امریکہ میں فیول کی قیمتیں؛ ٹرمپ کی مقبولیت تاریخ کی کم ترین سطح پر گر گئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) ایران جنگ کے دوران امریکہ میں فیول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ٹرمپ کا اپروول ریٹ تاریخ کی کم ترین سطح پر گر گیا۔ حالیہ سروے میں امریکہ کے ووٹرز مین سے 36 فیصد نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپروو کیا۔
نیوز ایجنسی روئیٹرز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ امریکہ میں ڈولنڈ ٹرمپ کے اپروول کا یہ تاریخ میں سب سے کم ریت ہے۔
عمومی تاثر یہ ہے کہ امریکہ کے شہری ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے سبب پریشان ہیں۔ اس دوران کئے گئے سروے میں ٹرمپ کے کاموں کی اپروول کی شرح مزید کم ہو کر 36 فیصد تک گر گئی۔
نئے سروے میں پتہ چلا کہ اب ہر چار مین سے صرف ایک امریکی صدر ٹرمپ کے روزمرہ اختراجات کی لاگت کم کرنے کے اقدامات کو اپروو کر رہا ہے۔
ایران پر امریکی حملوں کی اپروول ک یشرح مزید دو فیصد کم ہو کر 35 فیصد ہو گئی۔ پہلے 37 فیصد س امریکی ایران پر حملوں کو اپروو کر رہے تھے۔
انترنیشنل نیوز ایجنسی روئیٹرز نے بتایا کہ روئیٹرز اور اپسوس کی طرف سے کروائے گئےایک پول میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اپروول کی درجہ بندی حالیہ دنوں میں وائٹ ہاؤس میں ان کے دوسری مرتبہ صدر بننے کے بعد سب سے کم ترین مقام پر آگئی ہے۔ جو کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کی وسیع پیمانے پر ناپسندیدگی کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔
چار روزہ پول، جو پیر کو بند ہوا،اس سے ظاہر ہوا کہ 36 فیصد امریکیوں نے ٹرمپ کی ملازمت کی کارکردگی کو منظور کیا، جو گزشتہ ہفتے کیے گئے رائٹرز/اِپسوس پول میں 40 فیصد سے کم ہے۔
رہن سہن کے اخراجات کے حوالے سے ٹرمپ کے بارے میں امریکیوں کے نا۱قدانہ خیالات میں نمایاں اضافہ ہوا، کیونکہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مربوط حملوں کے آغاز کے بعد سے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ صرف 25فیصد جواب دہندگان نے ٹرمپ کے زندگی گزارنے کے مسئلے کی منظوری دی۔
ری پبلکین ووٹرز اب بھی ٹرمپ کے ساتھ
ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی میں اب بھی ٹرمپ کا موقف زیادہ تر مضبوط ہے۔ پانچ میں سے صرف ایک ریپبلکن نے وائٹ ہاؤس میں اس کی مجموعی کارکردگی کو ناپسند کیا، پچھلے ہفتے سات میںیہ تھوڑا سا تبدیل ہوا۔ لیکن ریپبلکنز کا ایک حصہ جنہوں نے ٹرمپ کی لاسٹ آف لِوِنگ کو کنترول کرنے کی کوششوں سے عدم اتفاق کیا وہ پچھلے ہفتے 27٪ سے بڑھ کر اب 34٪ ہو گیا۔
ٹرمپ کی پالیسوں سے اتفاق کرنے کی درجہ بندی ان کی صدارت کے ابتدائی دنوں میں 47 فیصد تھی اور گزشتہ موسم گرما سے لے کر اب تک یہ 40فیصد کے قریب ہے۔
جنگ سے متعلق خدشات کا وزن
ایران میں جنگ ایک ایسے صدر کے لیے صورتحال کو بدل سکتی ہے جس نے ’’احمقانہ جنگوں‘‘ سے بچنے کا وعدہ کرتے ہوئے عہدہ سنبھالا۔ سروے میں پتا چلا کہ 35فیصد امریکیوں نے ایران پر امریکی حملوں کی منظوری دی، جو کہ گزشتہ ہفتے کیے گئے رائٹرز/اِپسوس کے سروے میں سامنے آنے والی حمایت 37 فیصد سے کم ہے۔ گزشتہ ہفتے 59 فیصد کے مقابلے میں تقریباً 61 فیصد نے ایران پر ائیر سٹرائیکس کو ناپسند کیا۔
گزشتہ رائٹرز/Ipsos سروے پہلے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے فوراً بعد کیے گئے تھے، جب بہت سے امریکی ابھی صورتحال کے بارے میں جان رہے تھے، اور جواب دہندگان کو یہ کہنے کا اختیار دیا گیا تھا کہ "وہ اپنے خیالات کے بارے میں غیر یقینی ہیں"۔
28 فروری تا مارچ 1 رائٹرز/ اِپسوس پول میں سامنے آیا کہ 27فیصد نے ایران پر ائیر سٹرائیکس کی منظوری دی، 43فیصد نے ان حملوں کو نامنظور کیا اور 29فیصد غیر یقینی تھے۔
تازہ ترین سروے میں غیر یقینی ہونے کا آپشن نہیں دیا گیا ، حالانکہ تازہ ترین سروے کے 5فیصد جواب دہندگان نے جنگ کے بارے میں اپنے نقطہ نظر کے سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔
یہ بھی پڑھیئے: جنگ بندی کی امید کے باوجودجنگ ؛ کروڈ کی قیمتیں کم ہونے کے بعد دوبارہ بڑھنےکارجحان
اس بات کی کوئی علامت نہیں تھی کہ ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس پر کنٹرول رکھنے کے خواہاں ان کے ریپبلکن اتحادیوں کو بھی غیر مقبول بنا رہی ہے۔ Reuters/Ipsos پول میں رجسٹرڈ ووٹرز میں سے تقریباً 38فیصد نے کہا کہ ریپبلکن امریکی معیشت کے بہتر محافظ ہیں، اس کے مقابلے میں 34فیصد نے اس معاملے پر ڈیموکریٹس کا انتخاب کیا۔
یہ سروے، جو آن لائن اور ملک بھر میں کیا گیا تھا، اس نے 1,272 امریکی بالغوں کے جوابات اکٹھے کیے اور اس میں 3 فیصد پوائنٹس کی غلطی کا مارجن تھا۔