پاکستان میں دہشت گردی کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں:عطا اللہ تارڑ ، طلال چوہدری
Stay tuned with 24 News HD Android App
( 24 نیوز) وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، افغانستان سے گروپس پاکستان میں دہشت گردی کرنے آرہے ہیں،
اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں طلال چوہدری نے کہا کہ افغانستان سپر پراکسی کے طور پر کام کرتا ہے،حملوں کے آلہ کار ہماری مشرقی اور مغربی سرحدوں کے پارموجود ہیں،دہشت گردی کے واقعات جہاد نہیں، اس کے بدلے ان کو ڈالرز ملتے ہیں۔
انہو ں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کیخلاف سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی،خیبر پختونخوا کی قیادت دہشت گردی کی کھل کر مذمت نہیں کرتی،وزیراعلیٰ کےپی این ایف سی کے پیسے مانگنے اسلام آباد آجاتے ہیں، انسداد دہشتگردی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوتے۔
انہو ں نے مزید کہا کہ ڈی آئی خان کے امن میلے کی چیک پوسٹ پر دہشتگردی کے واقعے میں خواتین اور بچے بھی شہید ہوئے، جبکہ حملے میں ملوث دہشتگردوں کی شناخت نادرا اور دیگر سرکاری نظام سے چیک کرنے پر نہیں مل سکی۔
دہشتگرد کارروائیوں کے بعد اپنے مارے جانے والے ساتھیوں کی تصاویر اور فوٹیج سوشل میڈیا پر جاری کرتے ہیں، ڈی آئی خان واقعے میں ایک دہشتگرد کی تصویر فوری طور پر سسٹم میں ڈالی گئی تاہم اس کی کوئی شناخت نہیں ملی۔
یہ بھی پڑھیں:آئی ایم ایف پروگرام میں پیٹرول لیوی عائد کرنا لازمی شرط نہیں:حافظ نعیم الرحمان
انہوں نے کہا کہ اوپن سورس معلومات سے معلوم ہوا کہ مذکورہ دہشتگرد افغانستان کے دارالحکومت کابل کا رہائشی تھا۔ دہشتگرد زیادہ تر جعلی ناموں کے ساتھ کارروائیاں کرتے ہیں، جس کے باعث ان کی شناخت مشکل ہوتی ہے۔
وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ پراکسیز مشرقی سرحد سے اسپانسر ہوتی ہیں، یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، گزشتہ اڑھائی سے 3 سال کے دوران زیادہ تر دہشتگرد گروہ افغانستان سے آتے رہے ہیں۔
طلال چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران دہشتگردوں کی تصاویر اور دستیاب تفصیلات بھی میڈیا کے سامنے پیش کیں۔