صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چودھری انتقال کر گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(حاشر احسن وڑائچ) صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چودھری انتقال کر گئے۔
تفصیلات کے مطابق بیرسٹر سلطان محمود چودھری طویل علالت کے بعد اسلام آباد میں وفات پا گئے۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی عمر 71 برس تھی۔
بیرسٹر سلطان محمود چودھری کی نماز جنازہ کل بروز اتوار ادا کی جائے گی۔ان کی نماز جنازہ سہ پہر 3 بجے آبائی گاؤں چیچیاں، میرپور میں ہوگی۔
صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا پروفائل
بیرسٹر سلطان محمود چودھری 9اگست 1955ء کو چیچیاں میرپور ازاد کشمیر میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں چیچیا ں میر پور میں حاصل کی جبکہ میٹرک کینٹ پبلک سکول راولپنڈی سے کیا جبکہ گریجویشن گورڈن کالج راولپنڈی سے کیا ۔بعدازاں وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے جہاں سے انہوں نے معروف قانونی درسگاہ لنکنن ان سے قانون کی اعلی ڈگری بار ایٹ لا کیا ۔جبکہ 1983ء میں وہ برطانیہ سے واپس وطن واپس آئے اور عملی سیاست کا آغاز کیا۔
بیرسٹر سلطان محمود چودھری سابق صدر آزاد کشمیر کے ایچ خورشید کے ہمراہ آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر رہے جبکہ 1990ء میں وہ صدر کے عہدے کے لیے منتخب ہوئے تاہم عمر میں ایک ماہ کی کمی کے باعث وہ اس وقت صدر منتخب نہ ہو سکے جبکہ بعد ازاں 1996ء میں وہ آزادجموں وکشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوئے ۔اسی طرح 2001 میں وہ آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر فائز رہے ۔جبکہ وہ اپنے آبائی حلقے میرپور سے 9بار ممبر اسمبلی منتخب ہوۓ۔ جبکہ وہ صدرآزاد مسلم کانفرنس ,صدرلیبریشن لیگ آزاد کشمیر, صدرپیپلز پارٹی آزاد کشمیر,صدرپاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے عہدوں پر بھی فائز رہے ۔وہ2021ء میں آزاد کشمیر کے صدر منتخب ہوئے ۔
بیرسٹر سلطان محمود چودھری نے عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو جارحانہ اور موثر انداز میں اجاگر کیا۔انہوں نے اقوام متحدہ ،امریکی وزارت خارجہ سمیت مختلف ممالک کی پارلیمنٹس میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک میں کشمیریوں کے مظاہروں قیادت کی جبکہ انہوں نے لندن کے ٹرافلگر اسکویئر ,نیویارک میں اقوام متحدہ کے دفترکےسامنے ,مسلز میں یورپی یونین اور یورپی پارلیمنٹ کے سامنے ,ڈبلن میں آئرلینڈ کی پارلیمنٹ کے سامنے سمیت میں دیوار برلن پر شاندار ملین مارچز کی قیادت بھی کی ۔
انہوں نے سفارتی سطح پر اسلام آباد میں تعینات یورپی اور اسلامی ممالک کے سفیروں سے بے شمار ملاقاتیں کی اور انہیں مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر بارہا بریفنگ بھی دی ۔وہ آزاد کشمیر کے واحد لیڈر تھے جنہیں مقبوضہ کشمیر کے دورے کا شرط بھی حاصل ہوا۔مقبوضہ کشمیر کے دورے کے دوران انہوں نے سری نگر کے تاریخی لال چوک میں کشمیری عوام سے خطاب بھی کیا اسی طرح دورہ سری نگر کے دوران انہوں نے چیئرمین آل پارٹیز کانفرنس سید علی گیلانی، سید شبیر شاہ ,چیئرمین آزاد جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یاسین ملک سمیت متعدد کشمیری لیڈروں سے ملاقاتیں بھی کی، ان کا سری نگر کا یہ دورہ خاصی تاریخی اہمیت کا حامل رہا ۔مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں ۔وہ آزاد کشمیر کے واحد سیاستدان ہیں جنہیں آزاد کشمیر کے ہر حلقہ میں عوامی مقبولیت اور ووٹ بینک حاصل ہے ۔
یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کی چھٹی ختم !