مسلسل اور بھرپور محنت،کامیابی کی ضمانت’’نور سحر ‘‘ پروگرام میں علمی نشست کا اہتمام
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)معروف دینی و فکری ٹی وی پروگرام ’’نورِ سحر‘‘ میں ایک بصیرت افروز علمی نشست کا اہتمام کیا گیا، جس کا موضوع’’ مسلسل اور بھرپور محنت۔۔۔کامیابی کی ضمانت ‘‘ تھا ۔
میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ زندگی ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے، انہوں نے کہا کہ کامیابی کسی ایک کوشش سے نہیں بلکہ تسلسل سے کی جانے والی محنت کا نتیجہ ہوتی ہے، اُنہوں نے کہا کہ مغربی مؤرخ فلپ ہٹی سمیت کئی مورخین و مفکرین رسول اللہ ﷺ کی مسلسل جدوجہد کے معترف ہیں، پاکستان کے قیام کو مثال بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے اکابرین نے سالہا سال کی محنت، قربانیوں اور تسلسل کے ساتھ یہ وطن حاصل کیا۔
معروف سکالر پروفیسر عائشہ ابوبکر نے سوشل میڈیا کے رجحانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج کی نوجوان نسل شارٹ کٹس پر یقین رکھتی ہے اور ایک وائرل ویڈیو کے ذریعے شہرت حاصل کرنا چاہتی ہے، لیکن ایسی کامیابی پائیدار نہیں ہوتی، انہوں نے کہا کہ کامیابی کے دو بنیادی ستون محنت اور تسلسل ہیں، آقا کریم ﷺ کی زندگی ان اصولوں کی بہترین مثال ہے۔
مزید پڑھیں:مسکرانے کے صحت پر حیرت انگیز مثبت اثرات
پروفیسر اعجاز احسن گوندل نے کہا کہ کوئی بھی انسان مستقل مزاجی کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا، انہوں نے مزید کہا کہ مسلسل محنت انسان کو مایوسی سے نکال کر کامیابی، امید اور روشنی کی طرف لے جاتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ انسان کو اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرنا چاہیے کیونکہ جتنی توانائیاں استعمال کی جاتی ہیں، اللہ تعالیٰ اتنی ہی مزید عطا فرماتا ہے۔
پروفیسر شجاعت علی خان نے محنت کے مفہوم پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ محنت کامیابی کی شرط تو ہے، لیکن ضمانت نہیں، انہوں نے محنت کے تین بنیادی عناصر وقت، سعی اور کام کا تعین بیان کیے اور اس کے چار مراحل بھی تفصیل سے بیان کیے، جن میں ذہنی نشوونما اور حکمت پر کام کرنا بھی شامل ہے۔
محمد مزمل تنویر قادری نے قرآنی فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’جو لوگ کوشش کرتے ہیں ہم اُن کے لیے راستے کھول دیتے ہیں‘‘ انہوں نے کہا کہ محنت کا دار و مدار بھی اس بات پر ہے کہ ہم کوشش کس مقصد کے لیے کر رہے ہیں، اگر مقصد اللہ کی رضا اور معرفت ہے تو محنت میں کبھی کوتاہی نہیں آتی، انہوں نے واقعہ طائف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی صبر و استقامت امت کے لیے ایک عظیم درس ہے۔