ترقی یافتہ ترین ملک نے  بچوں کے ٹی وی دیکھنے پر پابندی لگا دی

Mar 27, 2026 | 19:02:PM
ترقی یافتہ ترین ملک نے  بچوں کے ٹی وی دیکھنے پر پابندی لگا دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) انگلینڈ کی حکومت  نے دو سال سے کم عمر بچوں کو  ٹی وی سکرین دکھانے پر پابندی لگا دی اور قدرے بڑے  بچوں کےٹی وی، کمپیوٹر، موبائل فون، ٹیب، لیپ ٹاپ  استعمال کرنے  کو کنٹرول کرنے کے لئے نئی قومی ہدایات جاری کر دیں۔ 

بچوں کے لئے سکرین ٹائم  محدود کرنے کے لیے نئی قومی ہدایات جاری کر تے ہوئے برٹش حکام نے واضح کیا ہے کہ زیادہ سکرین ٹائم  بچوں کی نیند، کھیل اور ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے۔

دو سال سے کم عمر بچوں کو ٹی وی، فون سکرین مت دکھائیں

نیوز ایجنسی روئیٹرز کے مطابق انگلینڈ نے بچوں کے سکرین ٹائم کو محدود کرنے کے لیے نئی قومی ہدایات جاری کرتے ہوئے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ دو سال سے کم عمر  بچوں کو  سکرین سے  دور رکھا جائے، جب کہ دو سے پانچ سال عمر کے بچوں کے لیے اس کا استعمال روزانہ ایک گھنٹے تک محدود رکھا جائے۔

حکام کا کہنا ہے کہ طویل وقت تک اکیلے سکرین استعمال کرنے سے بچوں کی نیند متاثر ہوتی ہے اور یہ کھیل کود اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی کا باعث بنتا ہے۔

دنیا بھر کی حکومتیں بچوں کے آن لائن استعمال سے متعلق قوانین سخت کرنے کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ فرانس، ڈنمارک اور نیدرلینڈز جیسے ممالک نے ذہنی صحت، سائبر بُلنگ اور نقصان دہ مواد تک رسائی کے خدشات کے پیش نظر نئی پابندیوں اور عمر کی تصدیق کے اقدامات پر زور دیا ہے۔

برطانیہ کی جانب سے جاری کردہ یہ ہدایات ٹیبلٹ، ٹی وی، لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فونز کے استعمال سے متعلق اب تک کا سب سے واضح حکومتی مؤقف ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ والدین کو اب تک اس معاملے میں اکیلا چھوڑ دیا گیا تھا۔

 
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں تین سے پانچ سال کے بچوں کے والدین میں سے ایک چوتھائی نے اعتراف کیا کہ انہیں بچوں کے سکرین ٹائم کو کنٹرول کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں، جب کہ تقریباً 98 فی صد دو سالہ بچے روزانہ سکرین استعمال کرتے ہیں۔

ہدایات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کھانے کے اوقات اور سونے سے ایک گھنٹہ قبل سکرین کے استعمال سے گریز کیا جائے اور بچوں کو ان کی عمر کے مطابق سادہ اور آہستہ رفتار مواد دکھایا جائے۔ والدین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر سکرین استعمال کریں تاکہ ان کی زبان اور سماجی مہارتوں کی نشوونما میں مدد ملے۔

وزیراعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ حکومت والدین کو اس چیلنج میں تنہا نہیں چھوڑے گی اور تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی کے دور میں واضح اور قابل عمل رہنمائی فراہم کرنا ضروری ہے۔

 یہ بھی پڑھیئے:  سرفراز بگٹی نے برشور میونسپل کمیٹی کا نوٹیفیکیشن کر دیا، ہسپتال کو ڈی ایچ کیو بنا دیا، جلسہ میں بڑےاعلانات
ماہرین کی ایک کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ کم عمر بچوں کو تیز رفتار سوشل میڈیا ویڈیوز اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے کچھ کھلونوں سے دور رکھا جائے، تاہم خصوصی تعلیمی ضروریات رکھنے والے بچوں کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی پر مکمل پابندی عائد نہ کی جائے۔

ادھر برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک بڑے بچوں کے لیے کبھی آن لائن تحفظ کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں، جن میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر کی حد، رات کے اوقات میں پابندیاں اور اے آئی چیٹ بوٹس کے استعمال پر پابندی شامل ہیں۔

مزید برآں، امریکہ میں ایک جیوری نے حال ہی میں میٹا اور گوگل کو ایک مقدمے میں غفلت کا مرتکب قرار دیا، جس میں الزام تھا کہ ان کے پلیٹ فارمز  میں لوگوں کو اپنا نشئی بنانے کی خصوصیت ہے۔ اپنا نشئی بنا دینے کی اس خصوصیت نے ایک کم عمر صارف کو نقصان پہنچایا ۔ امریکہ کی عدالت کا یہ اہم فیصلہ مستقبل میں ایسے مزید مقدمات کو متاثر کر سکتا ہے۔