کبوتر منزل تک کیسے پہنچتے ہیں؟   دلچسپ حقیقت سامنے آگئی

May 30, 2026 | 12:43:PM
کبوتر منزل تک کیسے پہنچتے ہیں؟   دلچسپ حقیقت سامنے آگئی
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)کبوتروں کی غیرمعمولی صلاحیت کہ وہ سینکڑوں کلومیٹر دور سے بھی اپنا راستہ تلاش کر لیتے ہیں، یہ صلاحیت طویل عرصے سے سائنس دانوں کے لیے ایک معمہ بنی ہوئی تھی, اب ایک نئی تحقیق نے اس راز کے بارے میں ایک حیران کن انکشاف کیا ہے، جس کے مطابق کبوتروں کے جگر میں موجود مخصوص خلیات ان کی سمت شناسی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

دنیا بھر کے جانور اپنے راستے تلاش کرنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں، بعض جانور ستاروں کی مدد لیتے ہیں جبکہ کچھ اہم نشانیوں کو یاد رکھتے ہیں, پرندے، مچھلیاں اور کچھوے زمین کے مقناطیسی میدان کو ایک قدرتی کمپاس کے طور پر استعمال کرتے ہیں، لیکن سائنس دان اب تک پوری طرح یہ نہیں سمجھ سکے کہ یہ عمل دراصل کیسے ہوتا ہے,کبوتر ان پرندوں میں شامل ہیں جو طویل فاصلے طے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ ایک ہی دن میں سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کر سکتے ہیں, ہزاروں سال سے انسان کبوتروں کو خبریں، خطوط اور فوجی پیغامات پہنچانے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں، اسی وجہ سے ان کی سمت شناسی کی صلاحیت ہمیشہ تحقیق کا مرکز رہی ہے۔

 ماضی میں بعض ماہرین کا خیال تھا کہ کبوتر اپنی آنکھوں میں موجود روشنی کے حساس مالیکیولز کے ذریعے مقناطیسی اشاروں کو محسوس کرتے ہیں, کچھ دیگر سائنس دانوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ یہ صلاحیت چونچ یا اندرونی کان میں موجود کسی نظام سے وابستہ ہو سکتی ہے,جرمنی میں میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل بیہیویئر سے وابستہ سائنس دان مارٹن ویکلسکی کے مطابق مقناطیسی حس تقریباً ایک صدی سے سائنس کے لیے ایک پراسرار موضوع بنی ہوئی ہے,نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے کبوتروں کے مختلف اعضا کا جائزہ لیا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ مقناطیسی اشارے کہاں محسوس کیے جاتے ہیں,حیران کن طور پر سب سے مضبوط مقناطیسی اشارہ جگر میں پایا گیا۔

مزید پڑھیں:ٹِنڈ نےجدید ٹیکنالوجی کو چکرا کر رکھ دیا ، مزدور کا حاضری لگانے کیلئے انوکھا جگاڑ

تحقیق کے مطابق کبوتروں کے جگر میں موجود مخصوص مدافعتی خلیات پرانے سرخ خون کے خلیات کو توڑتے ہیں اور آئرن کو ذخیرہ کرتے ہیں, سائنس دانوں نے تجرباتی طور پر ان مدافعتی خلیات کو عارضی طور پر غیر فعال کیا اور پھر کبوتروں کو اڑایا, نتائج سے معلوم ہوا کہ پرندے اپنا راستہ تلاش کرنے میں شدید مشکلات کا شکار ہو گئے,جرمنی کی یونیورسٹی آف بون سے تعلق رکھنے والے محقق کرسچین کرٹس کا کہنا ہے کہ جب یہ خلیات موجود نہیں تھے تو کبوتر درست سمت کا تعین نہیں کر پا رہے تھے,اس سے یہ امکان پیدا ہوا کہ جگر میں موجود آئرن سے بھرپور خلیات ان کی سمت شناسی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

 تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ کبوتروں کا مقناطیسی کمپاس زیادہ تر ابر آلود دنوں میں متاثر ہوتا ہے, اس کی وجہ یہ ہے کہ کبوتر راستہ تلاش کرنے کے لیے سورج کی روشنی کو بھی بطور رہنما استعمال کرتے ہیں, صاف موسم میں وہ سورج کی مدد سے اپنی سمت برقرار رکھ سکتے ہیں، لیکن بادلوں کی موجودگی میں مقناطیسی نظام کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔