3400 سال پرانا امن معاہدہ، نیا ٹکڑا دریافت
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) ترکیہ میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے دنیا کے قدیم ترین معلوم امن معاہدے کے تقریباً 3 ہزار 400 سال پرانے ایک نئے ٹکڑے کو دریافت کر لیا۔
مٹی کی تختی کا یہ ٹکڑا قدیم مصر کے فرعون رامسیس دوم اور حتی سلطنت کے بادشاہ ہتوسیلی سوم کے درمیان 13 ویں صدی قبل مسیح میں ہونے والے معاہدۂ قادش کا حصہ ہے، جس میں ایک ملک سے دوسرے ملک جانے والے پناہ گزینوں سے متعلق شقیں بھی شامل ہیں۔
یہ ٹکڑا حتی سلطنت کے سابق دارالحکومت ہتوشا سے ملا جو موجودہ وسطی ترکیہ میں واقع ہے، محققین نے تقریباً 1 سال تک اس ٹکڑے کا مطالعہ کرنے کے بعد اس کی معاہدے میں اصل حیثیت کی تصدیق کی ہے،دستیاب متن کے ایک حصے میں ان افراد سے متعلق قواعد درج ہیں جو مصر سے حتی سلطنت کی حدود میں فرار ہوئے یا حتی علاقے سے مصر چلے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈرائیونگ لائسنس رکھنے والوں کا کریمینل ریکارڈ چیک کرنے کافیصلہ
معاہدے کے تحت ایسے افراد کو واپس کیا جانا تھا، تاہم انہیں بعض سخت سزاؤں سے تحفظ بھی فراہم کیا گیا تھا، معاہدے میں ان کی آنکھوں، کانوں اور جسم کے دیگر حصوں کو مسخ کرنے جبکہ ان کے گھروں اور خاندانوں کو تباہ کرنے سے بھی روکا گیا تھا۔
یہ معاہدہ قدیم دنیا کی دو طاقتور سلطنتوں کے درمیان کئی برس جاری رہنے والی جنگ کے بعد طے پایا تھا،اس معاہدے کے دیگر ٹکڑے ایک صدی سے بھی زیادہ عرصہ قبل دریافت ہو چکے ہیں۔