برطانیہ، فرانس ,جرمنی کا ایران کو نئے جوہری معاہدے کیلئے پانچ ہفتوں کا الٹی میٹم

Jul 25, 2025 | 22:26:PM
برطانیہ، فرانس ,جرمنی کا ایران کو نئے جوہری معاہدے کیلئے پانچ ہفتوں کا الٹی میٹم
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)ایران اور تین یورپی ممالک برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے درمیان جوہری مذاکرات استنبول میں ہوئے ہیں۔

ایران اور تین یورپی ممالک کے درمیان مذاکرات جو کہ استنبول میں ایران کے قونصل خانے میں نائب وزرائے خارجہ کی سطح پر ہوئے، 12 روزہ تعطل کے بعد پہلی بات چیت ہے۔

ایران کے ساتھ نئے جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے یورپ کی دی گئی ڈیڈ لائن کے بعد بھی پہلی بات چیت ہے، ایران کی طرف سے بین الاقوامی امور کے نائب وزیر کاظم غریب آبادی اور ایرانی وزارت خارجہ میں سیاسی امور کے نائب وزیر مجید تخت روانچی ان مذاکرات میں شریک تھے۔
برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی تین حکومتوں نے ایران کو اگست کے آخر تک یعنی اب سے تقریباً پانچ ہفتے کا وقت دیا ہے کہ وہ نیا جوہری معاہدہ کر لے ورنہ یہ ممالک سلامتی کونسل کی پابندیوں کو بحال کرنے کی کوششیں شروع کر دیں گے۔

ایک روز قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کو جاری رکھنے پر زور دیا تھا، ایران اور تین یورپی ممالک کے درمیان استنبول مذاکرات کے ساتھ ہی سنگاپور کا دورہ کرنے والے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا کہ ایران کو اپنی جوہری تنصیبات اور جوہری سرگرمیوں کے بارے میں شفاف ہونا چاہیے۔

انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ معائنہ کار اس سال کے اختتام سے پہلے ایران واپس جا سکیں گے، انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ تہران کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرنا بہت ضروری ہے کہ ایجنسی کے ملک کے دوروں کو دوبارہ کیسے شروع کیا جائے۔

رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اس بات پر متفق ہونے کی ضرورت ہے کہ کہاں جانا ہے اور اسے کیسے کرنا ہے۔ ہمیں ان احتیاطی تدابیر کے بارے میں ایران کے خیالات کو بھی سننے کی ضرورت ہے جو وہ اپنانا چاہتے ہیں۔

دو دن پہلے ایران نے اعلان کیا کہ اس نے ایجنسی کی ایک تکنیکی ٹیم کےاپنے ملک کے دورے پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن وہ معائنے کے حوالے سے کوئی کارروائی نہیں کریں گے، اطلاعات کے مطابق اس گروپ کی سربراہی نائب رافیل گروسی کریں گے۔

آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل تقریباً ایک ماہ میں بورڈ آف گورنرز کے سہ ماہی اجلاس میں پیش کرنے کے لیے ایران کے جوہری پروگرام کی صورتحال پر ایک نئی رپورٹ تیار کرنے والے ہیں اور ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد یہ پہلی رپورٹ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:برصغیر میں بائیں جانب ڈرائیونگ کا قانون نیپولین کے حکم سے جڑا ہے:ڈاکٹر کاشف فراز