کچرا نہیں خزانہ،زرعی فضلہ بنے گا سونا!

تحریر: عدیل احمد

Aug 21, 2026 | 12:55:PM
کچرا نہیں خزانہ،زرعی فضلہ بنے گا سونا!
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

اسموگ کے زہر آلود اثرات کا مسئلہ ہو یا فصلوں کی باقیات جلانے سے پیدا ہونے والے دھویں سے پھیلنے والی بیماریوں کا مسئلہ، اب آپ کی ان سے جان چھوٹنے والی ہے ،،، جی ہاں پاکستان نے ایک ایسا انقلابی قدم اٹھایا ہے جو زرعی فضلے سے صاف توانائی کا نیا باب کھولنے کے ساتھ ساتھ روزگار اور کسانوں کے لیے آمدن کے نئے مواقع پیدا کرنے والا ہے۔
زرعی فضلہ ،،، کچرا یا قیمتی خزانہ ،،، پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ایک ایسا منصوبہ سامنے آرہا ہے جو زرعی فضلے کو محض کچرا سمجھنے کے بجائے اسے ایک قیمتی توانائی کے وسیلے میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، برطانیہ کے تعاون سے شروع کیے جانے والے SAFER PLUS پروجیکٹ کے تحت پاکستان میں ملک کا پہلا مکمل پیمانے پر زرعی فضلے سے ایندھن تیار کرنے والا نمائشی پلانٹ قائم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے , اس منصوبے کی قیادت ’نارتھمبریا یونیورسٹی‘ کر رہی ہے جبکہ اس کے لیے 12 لاکھ 50 ہزار پاؤنڈز کی مالی معاونت بھی حاصل ہوئی ہے۔


پاکستان میں ہر سال کپاس، گنے اور دیگر فصلوں سے بڑی مقدار میں زرعی باقیات پیدا ہوتی ہیں ،،، ان میں کپاس کے ڈنٹھل، گنے کا فضلہ اور دیگر نامیاتی مواد شامل ہیں ، یہ فضلہ اکثر یا تو کھیتوں میں ہی جلا دیا جاتا ہے یا پھر اسے مناسب استعمال کے بغیر ضائع کر دیا جاتا ہے  اور یہی وہ مقام ہے جہاںSAFER PLUSمنصوبہ ایک مختلف راستہ تجویز کرتا ہے ، اس منصوبے کے تحت زرعی باقیات کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بائیو کوئلے کے چھروں، یعنی ٹوریفائیڈ پیلٹس میں تبدیل کیا جائے گا ،،، اس عمل کو Torrefaction کہا جاتا ہے ، سادہ الفاظ میں سمجھیں تو اس عمل میں زرعی فضلے کو مخصوص درجہ حرارت پر آکسیجن کی بہت کم مقدار میں حرارت دی جاتی ہے ،،،جس کے نتیجے میں ایسا ٹھوس ایندھن تیار کیا جا سکتا ہے جس کی خصوصیات روایتی کوئلے سے مشابہ ہوں اور جسے صنعتی توانائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
اس منصوبے کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ تیار ہونے والا ایندھن ٹیکسٹائل ملز، صنعتی بوائلرز اور دیگر صنعتی شعبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
جس زرعی فضلے کو آج کسان کے لیے ایک مسئلہ سمجھا جاتا ہے وہی مستقبل میں فیکٹری کے لیے ایندھن بن سکتا ہے ،،، منصوبے کی معلومات کے مطابق اس بائیو فیول کی لاگت درآمد شدہ کوئلے کے مقابلے میں تقریبا 40 سے 50 فیصد تک کم ہو سکتی ہے ،،، اس کا ایک اور اہم فائدہ یہ ہے کہ موجودہ صنعتی بوائلرز میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئے گی یعنی صنعتوں کے لیے یہ منتقلی نسبتاً آسان اور کم لاگت ہو سکتی ہے ،،، لیکن اس منصوبے کی اہمیت صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں ،،، پاکستان ہر سال فصلوں کی باقیات جلانے کے مسئلے کا سامنا کرتا ہے اور اس کا براہِ راست تعلق فضائی آلودگی اور بعض علاقوں میں موسمِ سرما کی سموگ سے بھی جوڑا جاتا ہے ،،، اگر کسانوں کے پاس فصلوں کے فضلے کو جلانے کی بجائے اسے فروخت کرنے کا ایک قابلِ عمل راستہ موجود ہو تو صورتحال یکسر تبدیل ہو سکتی ہے ،،، یعنی جو ڈنٹھل آج کھیت میں دھواں پیدا کر رہے ہیں کل وہی ڈنٹھل کسی فیکٹری کے بوائلر کو توانائی فراہم کر سکتے ہیں۔
 یہاں ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے اور وہ ہے معیشت ،،، اگر زرعی باقیات کے لیے ایک باقاعدہ تجارتی منڈی قائم ہوتی ہے تو کسانوں اور دیہی علاقوں کے لوگوں کے لیے آمدنی کا ایک نیا ذریعہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یعنی اس منصوبے کا ماڈل صرف فضلے سے ایندھن تک محدود نہیں، بلکہ یہ فضلے سے ایندھن، ایندھن سے صنعت اور صنعت سے روزگار کی ایک پوری چین تشکیل دے سکتا ہے ،،، اس منصوبے میں صنعتی صارفین کی جانب سے ایندھن خریدنے کے لیے پہلے ہی عزم ظاہر کیا جا چکا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے لیے مارکیٹ موجود ہو سکتی ہے ،،، اگر یہ منصوبہ کامیابی سے عملی شکل اختیار کرتا ہے تو پاکستان کے لیے اس کے کئی ممکنہ فوائد سامنے آ سکتے ہیں جن میں درآمدی کوئلے پر انحصار میں کمی، صنعتوں کے لیے نسبتاً کم لاگت کا ایندھن، زرعی فضلے کا بہتر استعمال، کسانوں کے لیے اضافی آمدنی اور فصلوں کی باقیات جلانے میں کمی کے ذریعے فضائی آلودگی سے نمٹنے میں مدد۔
اگر یہ ماڈل کامیاب ہوتا ہے تو پاکستان صرف ایک نئی قسم کا ایندھن پیدا نہیں کرے گا بلکہ زرعی معیشت، صنعتی توانائی اور ماحولیاتی تحفظ کو ایک ہی زنجیر میں جوڑنے کی طرف قدم بڑھا سکتا ہے۔

نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر