چین کی کامیابیوں کے پیچھے کون سا نظام کام کرتا ہے؟حیران کن انکشافات
تحریر؛ علی رامے
Stay tuned with 24 News HD Android App
چین کو پہلی مرتبہ دیکھنے والا عموماً اس کی بلند عمارتوں، کشادہ شاہراہوں، تیز رفتار ریل، جدید کارخانوں اور ٹیکنالوجی سے متاثر ہوتا ہے۔ لیکن چین کے متعدد دوروں اور پبلک پالیسی کی تعلیم کے بعد میری دلچسپی اب صرف ان دکھائی دینے والی کامیابیوں تک محدود نہیں رہی۔ میرے لیے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ ان تمام کامیابیوں کے پیچھے کون سا نظام کام کرتا ہے؟ بیجنگ میں بننے والی پالیسی ہزاروں کلومیٹر دور کسی شہر، ضلع، قصبے یا محلے تک کیسے پہنچتی ہے؟ اور ایک فیصلے کو عملی منصوبے میں تبدیل کرنے والی انتظامی مشینری کس طرح کام کرتی ہے؟
حال ہی میں پاکستان کے میڈیا، تعلیم اور تھنک ٹینک سے وابستہ ماہرین کے ایک وفد کے ساتھ چین کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ اس دورے کے انتظام اور سہولت فراہم کرنے پر ہم لاہور میں عوامی جمہوریہ چین کے قونصل خانے کے شکر گزار ہیں۔ وفد میں جی سی یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر ڈاکٹر عمر چودھری، بین الاقوامی امور کے ماہر سید محمد مہدی، سینئر صحافی دلاور چودھری، بلال احمد، خاور سندھو، محمد الیاس اور صہیب انور شامل تھے۔
ہمارے سفر کی پہلی منزل بیجنگ تھی۔ وفد میں شامل ہر شخص چین کو اپنی پیشہ ورانہ نگاہ سے دیکھ رہا تھا۔ کوئی اس کی جامعات اور تعلیمی نظام میں دلچسپی رکھتا تھا، کوئی خارجہ پالیسی، صنعت اور ٹیکنالوجی کو سمجھنا چاہتا تھا اور کسی کی توجہ ابلاغ اور ذرائع ابلاغ کے نظام پر تھی۔ ہماری باہمی گفتگو بار بار ایک ہی سوال کی طرف لوٹ آتی تھی: چین نے اپنے قومی اہداف کو مسلسل عملی نتائج میں کیسے تبدیل کیا؟ اس سوال کا جواب کسی ایک عمارت، سڑک یا ادارے میں نہیں ملتا۔ اس کے لیے چین کے مکمل انتظامی ڈھانچے کو سمجھنا ضروری ہے۔
چین نے اپنا سیاسی اور انتظامی نظام اپنے تاریخی تجربات، قومی حالات اور ترقیاتی ضروریات کو سامنے رکھ کر تشکیل دیا ہے۔ اس نظام کی قیادت کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کرتی ہے، جبکہ ریاستی امور آئین، قوانین، عوامی کانگریسوں، اسٹیٹ کونسل، وزارتوں اور مقامی حکومتوں کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔ سی پی سی ملک کی مجموعی سمت اور طویل مدتی ترجیحات کی رہنمائی کرتی ہے۔ ریاستی ادارے ان ترجیحات کو قوانین، بجٹ، منصوبوں اور سرکاری خدمات کی شکل دیتے ہیں۔ صوبائی اور مقامی حکومتیں انہیں اپنے علاقوں کے حالات کے مطابق عملی جامہ پہناتی ہیں۔ اس انتظام کو ایک مربوط زنجیر کی طرح سمجھا جاسکتا ہے۔ قومی قیادت سمت متعین کرتی ہے، ریاستی ادارے پالیسی اور قانون تیار کرتے ہیں، وزارتیں طریقۂ کار بناتی ہیں، صوبے منصوبہ بندی کرتے ہیں اور شہر، اضلاع اور مقامی ادارے ان منصوبوں کو زمین پر نافذ کرتے ہیں اوریہی ربط چین کے انتظامی نظام کی بنیادی طاقت ہے۔ اور اس كا مشاہدہ میں نے خود دوہزار چوبیس میں ٹو سیشن اجلاس كے دوران بطور صحافی كیا۔
چین کے آئین کے تحت نیشنل پیپلز کانگریس ریاستی طاقت کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے۔ یہ قانون سازی کرتی ہے، قومی بجٹ اور ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دیتی ہے اور اہم ریاستی عہدوں سے متعلق آئینی ذمہ داریاں ادا کرتی ہے۔ نیشنل پیپلز کانگریس کے تحت مختلف شعبوں سے متعلق کمیٹیاں بھی کام کرتی ہیں۔ یہ کمیٹیاں قوانین، معاشی امور، تعلیم، صحت، ماحولیات اور دیگر قومی معاملات کا جائزہ لیتی ہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں اور شعبوں سے آنے والے نمائندے قومی معاملات پر اپنی آرا اور تجاویز پیش کرتے ہیں۔ یوں مقامی اور علاقائی ضروریات کو قومی سطح کی پالیسی سازی سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ صوبوں، شہروں، کاؤنٹیوں اور ٹاؤن شپ کی سطح پر بھی مقامی عوامی کانگریسیں موجود ہیں۔ کاؤنٹی اور ٹاؤن شپ کی سطح کے نمائندوں کا انتخاب براہِ راست ووٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے، جبکہ اعلیٰ سطح کی کانگریسوں کے نمائندے درجہ وار انتخابی طریقۂ کار سے سامنے آتے ہیں۔ اور اس كا مشاہدہ میں نے خود دوہزار چوبیس میں ٹو سیشن اجلاس كے دوران بطور صحافی كیا۔
اسٹیٹ کونسل چین کا اعلیٰ ترین ریاستی انتظامی ادارہ ہے۔ وزیراعظم اس کی سربراہی کرتے ہیں اور مختلف وزارتیں، کمیشن اور قومی انتظامی ادارے اسی نظام کے تحت کام کرتے ہیں۔ اگر قومی سطح پر جدید صنعت کے فروغ، ماحولیاتی تحفظ، صحت، تعلیم، زرعی ترقی یا سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق کوئی ہدف مقرر کیا جائے تو متعلقہ وزارتیں اس کے لیے پالیسی، قواعد اور عملی رہنما اصول تیار کرتی ہیں۔ اس کے بعد صوبائی حکومتیں ان قومی ترجیحات کو اپنے وسائل اور ضروریات کے مطابق منصوبوں میں تبدیل کرتی ہیں۔ شہروں اور اضلاع کی سطح پر ان منصوبوں کے لیے بجٹ، ذمہ دار ادارے، اہداف اور وقت مقرر کیا جاتا ہے۔ یوں قومی پالیسی صرف ایک سرکاری اعلان نہیں رہتی۔ اسے مختلف انتظامی مراحل سے گزار کر قابلِ عمل پروگرام بنایا جاتا ہے۔
اگر كوئی یہ كہتا ہے كہ چین میں کے نظام میں عوامی مشاورت کو نمایاں اہمیت حاصل نہیں تو وہ غلط ہے۔ چین میں سی پی سی کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی موجود ہیں۔ یہ جماعتیں سی پی سی کی قیادت میں کثیرالجماعتی تعاون اور سیاسی مشاورت کے نظام میں حصہ لیتی ہیں۔ ۔ ان سے راے لی جاتی ہے اور ان كی راے كو قانون سازی كا حصہ بھی بنایا جاتا ہے ۔چائنیز پیپلز پولیٹیکل کنسلٹیٹو کانفرنس اس مشاورتی عمل کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ اس میں مختلف سیاسی جماعتوں، سماجی طبقات، قومی اقلیتوں، پیشہ ور افراد، ماہرین اور مختلف شعبوں کے نمائندے شریک ہوتے ہیں۔ یہ نمائندے قومی ترقی، معیشت، تعلیم، صحت، ماحولیات اور عوامی فلاح کے معاملات پر تجاویز پیش کرتے ہیں۔ ان تجاویز کا مقصد فیصلہ سازی کو مختلف شعبوں کے تجربات اور زمینی ضروریات سے جوڑنا ہوتا ہے۔ اور چین اس نظام کو ہمہ گیر عوامی جمہوریت کا نام دیتا ہے۔
تو اب سوال یہ ہے كہ عوام کی رائے حکومت تک کیسے پہنچتی ہے؟ چین میں عوامی مسائل اور تجاویز متعلقہ اداروں تک پہنچانے کے مختلف راستے موجود ہیں۔ شہری عوامی کانگریسوں کے نمائندوں، مشاورتی اداروں، سرکاری محکموں، رہائشی کمیٹیوں اور مقامی انتظامیہ سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ سرکاری شکایتی نظام، عوامی درخواستیں، سماعتیں، سروے، ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور سرکاری ہاٹ لائنز بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ متعدد شہروں میں ہاٹ لائن کے ذریعے شہری اپنے مسائل، شکایات اور تجاویز متعلقہ محکموں تک پہنچاتے ہیں۔ اور یہ ہاٹ لاءین سسٹم ایسے تیزی سے كا كرتا ہے اور لوگون كے مساءل كو حل كرتا ہے۔
کئی قوانین اور قواعد کے مسودے عوامی رائے کے لیے جاری کیے جاتے ہیں۔ مختلف علاقوں میں قائم قانون سازی کے رابطہ مراکز مقامی آبادی، ماہرین اور متعلقہ شعبوں سے تجاویز حاصل کرکے قانون ساز اداروں تک پہنچاتے ہیں۔ شہری علاقوں میں رہائشی کمیٹیاں اور دیہی علاقوں میں دیہاتی کمیٹیاں مقامی لوگوں اور سرکاری اداروں کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ ادارے صفائی، صحت، سماجی معاونت، مقامی تنازعات، سرکاری معلومات اور روزمرہ مسائل سے متعلق کام کرتے ہیں۔اس نظام کا مقصد یہ ہے کہ عوامی مسئلہ محلے کی سطح پر سنے جاءیں اور اسے اعلیٰ انتظامی سطح تک پہنچایا جاسکے۔
چین ایک وحدانی ریاست ہے۔ مرکزی قیادت قومی پالیسی، قانون اور مجموعی سمت کا تعین کرتی ہے، جبکہ صوبائی اور مقامی حکومتیں ان فیصلوں پر عمل درآمد کی ذمہ داری سنبھالتی ہیں۔ چین کا رقبہ وسیع ہے اور مختلف علاقوں کے معاشی، جغرافیائی اور سماجی حالات ایک جیسے نہیں۔ ساحلی صنعتی صوبے، زرعی علاقے، بڑے شہر اور دور دراز مقامات اپنی الگ ضروریات رکھتے ہیں۔ اسی لیے قومی ہدف ایک ہوسکتا ہے، لیکن اسے حاصل کرنے کا مقامی طریقہ مختلف ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر مرکزی سطح پر فضائی آلودگی کم کرنے، جدید صنعت کو فروغ دینے یا دیہی صحت کی سہولت بہتر بنانے کا فیصلہ کیا جائے تو ہر صوبہ اپنی صورتِ حال کے مطابق عملی پروگرام تیار کرتا ہے۔ صوبائی حکومت ہدف کو شہروں اور کاؤنٹیوں میں تقسیم کرتی ہے۔ مقامی ادارے بجٹ بناتے، ذمہ داریاں مقرر کرتے اور پیش رفت کا جائزہ لیتے ہیں۔ قومی سمت ایک رہتی ہے، جبکہ مقامی حکومتوں کو اپنے حالات کے مطابق مناسب طریقۂ کار اختیار کرنے کی گنجائش ملتی ہے۔
چین کے ترقیاتی تجربے میں آزمائشی منصوبوں کی خاص اہمیت رہی ہے۔ کسی نئی پالیسی کو پورے ملک میں نافذ کرنے سے پہلے بعض اوقات اسے کسی مخصوص شہر، ضلع یا صوبے میں آزمایا جاتا ہے۔ نتائج کا جائزہ لیا جاتا ہے، خامیوں کو دور کیا جاتا ہے اور کامیاب تجربے کو دوسرے علاقوں تک پھیلایا جاتا ہے۔ شینزن اس طریقۂ کار کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اصلاحات اور کھلے پن کے دور میں شینزن کو خصوصی اقتصادی زون کے طور پر ترقی دی گئی۔ وہاں سرمایہ کاری، صنعت، تجارت اور شہری ترقی سے متعلق نئے طریقے آزمائے گئے ۔ مرکزی قیادت نے سمت اور حمایت فراہم کی، جبکہ صوبائی اور مقامی اداروں نے ان فیصلوں کو عملی شکل دی۔ وقت کے ساتھ کامیاب تجربات سے سیکھا گیا اور انہیں دوسرے علاقوں میں استعمال کیا گیا۔ اس طریقے کو آسان الفاظ میں یوں سمجھا جاسکتا ہے: پہلے محدود سطح پر تجربہ کیا جاتا ہے، پھر نتائج دیکھے جاتے ہیں، ضروری اصلاح کی جاتی ہے اور اس کے بعد کامیاب ماڈل کو وسعت دی جاتی ہے۔
کسی بھی ملک میں پالیسی اس وقت تک نتیجہ نہیں دے سکتی جب تک انتظامی ادارے اسے عملی منصوبے میں تبدیل نہ کریں۔ چین میں بیوروکریسی اسی مقصد کے لیے کام کرتی ہے۔۔ وزارتیں قومی پالیسی کے مطابق رہنما اصول بناتی ہیں۔ صوبائی محکمے علاقائی اہداف مقرر کرتے ہیں۔ شہری حکومتیں مالی اور انتظامی منصوبہ بندی کرتی ہیں۔ اضلاع اور مقامی ادارے عوامی خدمات اور ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کرتے ہیں۔ افسران کو مختلف شہروں، صوبوں، وزارتوں اور سرکاری اداروں میں کام کرنے کا تجربہ بھی دیا جاتا ہے۔ اس سے انہیں مختلف انتظامی سطحوں اور زمینی مسائل کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔
کارکردگی کا جائزہ معاشی ترقی کے ساتھ ماحولیات، غربت میں کمی، عوامی خدمات، سماجی بہبود، مالی نظم اور مقررہ اہداف کی تکمیل جیسے عوامل کی بنیاد پر بھی لیا جاتا ہے۔۔ اس عمل میں تربیت، نگرانی، جائزہ اور جواب دہی شامل ہیں۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ سرکاری عہدیدار صرف فائل مکمل نہ کرے بلکہ پالیسی کا عملی نتیجہ بھی سامنے لائے۔
چین کا انتظام کئی سطحوں پر مشتمل ہے۔ صوبوں اور خودمختار علاقوں کے ساتھ بیجنگ، شنگھائی، تیانجن اور چونگ چنگ کو صوبائی درجے کی میونسپلٹی کا مقام حاصل ہے۔۔ان کے نیچے شہروں، کاؤنٹیوں، شہری اضلاع، ٹاؤن شپ اور ٹاؤن کی سطح پر انتظامی ادارے کام کرتے ہیں۔ ایک بڑا چینی شہر صرف اس کے مرکزی شہری علاقے تک محدود نہیں ہوتا۔ اس کے ماتحت اضلاع، قصبے، دیہات اور وسیع انتظامی علاقے بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس لیے چینی میونسپل حکومت کی ذمہ داریاں شہری منصوبہ بندی سے کہیں زیادہ وسیع ہوتی ہیں۔ ۔مقامی حکومتیں تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، تعمیرات، تجارت، سماجی خدمات، شہری و دیہی ترقی اور دیگر عوامی معاملات دیکھتی ہیں۔۔ یہی وجہ ہے کہ بیجنگ میں طے ہونے والا قومی ہدف درجہ بہ درجہ نیچے آتا ہے اور آخرکار مقامی منصوبے یا سرکاری خدمت کی شکل میں عوام تک پہنچتا ہے۔
چین میں پانچ سالہ منصوبے قومی ترقی کی سمت طے کرنے کا اہم ذریعہ ہیں۔ ان میں معیشت، صنعت، سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم، ماحولیات، توانائی اور عوامی فلاح جیسے شعبوں کی ترجیحات بیان کی جاتی ہیں۔ ۔یہ منصوبے صرف مرکزی حکومت کی دستاویز بن کر نہیں رہتے۔ وزارتیں، صوبے، شہر، جامعات، تحقیقی ادارے، سرکاری کمپنیاں اور مالیاتی ادارے ان کے مطابق اپنے اہداف اور پروگرام تیار کرتے ہیں۔ پالیسی کے نفاذ کے دوران نتائج کا جائزہ لیا جاتا ہے اور بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق طریقۂ کار بہتر بنایا جاتا ہے۔ اس طرح طویل مدتی سمت اور عملی لچک دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
پالیسی کا تسلسل چین کی نمایاں انتظامی خوبی ہے۔ کسی کی تبدیلی سے قومی منصوبہ ختم نہیں ہوجاتا۔ ادارے پہلے سے مقرر کردہ اہداف پر کام جاری رکھتے ہیں اور نئی ضروریات کے مطابق ان میں بہتری لاتے ہیں۔ یہی تسلسل بڑے منصوبوں، صنعتی ترقی، بنیادی ڈھانچے، سائنس اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں طویل مدت تک کام کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔۔ چین کے نظام میں مختلف ادارے نگرانی کی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ عوامی کانگریسیں اپنی آئینی حدود مین حکومتوں اور سرکاری اداروں کے کام کا جائزہ لیتی ہیں۔ نگرانی کے کمیشن سرکاری عہدیداروں سے متعلق بدعنوانی اور خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرتے ہیں۔ عدالتیں، پروکیوریٹوریٹس، آڈٹ ادارے اور سرکاری محکمے اپنی قانونی اور انتظامی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔
سی پی سی کا داخلی نظم و ضبط کا نظام بھی پارٹی کے اراکین اور عہدیداروں کی نگرانی کرتا ہے۔ معائنہ، کارکردگی کا جائزہ، مالی آڈٹ، عوامی شکایات اور انتظامی رپورٹس نگرانی کے اس وسیع عمل کا حصہ ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ پالیسی پر عمل درآمد کی نگرانی ہو، سرکاری وسائل درست جگہ استعمال ہوں اور ذمہ دار عہدیدار اپنی کارکردگی کا جواب دیں۔
چین اور پاکستان کی تاریخ، آئین اور سیاسی نظام مختلف ہیں۔ اس لیے چین کے نظام کو پاکستان میں نقل کرنے کی بات نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم چین کے انتظامی تجربے سے کئی عملی سبق ضرور حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ سب سے اہم سبق پالیسی کا تسلسل ہے۔ قومی ترقی کے منصوبے شخصیات کے بجائے اداروں سے منسلک ہونے چاہییں۔ حکومت یا کسی عہدیدار کی تبدیلی سے اہم منصوبوں کو دوبارہ نقطۂ آغاز پر نہیں جانا چاہیے۔ دوسرا سبق ذمہ داریوں کی واضح تقسیم ہے۔ ہر پالیسی کے ساتھ یہ طے ہونا چاہیے کہ اس پر عمل کون کرے گا، بجٹ کہاں سے آئے گا، کام کب مکمل ہوگا اور نتائج کی پیمائش کیسے کی جائے گی۔ تیسرا سبق وفاقی، صوبائی اور مقامی اداروں کے درمیان رابطہ ہے۔ اگر قومی منصوبہ ضلعی اور مقامی سطح تک نہ پہنچ سکے تو وہ کاغذ سے باہر نہیں نکلتا۔ چوتھا سبق مضبوط مقامی انتظامیہ ہے۔ عوام کے زیادہ تر روزمرہ مسائل مقامی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ انہیں حل کرنے کے لیے مقامی اداروں کو واضح اختیارات، وسائل اور ذمہ داریاں دینا ضروری ہے۔ پانچواں سبق مسلسل جائزہ اور بہتری ہے۔ کسی پالیسی کے اعلان کو کامیابی نہیں سمجھنا چاہیے۔ اصل کامیابی اس کے نتائج، عوامی فائدے اور زمینی اثرات سے معلوم ہوتی ہے۔
چین میں قومی فیصلے کے پیچھے قیادت کی سمت، قانون سازی، وزارت کی پالیسی، صوبے کی منصوبہ بندی، شہر کا بجٹ، ضلع کا ہدف، افسر کی ذمہ داری اور محلے تک موجود انتظامی ادارے کام کرتے ہیں۔ چین کی نظر آنے والی ترقی کے پیچھے یہی وہ انتظامی زنجیر موجود ہے۔ میرے لیے چین کا سب سے اہم سبق اس کی بلند عمارتیں یا جدید ٹرینیں نہیں، بلکہ وہ نظام ہے جو ایک قومی تصور کو منصوبے میں، منصوبے کو ذمہ داری میں اور ذمہ داری کو عملی نتیجے میں تبدیل کرتا ہے۔ بیجنگ میں طے ہونے والی پالیسی صرف تقریر یا دستاویز بن کر نہیں رہتی۔ اسے اداروں کا ایک مربوط نظام اٹھاتا ہے، مختلف انتظامی سطحوں سے گزارتا ہے اور ملک کے آخری حصے تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔