شینزن نے صنعتی نظام قائم کر لیا، کیا پاکستان بھی ایسا کرسکتا ہے؟
تحریر؛ علی رامے
Stay tuned with 24 News HD Android App
شنگھوا یونیورسٹی میں شینزن اور فیصل آباد کے اقتصادی زونز کا ایک سال تک مطالعہ کرنے کے بعد مجھے چین کی اس معاشی تجربہ گاہ کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، جہاں سرحد سے جڑا ایک مسئلہ پہلے پالیسی، پھر صنعت اور بالآخر ٹیکنالوجی کی صورت اختیار کر گیا۔
شینزن کی تاریخ سے جڑے عجائب گھر میں شیشے کی ایک الماری کے اندر چند پرانی دستاویزات رکھی تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کا رنگ پھیکا پڑ چکا تھا اور ان پر ثبت مہریں گزرے ہوئے عہد کی نشانیاں دکھائی دیتی تھیں۔ یہ عام سفری دستاویزات نہیں بلکہ سرحدی اجازت نامے تھے۔ کبھی انہی اجازت ناموں کے ذریعے طے کیا جاتا تھا کہ کون اس علاقے میں داخل ہوسکتا ہے اور کسے سرحد کے قریب جانے کی اجازت ہوگی۔
میں کچھ دیر ان دستاویزات کے سامنے کھڑا رہا۔ شیشے کے اندر محفوظ یہ اجازت نامے اُس شینزن کی نمائندگی کررہے تھے جہاں لوگوں کی نقل و حرکت محدود تھی اور سرحد کا انتظام ریاست کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکا تھا۔ انہی نمائشی کمروں سے چند قدم کے فاصلے پر یہ داستان بھی موجود تھی کہ یہی علاقہ بعد میں دنیا کے لیے چین کا ایک اہم ترین معاشی دروازہ کیسے بن گیا۔
لیجو روبوٹکس میں مجھے ایک بالکل مختلف نظام دیکھنے کو ملا۔ یہاں کاغذی اجازت ناموں کے بجائے ایک سافٹ ویئر پلیٹ فارم روبوٹس کو کام سونپ رہا تھا۔ یہ نظام طے کرتا تھا کہ کون سا روبوٹ گودام سے سامان نکالے گا، کون پرزوں کی چھانٹی کرے گا، کون پیکنگ سنبھالے گا اور کون گاڑیوں کی اسمبلی لائن پر پیچ کسنے یا مختلف حصے نصب کرنے میں مدد دے گا۔
ایک جانب وہ پرانی دستاویزات تھیں جو انسانوں کی نقل و حرکت کو منظم کرتی تھیں اور دوسری طرف جدید نظام تھا جو فیکٹریوں میں روبوٹس کی حرکت اور ذمہ داریوں کا تعین کررہا تھا۔ ان دونوں مناظر کے درمیان تقریباً نصف صدی کا فاصلہ تھا۔ میرے لیے شینزن کی اصل کہانی اسی فاصلے میں چھپی ہوئی تھی۔
یہ میرا چین کا پہلا دورہ نہیں تھا۔ میں 2023ء سے مختلف حیثیتوں میں چین آتا رہا ہوں۔ ایک صحافی کے طور پر مختلف صوبوں کا سفر کیا اور شنگھوا یونیورسٹی سے انٹرنیشنل پبلک پالیسی میں ماسٹرز کی ڈگری مکمل کی۔ میرا تھیسس شینزن خصوصی اقتصادی زون کے بارے میں تھا، جس کا میں نے فیصل آباد کے علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی سے تقابلی جائزہ لیا تھا۔ میری تحقیق کا بنیادی سوال یہ تھا کہ کوئی خصوصی اقتصادی زون صنعتی زمین، سڑکوں اور ٹیکس مراعات سے آگے بڑھ کر ایک فعال معاشی نظام کیسے بنتا ہے۔ تحقیق کے دوران شینزن میرے سامنے پالیسی دستاویزات، علمی مضامین اور معاشی اعدادوشمار کی صورت میں موجود تھا۔ اب اس شینزن كے اس تاریخی منظر نامے پر بنے اس سنٹر میں کھڑے ہوکر میں انہی پالیسیوں کو پرانی تصاویر، اجازت ناموں، تعمیراتی نمونوں اور تاریخی اشیا میں مجسم اشیا كو دیکھ رہا تھا۔ ایک سال پہلے جو شہر میری تحقیق کا موضوع تھا، اب وہ خود اپنی کہانی سنا رہا تھا۔
سنٹر میں اگست 1978ء کی ایک تصویر نے میری توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔ اس میں گوانگ ڈونگ کے اُس وقت کے رہنما شی ژونگ شون مقامی حکام اور شہریوں کے ساتھ دکھائی دے رہے تھے۔ چینی زبان میں درج کیپشن کے مطابق وہ ہوئی یانگ کے سرحدی علاقے کا جائزہ لے رہے تھے۔ تصویر میں ان کے بیٹے اور چین کے موجودہ صدر شی جن پنگ بھی موجود تھے۔ نوجوان شی جن پنگ اپنے والد کے پیچھے کھڑے سرحدی علاقے کے حالات دیکھ رہے تھے۔ کئی دہائیوں بعد وہی شی جن پنگ چین کی قیادت سنبھالنے والے تھے۔ یوں ایک تصویر میں چین کی سیاسی تاریخ کی دو نسلیں اور ابتدائی اصلاحات کے دور کا ایک اہم لمحہ محفوظ ہوگیا تھا۔
نمائش میں درج تحریر پیداوار اور سماجی نظم بحال کرنے، غیر قانونی سرحدی نقل و حرکت روکنے، لوگوں کا معیارِ زندگی بہتر بنانے اور سرحدی علاقوں کی معیشت کو ترقی دینے کی ضرورت بیان کرتی ہے۔ یہاں چین کی اصلاحات کا وہ پہلو سامنے آتا ہے جو بلند شرحِ نمو اور جدید شہروں کے تذکروں میں اکثر نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔
سرحد کے دوسری طرف ہانگ کانگ میں بہتر معاشی مواقع موجود تھے، جبکہ چین کے سرحدی علاقوں کے لوگ غربت اور محدود امکانات کا سامنا کررہے تھے۔ بہتر زندگی کی تلاش میں بعض افراد سرحد عبور کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اس صورتِ حال کو صرف نگرانی یا طاقت کے ذریعے مستقل طور پر حل نہیں کیا جاسکتا تھا۔
ریاست کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ اگر لوگ بہتر مواقع کی تلاش میں سرحد کے پار جارہے ہیں تو اسی جانب معاشی مواقع کیوں پیدا نہ کیے جائیں؟ یوں ایک سرحدی اور سماجی مسئلہ معاشی اصلاحات کا سوال بن گیا۔
1980ء میں شینزن کو خصوصی اقتصادی زون کا درجہ دے دیا گیا۔ اسے غیر ملکی سرمایہ کاری، برآمدی صنعت، زمین کے استعمال، کاروباری انتظام اور منڈی پر مبنی طریقوں کے تجربات کے لیے نسبتاً وسیع اختیار دیا گیا۔ یہی چین کے ترقیاتی طرزِعمل کا بنیادی اصول تھا: پہلے کسی محدود علاقے میں پالیسی آزمائی جائے، نتائج دیکھے جائیں، غلطیوں کی نشاندہی کی جائے، طریقۂ کار بہتر بنایا جائے اور کامیابی کی صورت میں اسے دوسرے علاقوں تک پھیلایا جائے۔
یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ اس پوری تبدیلی کے پیچھے اصل سیاسی ذہن کس کا تھا؟ وہ رہنما دینگ شیاو پنگ تھے، جنہوں نے چین کو اصلاحات اور دنیا کے لیے اپنے دروازے کھولنے کی سمت دی۔ ان کے وژن کو گوانگ ڈونگ میں شی ژونگ شون جیسے رہنماؤں نے عملی شکل دی، مگر شینزن کو ایک سرحدی علاقے سے عالمی صنعتی مرکز بنانے والی بنیادی سوچ دینگ شیاو پنگ ہی کی تھی۔
مرکزی حکومت نے سیاسی اجازت اور عمومی سمت فراہم کی، جبکہ مقامی حکومتوں کو سرمایہ کاری، پیداوار اور شہری ترقی کے نئے طریقے آزمانے کا موقع دیا گیا۔ منڈی نے ان تجربات کو عملی طور پر پرکھا اور نتائج کے مطابق پالیسیوں میں تبدیلیاں کی گئیں۔ شینزن کسی ایک مکمل اور بے عیب منصوبے سے وجود میں نہیں آیا؛ یہ مسلسل تجربے، اصلاح اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کا نتیجہ تھا۔ شینزن کے انتخاب میں اس کا محل وقوع فیصلہ کن اہمیت رکھتا تھا۔ ہانگ کانگ سے قربت نے اسے سرمائے، عالمی تجارت، برآمدی منڈیوں، کاروباری مہارت اور بین الاقوامی معیشت تک رسائی فراہم کی۔ چین نے اپنی وسیع افرادی قوت اور نسبتاً کم پیداواری لاگت کو برآمدی صنعت کی بنیاد بنایا۔ لیکن کامیابی صرف غیر ملکی کمپنیوں کو ٹیکس میں رعایت دینے سے حاصل نہیں ہوئی۔ سرمایہ کاروں کو زمین، بجلی، سڑکیں، بندرگاہیں، کسٹمز کی سہولت، افرادی قوت، رہائش، مقامی سپلائرز اور فیصلے کرنے والی انتظامیہ بھی فراہم کی گئی۔ اسی امتزاج نے ایک اقتصادی زون کو مکمل صنعتی نظام میں تبدیل کیا۔
اس سنٹر میں ایک پرانی دکان کا منظر دوبارہ تخلیق کیا گیا تھا۔ اس کی الماریوں میں ٹیلی وژن، ریڈیو، پنکھے، کپڑے اور روزمرہ استعمال کی دوسری اشیا رکھی تھیں۔ یہ منظر جدید شینزن کو سمجھنے کی کنجی تھا۔ چین کا صنعتی سفر مصنوعی ذہانت، فائیو جی یا انسان نما روبوٹس سے شروع نہیں ہوا تھا۔ اس کا آغاز اس بنیادی سوال سے ہوا کہ پیداوار کیسے بڑھائی جائے اور لوگوں کو ضروری اشیا کیسے فراہم کی جائیں۔ پہلے پنکھے، ریڈیو، کپڑے اور گھریلو سامان تیار ہوا۔ اس کے بعد الیکٹرانکس، موبائل فون اور ٹیلی کمیونی کیشن کا مرحلہ آیا۔ پھر مقامی کمپنیوں نے تحقیق، سافٹ ویئر اور مصنوعی ذہانت کا رخ کیا۔ یہ بتدریج آگے بڑھنے والا سفر تھا، جس میں ہر نیا مرحلہ گزشتہ مرحلے میں پیدا ہونے والی صلاحیتوں پر استوار ہوا۔
’’ایک بار شینزن آئے تو ہمیشہ کے لیے شینزن کے ہوجائیں‘‘
شینزن پہنچنے پر ایئرپورٹ کی ایک بڑی اسکرین پر یہ جملہ نمایاں تھا۔ یہ محض استقبالیہ نعرہ نہیں بلکہ شہر کی سماجی شناخت کا اظہار بھی ہے۔ شینزن کی آبادی کا بڑا حصہ چین کے دوسرے شہروں اور صوبوں سے آیا۔ نوجوان مزدور، انجینئر، کاروباری افراد اور تکنیکی ماہرین بہتر مواقع کی تلاش میں اس شہر کا رخ کرتے رہے۔
شینزن صرف سرمائے سے تعمیر نہیں ہوا۔ اسے ان لاکھوں لوگوں کی محنت نے بھی بنایا جو اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑ کر یہاں نئی زندگی شروع کرنے آئے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ تعمیرِ نو، مہنگی رہائش، کام کے دباؤ اور کم آمدنی والے کارکنوں کی نقل مکانی جیسے مسائل بھی پیدا ہوئے۔ اس لیے شینزن کی کہانی صرف پالیسی سازوں اور بڑی کمپنیوں کی داستان نہیں، یہ ان گمنام محنت کشوں کی کہانی بھی ہے جنہوں نے اس کی فیکٹریاں چلائیں۔ ہواوے کے دفتر کا دورہ شینزن کی ترقی کے اگلے مرحلے کی نمائندگی کرتا تھا۔ کسی اقتصادی زون کی ابتدائی کامیابی کا اظہار نئی فیکٹریوں اور بڑھتی ہوئی برآمدات سے ہوتا ہے، لیکن طویل مدتی کامیابی کا اصل امتحان یہ ہے کہ آیا مقامی معیشت غیر ملکی مصنوعات تیار کرنے سے آگے بڑھ کر اپنی تحقیق، ٹیکنالوجی اور برانڈز پیدا کرسکتی ہے یا نہیں۔ ہواوے اسی صنعتی ارتقا کی ایک علامت ہے۔ شینزن نے عالمی کمپنیوں کے لیے مصنوعات تیار کرنے سے آغاز کیا، پھر مقامی سپلائی چین اور انجینئرنگ کی صلاحیتیں پیدا کیں۔ اسی ماحول سے ایسی مقامی کمپنیاں ابھریں جو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل ہوئیں۔
لیجو روبوٹکس اس سفر کے اگلے مرحلے کی تصویر پیش کرتی ہے۔ کمپنی نے گوداموں سے سامان نکالنے، پرزوں کی چھانٹی، پیکنگ، پیچ کسنے، گاڑیوں کی اسمبلی اور فوری ترسیل کے سامان کی درجہ بندی جیسے کاموں کو روبوٹس کے ممکنہ صنعتی استعمال میں شامل کیا ہے۔ یہ روبوٹس صرف تجارتی نمائشوں میں ہاتھ ہلانے کے لیے نہیں بلکہ فیکٹریوں میں حقیقی کام انجام دینے کے لیے تیار کیے جارہے ہیں۔ کبھی شینزن کی فیکٹریاں چلانے کے لیے لاکھوں انسانی ہاتھ درکار تھے۔ اب وہی شہر ایسی مشینیں بنا رہا ہے جو مستقبل میں انہی فیکٹریوں کے بعض کام انجام دے سکیں گی اور دے بھی رہا ہے۔
پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز کے لیے شینزن کے اسباق
شینزن اور علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی کا براہِ راست موازنہ مناسب نہیں، کیونکہ دونوں کے سیاسی، تاریخی اور معاشی حالات مختلف ہیں۔ تاہم شینزن کے تجربے سے چند بنیادی اصول ضرور سیکھے جاسکتے ہیں۔ خصوصی اقتصادی زون صرف زمین، سڑکوں اور ٹیکس مراعات کا نام نہیں۔ اس کی کامیابی کے لیے قابلِ اعتماد توانائی، مؤثر ون ونڈو سروس، ہنرمند افرادی قوت، مضبوط لاجسٹکس اور پالیسی کا تسلسل ضروری ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کو مقامی صنعت، جامعات اور سپلائرز سے جوڑنا بھی ناگزیر ہے، تاکہ سرمایہ کاری محض اسمبلی کے کام تک محدود نہ رہے بلکہ علم، مہارت اور ٹیکنالوجی ملک کے اندر منتقل ہوسکے۔ پاکستان میں علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی اور دوسرے خصوصی اقتصادی زونز کی کامیابی کو زمین کی فروخت، معاہدوں یا افتتاحی تقریبات سے نہیں ناپا جانا چاہیے۔ اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ کتنی صنعتیں فعال ہوئیں، کتنے روزگار پیدا ہوئے، کتنے مقامی سپلائر عالمی ویلیو چین کا حصہ بنے اور برآمدات میں کتنا اضافہ ہوا۔
شینزن کے ایگزبیشن ہال سے نکلتے ہوئے 1978ء کی وہ تصویر ایک بار پھر میرے ذہن میں ابھری۔ شی ژونگ شون حالات کا جائزہ لے رہے تھے اور نوجوان شی جن پنگ ان کے پیچھے کھڑے تھے۔ اُس وقت بنیادی سوال لوگوں کے لیے معاشی مواقع پیدا کرنا تھا۔ آج شینزن مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے مستقبل پر کام کررہا ہے۔
شینزن سے حاصل ہونے والا اصل سبق اس کی عمارتوں کی نقل کرنا نہیں۔ اصل سبق یہ ہے کہ مسئلے کو سمجھا جائے، محدود پیمانے پر تجربہ کیا جائے، غلطیوں سے سیکھا جائے اور کئی دہائیوں تک پالیسی کا تسلسل برقرار رکھا جائے۔پاکستانی اقتصادی زونز کا حقیقی امتحان افتتاح کے دن شروع نہیں ہوگا۔ یہ امتحان اُس وقت ہوگا جب وہ زمین اور مراعات سے آگے بڑھ کر مقامی صنعت، نئی مہارتیں، برآمدات اور مستقبل کی ٹیکنالوجی پیدا کرے گا۔ ورنہ لفظ اسپیشل اكنامك زون صرف نام كا ہوگا ، نہ كے نتائج كا۔