سیلاب اور خشک سالی کا سنگین خطرہ؟

تحریر:عدیل احمد

Aug 26, 2026 | 16:31:PM
سیلاب اور خشک سالی کا سنگین خطرہ؟
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

پاکستان جیسے زرعی ملک کی معیشت کا ایک بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے  جس کا براہِ راست انحصار پانی پہ ہے  لیکن پاکستان کو ہر سال کبھی شدید سیلابوں اور کبھی خشک سالی کا سامنا کرنا پڑتا ہے , ایسے میں ڈیمز کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے.

پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے ڈیمز کیوں ضروری ہیں؟ اور ڈیمز بننے سے پاکستان کو کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں؟ آئیے ایسے بہت سے سوالات کے جوابات جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ 
ڈیم صرف پانی روکنے کے لیے بنائی جانے والی ایک دیوار نہیں، بلکہ یہ پانی کو ذخیرہ کرنے، سیلاب کنٹرول کرنے، زراعت کو پانی فراہم کرنے اور بجلی پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ہے ، پاکستان زرعی ملک ہے لیکن ہمارے پانی کے وسائل پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے , آبادی میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلی، غیر متوقع بارشیں، گلیشیئرز کے پگھلنے کے انداز میں تبدیلی اور زیرِ زمین پانی کا ضرورت سے زیادہ استعمال مستقبل کے لیے بڑے چیلنجز ہیں , ایک طرف شدید بارشوں اور سیلاب کی صورت میں بہت سا پانی ضائع ہو جاتا ہے جبکہ دوسری طرف خشک موسم میں کسان پانی کی کمی کا سامنا کرتے ہیں  یہ صورتحال ہمیں سبق دیتی ہے کہ پانی کا ذخیرہ اور بہتر انتظام ضروری ہے اور اس کے لیے ڈیمز کے کردار سے کسی کو انکار نہیں۔


اگر زراعت کی بات کریں تو اس کے لیے ڈیمز انتہائی ضروری ہیں اور ڈیمز کا نہ ہونا ملکی زراعت کو قتل کرنے کے مترادف ہے .
فصلوں کو ان کے مخصوص اوقات میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے  اگر بوائی یا فصل کی نشوونما کے اہم مرحلے پر پانی دستیاب نہ ہو تو پیداوار متاثر ہو سکتی ہے ، ڈیم بارش اور دریاؤں کے اضافی پانی کو ذخیرہ کرنے میں مدد دیتے ہیں اور بعد میں یہی پانی ضرورت کے مطابق نہروں اور آبپاشی کے نظام کے ذریعے زرعی زمینوں تک پہنچایا جا سکتا ہے , اس طرح ڈیم کسانوں کو پانی کی نسبتاً زیادہ قابلِ اعتماد فراہمی فراہم کرنے میں مدد کرتے ہیں، مثلاً اگر بارشوں کے موسم میں پانی زیادہ ہو تو اسے ذخیرہ کیا جا سکتا ہے اور خشک مہینوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے , یعنی ڈیم کا بنیادی تصور یہ ہے کہ جب پانی زیادہ ہو تو اسے محفوظ کرو، اور جب ضرورت ہو تو اسے استعمال کرو۔
زراعت کا تعلق صرف کسان کی آمدن سے نہیں بلکہ پورے ملک کی غذائی ضروریات بھی زراعت سے ہی پوری ہوتی ہیں اور یہاں بھی پانی اہم کردار ادا کرتا ہے ، گندم، چاول، گنا، کپاس، مکئی، دالیں، سبزیاں اور دیگر فصلوں کی پیداوار کے لیے مناسب پانی ضروری ہے  اگر پانی کی دستیابی غیر یقینی ہو جائے تو فصلوں کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے ، جس کے نتیجے میں خوراک کی قیمتوں اور ملکی معیشت پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے ، اسی لیے پانی کا بہتر ذخیرہ اور انتظام فوڈ سیکیورٹی یعنی غذائی تحفظ کے لیے بھی اہم ہے۔
گزشتہ کچھ سال کے دوران آپ نے سیلاب کی تباہ کاریاں بھی دیکھی ہوں گی، ڈیمز کا ایک اور اہم فائدہ سیلاب کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دینا ہے ، شدید بارشوں کے دوران دریاؤں میں پانی کی سطح اچانک بڑھ جاتی ہے، اگر مناسب ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہو تو کچھ اضافی پانی کو ذخائر میں رکھا جا سکتا ہے ، جس سے بعض حالات میں سیلابی دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے  اور اگر ملک میں ڈیمز کی تعداد زیادہ ہو تو ملک کے کسی بھی حصے میں آنے والے سیلابی پانی کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
زراعت اور سیلابوں کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ بعض بڑے ڈیم پن بجلی پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں ، پانی کو بلندی سے نیچے کی طرف گرایا جاتا ہے جس سے ٹربائن گھومتی ہے اور بجلی پیدا ہوتی ہے جس سے ملک کو توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملتی ہے ،،، خاص طور پر ایسے ملک میں جہاں بجلی کی طلب بڑھ رہی ہو ، نئے ڈیمز اور پن بجلی کے منصوبے توانائی کے نظام کا اہم حصہ بن سکتے ہیں ،،، اس کے علاوہ پاکستان شدید موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے جس وجہ سے بارشوں کے معمولات میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے ، کہیں شدید بارشیں ہوتی ہیں تو کہیں طویل خشک سالی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، ایسے حالات میں ڈیمز حفاظتی نظام کے طور پر کام کر سکتے ہیں کیونکہ اگر بارش کم ہو جائے تو پہلے سے ذخیرہ کیا گیا پانی انسانی استعمال، زراعت اور دیگر ضروریات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
پانی صرف آج کی ضرورت نہیں، یہ آنے والی نسلوں کی زندگی اور ہمارے زرعی مستقبل کی بنیاد ہے ، ڈیمز ہمیں بارش اور دریاؤں کے اضافی پانی کو ذخیرہ کرنے، زراعت کو پانی فراہم کرنے، سیلابی خطرات کو کم کرنے، خشک موسم میں پانی کی دستیابی بہتر بنانے اور پن بجلی پیدا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر