نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی تیار، کابینہ کی منظوری کا انتظار ہے، وزیر توانائی

May 29, 2025 | 11:55:AM
نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی تیار، کابینہ کی منظوری کا انتظار ہے، وزیر توانائی
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کے ہدایت پر نیٹ میٹرنگ پالیسی دوبارہ تیار کرلی ہے, منظوری ملنے پر ایک ماہ میں جاری کردی جائے گی, پاکستان میں متبادل ذرائع توانائی کا انقلاب آ چکا، ایک سال میں صنعتی شعبے کا ٹیرف 30 فیصد کم کیا ہے، کوشش ہے پاور ٹیرف میں پائیدار بنیاد پر کمی کی جائے۔

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کےالیکٹرک کے ٹیرف فیصلے پر دوبارہ جائزے کے لیے نیپرا میں جارہے ہیں، کمپنیوں کو کارکردگی سے پیسے کمانے چاہیں، خیرات سے نہیں،اصلاحات کے ذریعے صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے،ہم نیپرا کی طرف سے کےالیکٹرک کے ٹیرف فیصلے کاجائزہ لے رہے ہیں، سمجھتے ہیں کہ اس میں گنجائش نکلے گی۔ نیٹ میٹرنگ سے متعلق کابینہ کی ہدایت کی روشنی میں از سر نو جائزہ لے رہے ہیں۔

اس سے قبل وفاقی وزیر توانائی نے بجلی کے شعبے میں تبدیلیوں پر ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سستی اور دستیاب بجلی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ حکومت کو اس سلسلے میں تمام ترقیاتی پارٹنرز کا تعاون دستیاب ہے،ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو بجلی کی خرید و فروخت سے نکالا جا رہا ہے، دیامر بھاشا ڈیم سے بجلی پیداوار کے لیے فنانسنگ دستیاب نہیں ہو رہی ہے۔ ڈیم سے پانی کی دستیابی بڑھے گی۔ بھاشا ڈیم سے سستی بجلی کا حصول ممکن نہیں ہو گا بلکہ بھاشا ڈیم کی بجلی مہنگی ہو گی۔ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ نجکاری سے صارفین کی مشکلات میں اضافہ نہ ہو۔

اویس لغاری کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس گرڈ کی مکمل معلومات بروقت نہیں ہوتی، پاکستان کو بنیادی لوڈ کیلئے کوئلہ اور گیس سے بجلی پیداوار بڑھانا ہو گی، 3 - 4 سال میں پاور سیکٹر لاسز کو ختم کرنا چاہتے ہیں، بلوچستان میں ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر لانے سے سالانہ 60 ارب روپے کی بچت ہوگی۔