خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لاہور میں3 دن گزارکرجاتےجاتے مریم نواز کو جلسہ کا چیلنج دے گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے لاہور میں تین دن گزارے اور جاتے جاتے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو خیبرپختونخوا آ کر جلسہ کرنے کا چیلنج دے گئے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے جس وقت لاہور میں میڈیا کے نمائندوں کے سامنے پنجاب کی وزیراعلیٰ کو یہ چیلنج دیا، اس وقت وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نجی وزٹ پر ملک سے باہر جا چکی تھیں۔ سہیل آفریدی تین دن لاہور مین رہے، اس دوران وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ان کو ایک بار بھی مخاطب نہیں کیا۔
لاہور میں اپنے نجی دورہ کے تیسرے دن سہیل آفریدی نے سینئر صحافیوں، اینکر پرسنز، ڈیجیٹل میڈیا نمائندوں، مختلف ٹی وی چینلز کے بیورو چیفس سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کو خیبر پختونخوا آنے اور صوبہ میں جلسہ کرنے کا چیلنج دیا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے الفاظ تھے، " مریم نواز کے پی میں اور میں پنجاب میں جلسہ کروں گا دیکھتے ہیں کس کی کال پر عوام زیادہ باہر نکلتی ہے۔"
اپنے نجی دورہ لاہور کے تیسرے دن وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ مریم نواز خیبر پختونخوا آئیں، جہاں انہیں بتایا جائے گا کہ وزیر اعلیٰ کے منصب کا استقبال اور احترام جمہوری اور مہذب انداز میں کس طرح کیا جاتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سہیل آفریدی نے پنجاب کی خاتون وزیراعلیٰ کو خیبرپختونخوا میں جلسہ کرنے کا "کھلا چیلنج" دیا اور کہا کہ اگر پنجاب حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ عمران خان کی کال پر عوام باہر نہیں نکلتے تو وہ مریم نواز کو تیاری کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیتے ہیں، ہفتے کی تیاری کے بعد مریم نواز خیبر پختونخوا آئیں اور وہاں جلسہ کر کے دکھائیں، جبکہ وہ خود پنجاب میں جلسہ کریں گے۔ اس کے بعد سہیل آفریدی کے بقول یہ واضح ہو جائے گا کہ کس کی کال پر عوام کی تعداد زیادہ باہر نکلتی ہے۔
سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کا یہ دعویٰ دہرایا کہ گزشتہ عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب سے 180 نشستیں جیتی تھیں۔ پنجاب کے عوام نے تحریک انصاف پر اعتماد کیا تھا اور وہ عمران خان کی کال پر نکلے تھے اور آج بھی نکلنے کے لیے تیار ہیں۔ جو لوگ غیر قانونی طریقے سے حکومت پر قابض ہیں، یہ فارم 47 کے ذریعے بننے والی حکومت، ان کا عوام سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ یہ لوگ مکمل طور پر عوام سے ڈس کنیکٹ ہو چکے ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پنجاب آ کر اور زمینی حقائق کو خود سامنے دیکھ کر انہیں شدید حیرت ہوئی ہے۔ سہیل آفریدی نے الزام لگایا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے جس قسم کی سختی، جبر اور زیادتیاں کی جا رہی ہیں، ان کی پاکستان کی تاریخ میں کہیں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ماضی کے کالے قانون کا نظام اب موجودہ پنجاب حکومت نے پنجاب میں نافذ کر دیا ہے۔ جس کے تحت اجتماعی احتساب کیا جا رہا ہے، گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، شیشے توڑے جا رہے ہیں، لوگوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور خوف و ہراس کی فضا قائم کی جا رہی ہے۔
سہیل آفریدی نے الزام لگایا کہ ان کے لاہور پہنچنے سے پہلے سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ جہاں وہ گئے وہاں کارکنوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سہیل آفریدی نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان کی نقل و حرکت کے دوران سڑکیں بند کی جاتی رہیں۔ جس سے عوام کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا انہوں نے کہا، ایک صوبے کے منتخب وزیر اعلیٰ کے ساتھ اس قسم کا رویہ انتہائی تشویشناک ہے۔ یہ جمہوری روایات کے منافی ہے اور آمرانہ مائنڈ سیٹ کی عکاسی کرتا ہے۔اس طرزِ عمل سے معاملات ایک ایسے سنگین رخ کی طرف جا رہے ہیں جو ملک کے مستقبل کے لیے ہرگز درست نہیں۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران خیبر پختونخوا میں ملٹری آپریشنز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا، اب تک تقریباً 22 بڑے فوجی آپریشن اور 22 ہزار کے قریب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، لیکن آج تک نہ تو ان کے نتیجے میں دہشت گردی کا خاتمہ ہو سکا ہے اور نہ ہی امن قائم ہوا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا، خیبر پختونخوا میں دہشت گردی میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ان آپریشنز کے دوران ہونے والا کولیٹرل ڈیمیج دہشت گردی کو مزید فروغ دیتا ہے اور شدت پسند عناصر کو پنپنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ سہیل آفریدی نے مزید کہا، دہشت گرد جس تعداد میں پہلے موجود تھے، آج بھی تقریباً اسی تعداد میں موجود ہیں، اس لیےبتایا جانا چاہیے کہ اتنے ملٹری آپریشنز، اتنے نقصانات اور اتنی قیمتی جانوں کی قربانی کے باوجود ان آپریشنز کا حاصل کیا ہے۔ اگر آج تک ان آپریشنز سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے اور اتنی جانوں کا ضیاع ہوا ہے تو پالیسی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
سہیل آفریدی نے koa, دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی بھی فیصلہ مؤثر ثابت نہیں ہوسکتا، اس عمل میں صوبائی حکومت، قبائلی مشران، علمائے کرام اور معاشرے کے دیگر تمام سٹیک ہولڈرز کو شامل کرنا ناگزیر ہے، جو لوگ براہِ راست ان حالات سے گزر رہے ہیں، انہیں آن بورڈ لینا انتہائی ضروری ہے۔ مشاورت سے بننے والی واضح پالیسی نہ صرف قابلِ عمل ہو گی بلکہ اس کے پیچھے عوامی حمایت بھی موجود ہو گی۔ بند کمروں میں کیے جانے والے فیصلوں نے نقصان پہنچایا ہے۔
سہیل آفریدی نے اپنا پرانا مؤقف دہرایا اور بتایا کہ صوبائی حکومت نے کچھ عرصہ قبل صوبائی اسمبلی میں ایک" گرینڈ جرگہ" کیا تھا، جس میں مذہبی نمائندوں، قبائلی مشران اور دیگر سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ اس جرگے کا 15 نکاتی اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ ملٹری آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہیں۔
سہیل آفریدی نے پنجاب کے صحافیوں سے یہ بھی کہا کہ فسطائیت سے بھرپور حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کی کوریج اور پبلسٹی کو روکا جا رہا ہے۔ پنجاب کے عوام پر جو ظلم و ستم ڈھایا جا رہا ہے، اس کے خلاف پنجاب کا میڈیا آواز بلند کرے۔
اپنے دورے کے اختتام پر سہیل آفریدی نے مزار اقبال پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر سہیل آفریئد ی نے الزام لگایا کہ پنجاب انتظامیہ کی جانب سے یہاں بھی غیر معمولی اور قابلِ مذمت رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ جس طرح گزشتہ روز فوڈ اسٹریٹ میں تمام لائٹس بند کر دی گئیں اور پورا بازار زبردستی بند کروایا گیا، اسی طرح آج بھی جہاں جہاں وہ گئے وہاں لائٹس بند کی گئیں، دکانیں بند کروائی گئیں اور عوام کو ہراساں کیا گیا۔ انتظامیہ کو پہلے سے آگاہ کیا گیا تھا کہ وہ مزارِ اقبال پر حاضری دیں گے، اس کے باوجود یہاں لائٹس بند کر دی گئیں۔ اس وقت عوام باہر موجود تھی، مگر انہیں بھی زبردستی ہٹا دیا گیا، مزار کے اطراف مکمل طور پر اندھیرا کر دیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا، آج انہیں حسان نیازی کے گھر جانے سے بھی روک دیا گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے ساتھ مسلسل توہین آمیز اور فسطائی رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ یہ تمام واقعات میرے دل و دماغ پر نقش ہو چکے ہیں۔پوری قوم اس حکومت کی ذہنی اور اخلاقی پستی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے، ایسے ہتھکنڈے نہ صرف جمہوری اقدار کے خلاف ہیں بلکہ عوامی شعور کو مزید بیدار کر رہے ہیں۔
تین روز لاہور میں رہ کر سہیل آفریدی آج پشاور واپس چلے گئے۔