پاک بحریہ کی ڈینائل حکمت عملی کامیاب،بھارتی طیارہ بردار جہاز بحیرہ عرب سے پسپا

Apr 27, 2025 | 18:43:PM
پاک بحریہ کی ڈینائل حکمت عملی کامیاب،بھارتی طیارہ بردار جہاز بحیرہ عرب سے پسپا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (نیوز ڈیسک)پاک بحریہ کی مؤثر اینٹی ایکسس ایریا ڈینائل (A2/AD) حکمت عملی کے باعث بھارتی بحریہ کا جدید ترین طیارہ بردار جہاز آئی این ایس وکرانت محض چند روز کی تعیناتی کے بعد بحیرہ عرب سے پسپا ہو کر بھارتی نیول بیس کاروار واپس پہنچ گیا۔

تازہ ترین سیٹلائٹ  نٹیلیجنس (IMINT) کے مطابق 26 اپریل 2025 کو لی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آئی این ایس وکرانت ایک بار پھر کاروار بندرگاہ پر لنگر انداز ہے، اس سے قبل 23 اپریل کو جاری کی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں اسے بحیرہ عرب کے کھلے پانیوں کی جانب بڑھتے دیکھا گیا تھا،بھارتی بحریہ نے اس طیارہ بردار جہاز کو پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے پیش نظر 23 اپریل کو شمالی بحیرہ عرب میں تعینات کیا تھا،بھارتی میڈیا نے اس تعیناتی کو ایک "بڑا قدم" قرار دیا تھا  اور سوشل میڈیا پر بھی اسے لے کر خوب شور مچایا گیا تاہم ماہرین کے مطابق طیارہ بردار جہاز کو محض چند روز کے لیے کھلے سمندر میں تعینات کرنا غیر معمولی ہے جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاک بحریہ کی موجودگی اور مسلسل پٹرولنگ نے بھارتی بحریہ کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک بحریہ کے "کیرئیر کلر" میزائل سسٹمز جو کہ دشمن کے طیارہ بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس خطے میں متحرک تھے، ایسے میں بھارتی بحریہ کے پاس پسپائی کے سوا کوئی محفوظ راستہ نہ رہا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق  یہ پیش رفت نہ صرف پاک بحریہ کی بحری حکمت عملی کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ یہ بھارت کے لیے ایک دفاعی دھچکہ بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صدر آزاد کشمیر اور وزیر اعظم آزاد کشمیر کی اہم ملاقات، پہلگام واقعہ کی شدید مذمت