برصغیر میں بائیں جانب ڈرائیونگ کا قانون نیپولین کے حکم سے جڑا ہے:ڈاکٹر کاشف فراز

Jul 25, 2025 | 16:46:PM
برصغیر میں بائیں جانب ڈرائیونگ کا قانون نیپولین کے حکم سے جڑا ہے:ڈاکٹر کاشف فراز
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (ویب ڈیسک)برصغیر میں بائیں جانب ڈرائیونگ کا قانون نیپولین کے حکم سے جڑا ہوا ہے، جی ہاں اس بات کا انکشاف ڈاکٹر کاشف فراز نے مارننگ وِد فضا میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انھوں نے بتایا کہ یہ فوجی ترتیب بعد میں برطانوی راج کے ذریعے یہاں لاگو کی گئی۔ بائیں اور دائیں ہاتھ کا فرق محض عادت نہیں، بلکہ تخلیقی صلاحیت اور دماغی ساخت سے جڑا ہوا ہے۔ دنیا میں ایک شخص انگریزی کو دائیں طرف سے الٹا لکھتا تھا، جبکہ کچھ جگہیں ایسی بھی ہیں جہاں صرف Left Handed افراد کو داخلے کی اجازت ہے۔

قرآنِ مجید میں بھی "دائیں" اور "بائیں" الفاظ صرف جسمانی سمت کے طور پر نہیں، بلکہ روحانی معانی میں استعمال ہوئے ہیں ۔ دایاں ہاتھ عزت اور نجات کی علامت، جبکہ بایاں اکثر انجامِ بد کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

حضرت عائشہؓ کے مطابق دائیں ہاتھ سے کھانا سنت ہے، مگر بائیں ہاتھ والوں پر سختی نہیں کی گئی۔ قرآن میں دائیں اور بائیں دونوں الفاظ علامتی معانی رکھتے ہیں۔

تحقیق سے یہ بھی پتا چلا کہ رحمِ مادر میں بچے کی حرکت سے اس کی Handedness یعنی وہ دائیں ہاتھ سے کام کرے گا یا بائیں، الٹرا ساؤنڈ سے معلوم کی جا سکتی ہے۔ دنیا کی صرف 10 فیصد آبادی Left Handed ہے، مگر ان میں لیونارڈو ڈاونچی، ٹیسلا اور اوباما جیسے نام شامل ہیں جنہوں نے دنیا کو بدل دیا۔

کرکٹ کے لیجنڈ سچن ٹنڈولکر "مکس ہینڈڈ" تھے، جو دماغی توازن کی نایاب مثال ہے۔ دنیا میں صرف 1 فیصد لوگ دونوں ہاتھوں سے مہارت سے کام کر سکتے ہیں اور ان کے لیے کچھ کلبز بھی مخصوص ہیں، جہاں Right Handed افراد کا داخلہ منع ہے! دائیں ہاتھ والوں کی زندگی نسبتاً آسان ہے، جبکہ بائیں ہاتھ والوں کو اکثر دشواریاں جھیلنا پڑتی ہیں۔

کئی مشہور شخصیات جیسے سچن ٹنڈولکر اور اوباما بائیں ہاتھ سے کام کرتے تھے، اور یہ ان کی انفرادیت کا راز تھا۔ ڈاکٹر  کاشف فراز کے مطابق Left Handed Club کا ممبر بننے کے لیے بس شرط یہ ہے کہ آپ بائیں ہاتھ والے ہوں  اور فخر کے ساتھ ہوں.

یہ بھی پڑھیں :فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ چین، سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں