تجارتی جنگ بندی میں توسیع!امریکہ اور چین کا 60 ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر ٹیرف میں کمی

Sep 28, 2026 | 15:21:PM
تجارتی جنگ بندی میں توسیع!امریکہ اور چین کا 60 ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر ٹیرف میں کمی
کیپشن: تجارتی جنگ بندی میں توسیع!امریکہ اور چین کا 60 ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر ٹیرف میں کمی پر اتفاق
سورس: 24 News
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) امریکہ اور چین نے مجموعی طور پر تقریباً 60 ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر درآمدی ڈیوٹی کم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے، امریکی ٹیرف کے نمائندے جیمیسن گریئر (Jamieson Greer) کے مطابق دونوں ممالک نے 30، 30 ارب ڈالر مالیت کی درآمدات پر زیادہ سازگار ٹیرف کی شرح فراہم کرنے کی تجویز دی ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق انہوں نے بتایا کہ اس اقدام سے امریکہ کو چین کو برآمد کی جانے والی تقریباً 30 فیصد اشیا کے لیے چینی مارکیٹ تک بہتر رسائی حاصل ہو گی،گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں صدر شی جن پنگ اور  ڈونلڈ ٹرمپ  کے درمیان رواں سال ہونے والی دوسری سربراہی ملاقات کے اہم ترین نتائج میں ٹیرف میں کمی اور تجارتی جنگ بندی میں توسیع بھی شامل تھی۔

کن اشیا پر ٹیرف کم کیا جائے گا؟
چین امریکی زرعی مصنوعات کی ایک وسیع رینج پر ٹیرف میں کمی کا ارادہ رکھتا ہے، جن میں مکئی، گندم، جوار, گوشت, دودھ کی مصنوعات, سبزیوں کے تیل اور میل (meal) شامل ہیں، سویا بین اس فہرست میں شامل نہیں ہے، بیجنگ امریکی مچھلی اور سمندری غذا، لکڑی، کاسمیٹکس اور طبی آلات پر بھی ٹیرف کم کرنے پر غور کرے گا۔

اس کے بدلے میں امریکہ، چینی اشیا پر ٹیرف کم کرے گا جن میں گھریلو استعمال کی چھوٹی اشیا جیسے کافی بنانے والی مشینیں اور ٹاسٹرز، برتن، کمبل اور بستر کی چادریں شامل ہیں، اس فہرست میں کھلونے، پٹاخے، مصنوعی پھول، کرسمس ٹری کی لائٹس، دیگر تعطیلاتی سجاوٹ اور بچوں کی کار سیٹس بھی شامل ہیں۔

تجارتی جنگ بندی میں توسیع
چین کی وزارتِ تجارت کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگ بندی میں دو ماہ کی توسیع (جو اب 10 جنوری تک ہے) دونوں فریقوں کو اقتصادی اور تجارتی امور پر موجودہ معاہدوں کا جائزہ لینے اور اگلے اقدامات پر بات چیت کرنے کا وقت فراہم کرے گی۔

وزارت نے یہ بھی کہا کہ اس توسیع سے کاروباری تعاون اور مزید مذاکرات کے لیے نسبتاً مستحکم اور قابلِ پیشگوئی حالات پیدا ہوں گے، دونوں فریق سرمایہ کاری کے مواقع  موجودہ رکاوٹوں، قواعد کی شفافیت اور کاروباری خدشات پر باقاعدہ بات چیت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سربراہی اجلاس کے بعد چینی  سٹاکس میں شدید گراوٹ دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کاروں کے پاس معاہدوں کی مخصوص تفصیلات کا فقدان تھا اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی،ڈیٹا سینٹرز میں چینی اجزاء پر پابندی کے دو طرفہ امریکی اقدام کے درمیان ٹیکنالوجی کا شعبہ بھی دباؤ میں آگیا،بڑی چینی کمپنیوں کا مین انڈیکس 2 فیصد سے زیادہ گر کر ایک سال کی کم ترین سطح پر آ گیا۔

زرعی مصنوعات اور کوئلے سے متعلق معاہدے
وائٹ ہاؤس کے مطابق  ٹیرف میں کمی کے لیے طے شدہ چینی اشیا کی فہرست بیجنگ کو 17 ارب ڈالر مالیت کی امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کے وعدے کو پورا کرنے میں مدد دے گی، چین نے سالانہ 2.5 کروڑ میٹرک ٹن سویا بین خریدنے کے گزشتہ سال کے معاہدے کے تحت بڑے پیمانے پر امریکی سویا بین کی خریداری پہلے ہی دوبارہ شروع کر دی ہے۔

دونوں ممالک تجارتی کونسل کے تحت زراعت پر ایک ورکنگ گروپ بھی قائم کریں گے  جس کا پہلا اجلاس سال کے آخر تک متوقع ہے، شرکا ایک دوسرے کی مارکیٹوں تک رسائی اور ضابطہ کار کے اصولوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق  دونوں فریق اس سربراہی اجلاس میں اس بات پر بھی متفق ہوئے کہ چین 2027 اور 2028 میں ہر سال امریکہ سے 10 ملین میٹرک ٹن کوئلہ درآمد کرے گا،یہ چین کی سالانہ کوئلے کی درآمدات کا تقریباً 2 فیصد ہے،مائع قدرتی گیس (ایل این جی) اور تیل اس فہرست میں شامل نہیں ہیں۔

مصنوعی ذہانت، مالیاتی کمپنیاں اور پروازیں
چین اور امریکہ نے مصنوعی ذہانت (AI) سے متعلقہ واقعات کے بارے میں معلومات کا اشتراک کرنے کے لیے ایک مواصلاتی چینل قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے، دونوں ممالک نومبر کے آخر تک اس مسئلے پر مزید مذاکرات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

چین امریکی ملکیتی کمپنیوں سمیت غیر ملکی مالیاتی اداروں کی طرف سے ملک میں کاروبار کرنے اور شاخیں کھولنے کی درخواستوں پر بھی غور کرے گا ، اس کے علاوہ، دونوں فریق چین اور امریکہ کے درمیان پروازوں کی تعداد میں اضافے سے متعلق بات چیت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔