بجٹ میں کھاد اور زرعی ادویات پر ٹیکس نہیں لگایا جا رہا، وزیراعظم

زرعی شعبے میں اصلاحات سے فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ اورلاگت میں کمی آئے گی

Jun 25, 2025 | 13:28:PM
بجٹ میں کھاد اور زرعی ادویات پر ٹیکس نہیں لگایا جا رہا، وزیراعظم
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ زراعت کی ترقی کے لیے آئندہ بجٹ میں کھاد اور زرعی ادویات پر ٹیکس نہیں لگایا جا رہا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت زرعی شعبے کی ترقی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا،اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ زراعت کے شعبے میں ترقی سے سب سے زیادہ فائدہ کسانوں اور دیہی علاقوں کے رہائشیوں کو ہوگا،زرعی شعبے میں اصلاحات سے فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ اور پیداواری لاگت میں کمی آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ زراعت ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور زرعی شعبے میں پائیدار اصلاحات سے ملکی معیشت کو مزید فروغ ملے گا،صوبوں کا زرعی شعبے کی ترقی کے لیے نئے منصوبے اور فنڈز کی فراہمی خوش آئند ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ فارم میکینائزیشن کی ترویج کے لیے زرعی مشینری اور آلات پر ٹیکس بتدریج کم کیا جائے، زرعی اجناس کی سٹوریج کیپیسیٹی بڑھانے کے حوالے سے اقدامات تیز کیے جائیں۔

انہوں نے کہا امید ہے کہ زرعی سکالر شپ پر چین بھیجے جانے والے افراد وطن واپسی پر زرعی شعبے کے فروغ کے لیے بطور انٹرپرینیور قابل قدر خدمات سر انجام دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:شہدا کا خون قوم کے استحکام کی بنیاد ہے: فیلڈ مارشل عاصم منیر

اجلاس میں وزیراعظم کو زرعی شعبے میں اصلاحات بالخصوص زرعی پیداوار میں اضافے،زرعی انفرا سٹرکچر اور کسانوں کی آسان زرعی قرضوں تک رسائی کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں،بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیشنل ایگریکلچر انوویشن اینڈ گروتھ ایکشن پلان کسانوں کی آمدنی بڑھانے، پیداوار میں اضافے اور درست سمت میں اصلاحات پر مرکوز ہے، زرعی شعبے میں ویلیو ایڈیشن کر کے برآمدات سے کسانوں کی آمدنی بڑھائی جائے گی اور قیمتی زرمبادلہ کمایا جا سکے گا۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ قومی ٹیکنالوجی فنڈ کے منصوبے اگنائٹ کے تحت 129 زرعی سٹارٹ اپس شروع کیے جا چکے ہیں۔

اجلاس میں وفاقی وزیرغذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، وزیراعظم کے چیف کوآرڈینیٹر مشرف زیدی، زرعی شعبے کے لیے وزیراعظم کے چیف کوآرڈینیٹر احمد عمیر، زرعی شعبے سے وابستہ نجی شعبے کے انٹرپرینیور اور اعلیٰ سرکاری حکام شریک تھے۔