قومی اسمبلی اجلاس،4 وزارتوں اور ڈویژنوں کے 4814 ارب روپے سے زائد کے مطالبات زر منظور 

قائمہ کمیٹیاں جیلوں میں اضافی سہولتیں لینے کیلئےنہیں بنائی گئیں،میاں بیوی کے حقوق میسر کرانا انکا کام نہیں،وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ

Jun 25, 2025 | 23:10:PM
قومی اسمبلی اجلاس،4 وزارتوں اور ڈویژنوں کے 4814 ارب روپے سے زائد کے مطالبات زر منظور 
کیپشن: فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)قومی اسمبلی کے اجلاس میں مطالبات زر کی منظوری کے دوران اپوزیشن کی جانب سے خوب شور شرابہ کیا گیا، 4 وزارتوں اور ڈویژنوں کے 4814 ارب روپے سے زائد کے مطالبات زر منظور کر لئے گئے، وزیرقانون  کہا کہ قائمہ کمیٹیاں جیلوں میں اضافی سہولتیں لینے کیلئے نہیں بنائی گئیں،میاں بیوی کے حقوق میسر کرانا انکا کام نہیں، ایسی باتیں نہ کریں جو بعد میں واپس لینی پڑیں،جب ہر ایجنڈے پر قیدی نمبر 804 ہوگا، پھر سیکرٹریٹ کچھ نہیں کرسکے گا۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ کٹوتی کی تحریکوں پر اپوزیشن تعریف بھی کردیتی، وزارت انسانی حقوق کو عالمی گریڈنگ دی گئی، انسانی حقوق کے لیے قانون سازی کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق نے رولز بنائے۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ جیلوں میں میاں بیوی کے حقوق میسر کرانا قائمہ کمیٹی کا کام نہیں، قائمہ کمیٹی جب ہر ایجنڈے پر قیدی نمبر 804 ہوگا، پھر سیکرٹریٹ کچھ نہیں کرسکے گا، کاش کمیٹی کو جناح ہاؤس حملے کے ملزمان کو معاف کرنے کا اختیار ہوتا، کاش میرے پاس میاں بیوی کو جیل میں ملانے کا اختیار ہوتا، کاش سرکاری عمارات پر حملے کرنے والوں کو میں چھوڑسکتا، کاش میں توشہ خانہ کی کرپشن معاف کرسکتا، جب مجھے ایسا کوئی اختیار نہیں تو میں کیا کرسکتا ہوں۔اعظم نذیر تارڑ کی تقریر کے دوران اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی اراکین نے احتجاج اور شور شرابہ کیا، ارکان نے کتابیں ڈیسک پر مارنا شروع کردیں جبکہ وفاقی وزیراحسن اقبال خود ایوان میں ویڈیو بناتے رہے۔اپوزیشن ارکان نے جھوٹا جھوٹا کے نعرے لگائے جبکہ انسانی حقوق ڈویژن کے لیے 1 ارب 74 کروڑ 35 لاکھ سے زائد کے 5 مطالبات زر منظور کرلیے گئے۔اپوزیشن نے 96 کٹوتی کی تحاریک کثرت رائے سے مسترد کردیں۔ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ ہمارے کئی الفاظ حذف کردیے جاتے ہیں، ویگو ڈالے کا نام لو تو آواز بند کردی جاتی ہے۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن نے خزانہ ڈویژن کے بجٹ پر کٹوتی کی 60 تحاریک پیش کردیں۔

اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، جس میں وزارتوں اور ڈویژنز کے مالیاتی بجٹ کی منظوری  اور کٹوتی کی تحاریک کا عمل شروع ہوا۔ اجلاس میں خزانہ ڈویژن کے 14 مطالبات زر منظوری کیے لیے پیش کیے گئے جبکہ اپوزیشن نے خزانہ ڈویژن کے بجٹ پر کٹوتی کی 60 تحاریک پیش کیں گئیں۔ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ کٹوتی کی تحریکوں کا مقصد یہ ہے کہ ہم پالیسی سے اتفاق نہیں کرتے، انہوں نے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی زیادہ کر دی ہے،یہ عوام کی چمڑی ادھیڑ رہے ہیں،ساڑھے 500 ارب کی اسمگلنگ ہوتی ہے، جسے روکنے کیلئے انکی کیا کوششیں ہیں؟ بالکل صفر۔   کرپٹ ادارے کو مزید اختیارات دے رہے ہیں، اس کو گرفتاری کے اختیارات دے رہے ہیں۔ انرجی سیکٹر بیٹھ چکا ہے، اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ 44 فیصد آبادی غربت کی لکیر کے نیچے ہے اور یہاں پر یہ لوگ عیاشیاں کر رہے ہیں، وزیراعظم اور صدر ہاؤس کے اخراجات بڑھ رہے ہیں، بتایا جائے یہ کہاں کا انصاف ہے؟۔

اجلاس کے دوران رکن اسمبلی عالیہ کامران نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس چوری کس نے روکنی ہے؟ ایف بی آر کے اپنے سسٹم میں اتنی کمزوریاں ہیں۔ ایف بی آر میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کی مدد سے ٹیکس چوری کی جاتی ہے۔کٹوتی کی تحاریک پر بحث کے دوران پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ افغان سرحد پر سکیورٹی صورتحال سب کے سامنے ہے، خیبرپختونخوا میں سکیورٹی صورتحال جوں کی توں ہے۔ کے پی میں پاک افغان سرحد پر دوطرفہ تجارت تقریبا ختم ہو چکی ہے، ضم شدہ فاٹا اضلاع پر جی ایس ٹی کا نفاذ سمجھ سے بالاتر ہے، پی ٹی آئی سابقہ فاٹا میں ٹیکسز نفاذ کے خلاف نہیں ہے، لیکن حکومت سہولتیں بھی دے۔ اور سکیورٹی صورتحال بہتر ہونے تک ٹیکسز مؤخر کرے۔

اجلاس میں وزارت غذائی تحفظ کے آئندہ مالی سال کے مطالبات زر پر کٹ موشنز پر بحث ہوئی، وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ اپوزیشن کی اکثریت نے غذائی تحفظ کی کٹ موشنز پر بات نہیں کی، وزیراعظم زراعت اور خوراک کے سیکٹر کے حوالے سے بہت سنجیدہ ہیں۔ ہمارے لئے سب سے بڑا مسلئہ پیداوار میں اضافے کا ہے، اس حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کھاد کی قیمت نہیں بڑھائی، چاول اور گندم سمیت دیگر فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، کپاس کی پیداوار میں گزشتہ سالوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔قومی اسمبلی میں غذائی تحفظ ڈویژن کے 34 ارب 4 کروڑ کے 3 مطالبات زر منظور کرلیے گئے جبکہ مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے مطالبات زر کی منظوری کا عمل مکمل ہوگیا۔ 4 وزارتوں اور ڈویژنوں کے 4814 ارب روپے سے زائد کے مطالبات زر منظور ہوئے، 2 روز کے دوران مجموعی طور پر136 مطالبات زر منظور کیے گئے، یہ مطالبات زر 9951 ارب 22 کروڑ روپے سے زائد کے ہیں۔اپوزیشن کی ساڑھے 700 سے زائد کٹوتی کی تحاریک مسترد کردی گئی، قومی اسمبلی کل فنانس بل کی منظوری دے گی۔

اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ و انسدادِ منشیات طلال چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن اداروں پر تنقید کے بجائے غیرضروری تقاریر کی ہیں، اینٹی نارکوٹکس فورس کی پوری دنیا میں ستائش کی جا رہی ہے، اے این ایف نے ایک سال میں12 ارب روپے کی منشیات ضبط کیں۔بد قسمتی سے پاکستان سے انسانی اسمگلنگ ہوتی ہے، 285 انسانی اسمگلرز کو گرفتار کیا جا چکا ہے، انسانی اسمگلنگ بارے وزیراعظم کی زیرو ٹالرنس پالیسی ہے۔ اسلام آباد پولیس کی کارکردگی پر تنقید کی گئی، اگر آپ اسلام آباد کی طرف ڈنڈے لے کر آئیں گے تو ٹھکائی تو ہوگی، اسلام آباد میں جرائم میں 19 فیصد کمی ہوئی ہے، پورا توشہ کھانا کھا گئے کہتے ہیں بانی پی ٹی آئی کو کیوں پکڑا۔داخلہ اور نارکوٹکس ڈویژن کے 592 ارب سے زائد کے 6 مطالبات زر پر کٹوتی کی 125 تحاریک مسترد کردی گئی جبکہ قومی اسمبلی نے داخلہ ڈویژن کے مطالبات کی منظوری دیدی۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب میں محرم الحرام کا چاند نظر آگیا ،نئے اسلامی سال کا آغاز کل