بلوچستان اسمبلی ،سرکاری اور نجی سکولز  میں یکساں نصاب رائج کرنے کی قرارداد پیش

Jul 25, 2025 | 18:47:PM
بلوچستان اسمبلی ،سرکاری اور نجی سکولز  میں یکساں نصاب رائج کرنے کی قرارداد پیش
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(عیسیٰ ترین)بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں رکن اسمبلی سید ظفر علی آغا نے سرکاری اور نجی سکولز  میں یکساں نصاب رائج کرنے کی قرارداد پیش کی۔جس میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان بھر میں تمام پرائیویٹ سکولوں کا نصاب بلو چستان ٹیکسٹ بورڈ سے کافی مختلف ہے۔وزیرتعلیم راحیلہ درانی نے بتایا کہ نصاب کو تبدیل کرکے وفاقی نصاب کو رائج کرنے جارہے ہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان  سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہم زرعی یونیورسٹی بنانے کے پوزیشن میں نہیں ہے ، زرعی کالج اچھے انداز میں چل رہاہے ۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی صدارت میں  25 منٹس کی تاخیر سے شروع ہوا، اجلاس کے ایجنڈے میں3قراردادیں ،2توجہ دلاؤنوٹسزاور وقفہ سوالات شامل ہیں۔اجلاس شروع ہونے پر رکن اسمبلی نے سید ظفر علی آغا کا سرکاری اور نجی سکولز  میں یکساں نصاب رائج کرنے کی قرارداد پیش کی ،  قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان بھر میں تمام پرائیویٹ سکولوں کا نصاب بلو چستان ٹیکسٹ بورڈ سے کافی مختلف ہے۔ صوبہ کے بچوں کے تعلیمی معیار پر منفی اثرات مرتب ہور ہے ہیں۔پرائیویٹ سکولز اپنی تمام تر سرگرمیاں تعلیم کی بجائے غیر نصابی تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہے۔ طلباء اور طالبات حقیقی تعلیم سےمحروم رہ جاتے ہیں اور ساتھ ہی ان پرائیویٹ اداروں تعلیم کو کاروبار کا ایک ذریعہ معاش بنا رکھا ہے۔ بھاری فیس وصول کرنے کے ساتھ ساتھ ماہ دسمبر تا فروری تین ماہ تک سکولوں میں چھٹیاں ہونے کے باوجود طلباء اور طالبات سے زبردستی فیس وصول کرتے ہیں۔ صوبہ کے غریب طلباء اور طالبات کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے۔ تمام پرائیویٹ سکولوں کو بلوچستان ٹیکسٹ بورڈ کے نصاب سے ہم آہنگ کرنے اور تمام غیر نصابی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرے ۔اور سرد علاقوں میں ماہ دسمبر تا فروری اور گرم علاقوں میں ماہ مئی تا جولائی کی چھٹیوں کے دوران اضافی فیس کو فی الفور ختم کی جائیں ۔ قرار داد کا جواب دیتے ہوئےوزیرتعلیم راحیلہ درانی کا کہنا تھا کہ نصاب کو تبدیل کرکے وفاقی نصاب کو رائج کرنے جارہے ہیں ۔ سرکاری سکولز میں تعلیم میٹرک تک مفت ہے ، نجی سکولز کا فیسز کااپنانظام ہے ،ایوان نے سرکاری اور نجی سکولوں میں یکساں نصاب رائج کرنے کی قرارداد منظور کرتے ہوئے نمٹادی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان  سرفراز بگٹی نے ایوان سے خطاب میں کہا کہا ہم زرعی یونیورسٹی بنانے کے پوزیشن میں نہیں ہے ، زرعی کالج اچھے انداز میں چل رہاہے ، بلوچستان کے نوجوانوں کو صحیح انداز میں اسعتمال کرلیاتو بہتر ورک سیورس بنے گی ، یوٹیک والے صوبے میں آنے سے اچھے نتایج ملیں گے ،ونیورسٹی میں منجمنٹ  قابل تعریف نہیں ہے ،کس کو اچھا لگتاہے کہ ہمارا معلم سڑکوں  پر ہو، 3200 سکول ہماری پالیسیوں کی وجہ سے کھلے ہیں ، اگلے سال ایک بھی سکول بند نہیں ہوگا،جہاں وسائل استعمال کررہے ہیں وہاں احتساب بھی ہوناچاہیے ،یونیوسٹیوں کو ٹھیک کریں کریں گے ،۔
صوبائی وزیرصحت بخت محمد کاکڑ نے ایوان کو بتایا کہ ماضی میں جو کام محکمہ صحت پر ہوناچاہیے  تھاوہ نہیں ہوا ،سرکاری ہسپتالوں کو بہتربنانے کےلئےڈاکٹرز کی  پروموشنزکررہے ہیں ،ڈاکٹر اپنے ہوم ڈسٹرکٹ میں جاکر لوگوں کی خدمت کریں ،
 لیڈیزڈاکٹر کو بھی اپنے علاقوں میں جاناہوگا۔ ہرڈویژن کی سطح پر ہسپتالوں میں سہولیات فراہم کررہے ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں:اداکارہ عمارہ چوہدری نے کراچی میں اکیلے رہنے کا خوفناک تجربہ شیئر کردیا