3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں چیلنج

Apr 30, 2026 | 12:20:PM
3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں چیلنج
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین ججز کے تبادلوں کا معاملہ اب سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے سینئر وکیل حامد خان کے ذریعے آئینی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ تبادلے آئین کے منافی ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ججز کے تبادلے آئین کے آرٹیکل 2-اے کی خلاف ورزی ہیں اور اس عمل میں شفافیت کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔

 مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تبادلوں کی وجوہات بھی واضح نہیں کی گئیں، جس سے عدالتی نظام کی خودمختاری پر سوالات اٹھتے ہیں۔

مزید پڑھیں:وزیر داخلہ کی زیر صدارت اجلاس،پاسپورٹ کا دورانیہ 21 سے کم کرکے 14دن کر دیا

درخواست گزار نے وفاقی حکومت اور جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو فریق بناتے ہوئے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ججز کے تبادلوں کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

واضح رہے کہ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جس کے بعد وکلا برادری اور قانونی حلقوں میں تشویش پیدا ہوئی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی عدلیہ سے متعلق انتظامی فیصلوں پر شفافیت اور آئینی طریقہ کار کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

 تاہم اس بار معاملہ براہ راست سپریم کورٹ میں چیلنج ہونے کے بعد یہ قانونی اور آئینی بحث مزید اہم ہو گئی ہے۔

اب عدالتِ عظمیٰ اس درخواست پر آئندہ سماعت میں معاملے کا جائزہ لے گی اور فیصلہ کرے گی کہ آیا ججز کے تبادلے آئینی حدود کے مطابق ہیں یا نہیں۔