بھارت کا جنگی طرز عمل جنوبی ایشیا کے امن کیلئے سنگین خطرہ ہے:سردار مسعود

May 28, 2025 | 15:40:PM
بھارت کا جنگی طرز عمل جنوبی ایشیا کے امن کیلئے سنگین خطرہ ہے:سردار مسعود
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) آزاد جموں وکشمیر  کے سابق صدر  سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت کا جنگی طرز عمل جنوبی ایشیا کے امن کیلئے سنگین خطرہ ہے، بھارت نے ابھی تک جنگی ماحول برقرار رکھا ہوا ہے، جس کے پیش نظر پاکستان کو کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہنا چاہیے۔

ان خیالات کا اظہار سردار مسعود خان نے نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں کیا،انہوں نے پاک بھارت تعلقات، مذاکرات کے امکانات اور بھارتی بیانیے پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حالیہ کشیدگی نے دنیا کو واضح پیغام دیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں کوئی بھی روایتی جنگ، جوہری تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات محض اس خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔

 انہوں نے کہا کہ بھارتی قیادت کی جانب سے کوئی خوش فہمی رکھنا خطرناک ہوگا کیونکہ بھارتی وزِیراعظم نریندر مودی کھلے عام یہ اعلان کر چکے ہیں کہ بھارت یا مقبوضہ کشمیر میں کسی بھی دہشت گرد کارروائی کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جائے گا اور اس کے نتیجے میں پاکستان پر حملہ کیا جائے گا، بھارت کی جانب سے مسلسل پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں لیکن ان کے ثبوت کبھی فراہم نہیں کیے گئے، جبکہ پاکستان کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ بھارت نہ صرف اعلانیہ بلکہ خفیہ طور پر بھی پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے، خاص طور پر بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے ددہشت گردی ہورہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب امور کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں رہا ہے، چاہے وہ براہ راست دوطرفہ بات چیت ہو یا کسی تیسرے فریق کی ثالثی کے تحت۔ لیکن بھارت نے کبھی سنجیدگی سے مذاکرات کی پیش کش کو قبول نہیں کیا اور جب کبھی آمادگی کا اظہار کیا بھی تو اصل مسئلے سے انحراف کرتے ہوئے ثانوی امور کو بنیاد بنا کر بات چیت سے گریز کیا۔

پہلگام واقعے کے تناظر میں سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت نے بلا جواز پاکستان پر الزام تراشی کی، کشیدگی پیدا کی، اور پھر عسکری جارحیت کا ارتکاب کیا، جس پر پاکستان نے موثر اور فیصلہ کن جواب دے کر بھارتی عزائم کو ناکام بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اس جوابی کارروائی کے بعد بھارت کو سفارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں اس نے سیز فائر اور مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی تاہم اب وہ پھر سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

 بھارتی قیادت کی جانب سے ''نیو نارمل'' کے تصور پر تبصرہ کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ اگر بھارت مستقبل میں ہر واقعے کا الزام پاکستان پر لگا کر حملے کو معمول بنا دے گا تو خطے میں امن قائم نہیں رہ سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت آزاد کشمیر اوردہشت گردی کو مذاکرات کا ایجنڈا بنانے کی بات کرتا ہے تو پاکستان بھی جموں و کشمیر کے مستقبل اور بھارت کی پاکستان میں دہشت گردی میں مداخلت کو ایجنڈا کا حصہ بنائے گا۔

سردار مسعود خان نے حالیہ فوجی جھڑپوں میں بھارت کی شکست کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی عسکری برتری کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ چکا ہے اور وہ اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔

امریکی ثالثی کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ بھارت کی جارحیت کے بعد پاکستان کی موثر عسکری کارروائی نے بین الاقوامی برادری خصوصاً امریکہ کو متحرک کیا اور صدر ٹرمپ نے دونوں ممالک کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ امریکہ کی جانب سے مذاکرات اور ثالثی کی پیش کش پاکستان کے لیے ایک موقع ہے مگر بھارت اس سے خائف دکھائی دیتا ہے اور مسلسل بہانے بنا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک حالیہ رپورٹ میں بھارت پر کینیڈا، امریکہ اور پاکستان میں ایجنٹوں کے ذریعے قتل و غارت گری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جو اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی نشاندہی کرتے ہیں۔

 سردار مسعود خان نے بھارت میں مذہبی تعصب اور مسلم مخالف پالیسیوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جہاں مذہب کی بنیاد پر ریاستی سرپرستی میں تعصب اور امتیاز برتا جا رہا ہے جس کا سب سے بڑا نشانہ بھارتی مسلمان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی معاشرے میں مسلمانوں کو محض اس بنیاد پر ''پاکستانی'' کہہ کر دشمن قرار دیا جاتا ہے اور یہی رویہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ بھی اختیار کیا جا رہا ہے۔

بھارتی سفارتی کوششوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بھارت کا جارحانہ اور الزام تراشی پر مبنی سفارتی رویہ اب دنیا بھر میں تنقید کی زد میں ہے اور اس کے نتیجے میں بھارت اپنے روایتی دوستوں سے بھی دور ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی دنیا اب بھارت کی اصل پالیسیوں کو سمجھنے لگی ہے اور پاکستان کے لیے یہ ایک سفارتی موقع ہے کہ وہ اپنے موقف کو موثر انداز میں عالمی برادری کے سامنے پیش کرے۔