی ڈوری، تندی، پتنگ بازی کے لیے تیز دھار مانجھے کیساتھ تمام دھاگوں پر ہو گا۔

برصغیر میں بسنت کا تہوار کیسے شروع ہوا؟

کھیتوں میں سرسوں جب پھولتی ہے اور ہریالی کے پس منظر میں پیلے پھولوں کی بہار دکھاتی ہے تو اس کھلتے موسم کو خوش آمدید کہنے کا نام ’بسنت‘ ہے۔ موسم سرما سے موسم بہار میں داخل ہوتے خوشگوار موسم کا سواگت کرنے کے لیے پنجابی کیلینڈر کے مہینے ماگھ کی پانچ تاریخ کو ایک جشن کا اہتمام کیا جاتا جو کہ ’بسنت پنچمی‘کہلاتا ہے۔

بسنت برصغیر پاک و ہند کے علاقے پنجاب کا ایک موسمی اور ثقافتی تہوار رہا ہے۔ برصغیر میں بسنت کا تہوار یوں تو صدیوں سے منایا جاتا رہا لیکن اسے مقبولیت انیسویں صدی میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانے میں ملی جب اسے پوری شان و شوکت سے منایا گیا۔

امرتسر، قصور اور لاہور میں بسنت زور و شور سے منائی جاتی تھی، خوب پتنگ بازی ہوتی، مہاراجہ خود پتنگ بازی کرتے اور عوامی میلوں کو اپنی شمولیت سے خوشی بخشتے تھے۔ سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور گورداسپور میں بڑے میلے لگتے تھے جن میں لوگ جوش و خروش سے شامل ہوتے۔
برصغیر میں پنجاب کی حکومت جب انگریزوں نے سکھوں سے چھین لی تو بہت سی تمدنی و ثقافتی روایات دم توڑ گئیں یا مدھم پڑ گئیں، تاہم بسنت چونکہ موسمی تہوار تھا اور خاص و عام میں مقبول تھا اس لیے زندہ رہا۔

قیامِ پاکستان کے بعد بھی بسنت نے علاقائی رنگ جمائے رکھا اور پنجاب میں پیلی سرسوں کے پھوٹتے ہی آسمان پر رنگی برنگی پتنگیں چھا جاتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں :سعودی بری افواج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فہد بن سعود کی جی ایچ کیو راولپنڈی آمد