چین اور امریکا کا ٹیرف میں کمی، اے آئی معاملے پر مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)چین اور امریکا نے باہمی تجارت میں 30 ارب ڈالر کے ٹیرف میں کمی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے معاملے پر باقاعدہ مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کرلیا ہے، چینی وزارت خارجہ کے مطابق یہ اتفاق رائے چینی صدر شی جن پنگ کے دورہ امریکا کے دوران ہونے والے مذاکرات میں طے پانے والے 8 نکاتی سمجھوتے کا حصہ ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ملکوں نے اپنے اقتصادی ماہرین اور مذاکراتی ٹیموں کی کوششوں کو تسلیم کرتے ہوئے کئی اقدامات کی منظوری دی ہے، جن میں تجارتی کونسل کا قیام، 30 ارب ڈالر کے باہمی ٹیرف میں کمی اور کوالالمپور میں ہونے والے سابقہ مذاکرات کے نتائج کو مزید آگے بڑھانا شامل ہے۔
اس سے پہلے امریکا اور چین نے تجارتی جنگ میں عارضی وقفے کو مزید دو ماہ تک بڑھانے پر اتفاق کیا تھا، امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق یہ جنگ بندی 10 نومبر کو ختم ہونا تھی، تاہم مدت بڑھانے سے دونوں ملکوں کو کسی بڑے تجارتی معاہدے پر مزید بات چیت کا وقت مل گیا ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تین روزہ ملاقاتوں کا سلسلہ جمعے کو ختم ہوا، مذاکرات میں تجارت کے ساتھ مصنوعی ذہانت، عالمی امور اور دونوں ملکوں کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانے پر بھی بات ہوئی، شی جن پنگ بعد ازاں بیجنگ واپس پہنچ گئے۔
مصنوعی ذہانت کے معاملے پر دونوں ملکوں نے ایک نیا مذاکراتی نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس میں اے آئی ٹیکنالوجی کے فوائد اور ممکنہ خطرات پر بات کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:روس: چیچنیا میں رمضان قادروف 99.85 فیصد ووٹ لے کر پانچویں بار سربراہ منتخب
چینی وزارت خارجہ کے مطابق اس سلسلے میں اگلا دور نومبر میں ہوگا جبکہ اے آئی سے متعلق کسی بڑے واقعے کی صورت میں دونوں ملکوں کے درمیان فوری رابطے کے لیے ایک مواصلاتی چینل بھی قائم کیا جائے گا۔
چینی صدر شی جن پنگ نے بھی امریکا میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران اے آئی کے شعبے میں تعاون کی ضرورت پر زور دیا، ان کا کہنا تھا کہ چین اور امریکا کے پاس مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مضبوط صلاحیتیں ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان مقابلے کے ساتھ تعاون کی بھی زیادہ گنجائش ہے، شی جن پنگ کے مطابق اے آئی کے خطرات اور فوائد پر بات چیت جاری رہنی چاہیے اور اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جانی چاہئیں۔
دونوں ملکوں نے ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (اے پی ای سی) کے رہنماؤں کے اجلاس اور گروپ 20 (جی 20) سربراہ اجلاس کی میزبانی کے معاملے میں ایک دوسرے کی حمایت کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات کا عندیہ دیا کہ وہ ایک دوسرے کے ملک میں ہونے والے ان اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔
مذاکرات میں عالمی اور خارجہ پالیسی کے معاملات بھی زیر بحث آئے، چینی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ملکوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کے اپنے وعدے پر عمل کرنا چاہیے،دونوں نے یہ بھی کہا کہ کسی ملک یا ادارے کو بین الاقوامی آبی گزرگاہوں پر ٹرانزٹ فیس عائد نہیں کرنی چاہیے۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران چین اور امریکا کے اتحادی ہونے کی تاریخ کو بھی یاد کیا۔