کسی سیاسی جماعت، رہنما یا صوبائی حکومت کو اسلام آباد کی سڑکیں بند کرنے کااختیار نہیں:اسلا م آباد ہائیکورٹ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(احتشام کیانی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے 27 ستمبر احتجاج کے خلاف درخواست ہدایات کے ساتھ نمٹانے کا مختصر فیصلہ جاری کر دیا۔چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بنچ نے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ میں موقف اختیار کیا کہ کسی سیاسی جماعت، سیاسی رہنما یا صوبائی حکومت کو اسلام آباد کی سڑکیں بند کرنے کا قانونی اختیار نہیں۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ عوامی عہدہ رکھنے والا کوئی شخص اسلام آباد کی سڑکوں، شاہراہوں یا داخلی و خارجی راستوں پر قبضہ نہیں کر سکتا، فیصلہ کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو اسلام آباد کے انٹرچینجز اور ٹول پلازوں پر قبضے کا اختیار حاصل نہیں، فیصلہ اسلام آباد کی جانب آنے والے راستوں میں رکاوٹ ڈالنا شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اسلام آباد ہائیکور ٹ کسی مارچ، جلوس یا ریلی کے ذریعے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت متاثر نہیں کی جا سکتی، اسلام آباد میں تجارت اور کاروبار میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، فیصلہ احتجاج یا مارچ کے باعث تعلیمی اداروں تک شہریوں کی رسائی متاثر نہیں ہونی چاہیے، طبی سہولیات تک رسائی متاثر کرنا بھی شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ صوبائی حکومتیں یقینی بنائیں، سرکاری وسائل اسلام آباد آنے والے مارچ یا ریلی میں استعمال نہ ہوں، عدالت صوبائی حکومتیں سرکاری فنڈز کو اسلام آباد کی جانب مارچ یا جلوس کے لیے استعمال نہ ہونے دیں، ہائیکورٹ کا حکم کوئی سرکاری افسر اسلام آباد آنے والے مارچ، جلوس یا ریلی میں مدد یا سہولت فراہم نہیں کرے گا، سرکاری گاڑیاں، مشینری اور دیگر سرکاری سامان اسلام آباد آنے والے مظاہرین کی مدد کے لیے استعمال نہیں ہو گا۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سرکاری ملازمین کو اسلام آباد آنے والے مارچ یا ریلی میں شرکت پر مجبور نہیں کیا جا سکتا،سرکاری ملازمین کو مارچ میں شرکت کے لیے آمادہ یا کسی بھی طریقے سے پابند کرنے سے روک دیا گیا،صوبائی حکومتیں سرکاری افسران کو اسلام آباد آنے والے مارچ میں معاونت سے روکنے کی پابند ہیں، کسی افسر کو مارچ میں معاونت پر مجبور کیا جائے تو وہ فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ چیف سیکرٹریز، چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جیز افسران کی شکایات کے لیے رابطے کا طریقہ کار بنائیں، عدالت سرکاری افسران کسی سیاسی رہنما یا عوامی عہدیدار کی جانب سے جبر یا ترغیب کی اطلاع دے سکیں گے، عدالت کا حکم احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے سرکاری افسران کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی کی جائے، ہائیکورٹ کا حکم اسلام آباد میں شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر کرنے والی سرگرمی آئین کی خلاف ورزی تصور ہو گی، عدالت کا حکم بنیادی حقوق متاثر کرنے والی سرگرمی میں ملوث شخص آئین اور قانون کے تحت نتائج کا ذمہ دار ہو گا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ عوامی عہدہ رکھنے والے شخص کی جانب سے بنیادی حقوق متاثر کرنے والی سرگرمی آئینی حلف کی خلاف ورزی ہو گی، عوامی عہدہ رکھنے والا شخص آئینی حلف کی خلاف ورزی پر آئین و قانون کے تحت نتائج کا ذمہ دار ہو گا، اسلام آباد میں کسی شخص کو دوسروں کے بنیادی حقوق متاثر کرنے والی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اسلام آباد انتظامیہ شہریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے، عدالت کا حکم صوبائی حکومتوں اور متعلقہ حکام کو عدالتی احکامات پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایتاسلام آباد آنے والے مارچ، جلوس یا ریلی سے شہریوں کے حقوق متاثر نہ ہونے دیے جائیں۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اسلام آباد میں آزادانہ نقل و حرکت، کاروبار، تعلیم اور طبی سہولیات تک رسائی متاثر نہیں ہونی چاہیے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے صوبائی حکومتوں کو سرکاری مشینری کے سیاسی استعمال سے روک دیا،عدالت نے سرکاری وسائل کو اسلام آباد آنے والے سیاسی مارچ کے لیے استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی ۔
چیف سیکرٹریز اور آئی جی پولیس عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کریں، اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو ریاستی اداروں کی ذمہ داری قرار دے دیاکسی کو بھی قانون سے بالاتر ہو کر شہریوں کے راستے بند کرنے کا اختیار نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ سرکاری وسائل اور سرکاری مشینری سیاسی مارچ کے لیے استعمال نہیں ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں :وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد میں ٹیلی فونک رابطہ